یہ غیر جانب داری نہیں،ظلم کی طرف داری ہے

یہ غیر جانب داری نہیں،ظلم کی طرف داری ہے
یہ غیر جانب داری نہیں،ظلم کی طرف داری ہے

  

مسٹر اوباما!میں آپ کا ووٹر ہوں۔ مجھے روزانہ کسی نہ کسی ڈیموکریٹ کی حمایت کرنے اور ڈونیشن دینے کے لئے آپ کے نام سے،خاتون اول مِشل اوباما کے نام سے ،نائب صدر جو بائیڈن کے نام سے ڈیموکریٹک امیدوار صدارت ہیلری کلنٹن اور صدر بل کلنٹن کی ای میلزموصول ہوتی ہیں میں نے آپ کے دوسرے انتخاب کے لئے اپنے امریکی دوستوں کے ساتھ مل کر آپ کے حق میں ’’فون بینکنگ‘‘ بھی کی تھی اور سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے امریکہ کو اپنا دوسرا وطن اس لئے بنایا تھا کہ امریکہ ایک انصاف پرور ملک ہے، یہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے ہر جگہ اور ہر زماں کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار رہتا ہے۔مَیں سمجھتا تھا کہ فلسطین کے معاملے پر امریکہ کی غیر متوازن پالیسی آپ کو وراثت میں ملی ہے، لیکن اس کو روایتی ڈگر سے ہٹانے کے لئے آپ نے کچھ جرأت کا مظاہرہ بھی کیا۔ اگرچہ میں نے صدر جمی کارٹر کی کتاب۔۔۔ Peace Not" Apartheid"۔۔۔ پڑھ رکھی ہے اور میں جانتا ہوں کہ فلسطین کے معاملے میں حق گوئی امریکی سیاست دانوں کے لئے بے حد مشکل ہے۔

مسٹر پریذیڈنٹ! مجھے کشمیر کے تاریخی المیہ پر آپ کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ گزشتہ ستر دن سے جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے، آپ یقیناًاس سے بھی بے خبر نہیں ہوں گے۔ وہاں بھارتی فوج کو جو غیر جمہوری اختیارات حاصل ہیں، ان کے بارے میں بھی آپ ضرور باخبر ہوں گے۔ اب تک وہاں بھارتی فوجوں کے ہاتھوں جو 108کشمیری مارے جاچکے ہیں، ان کے جذبات سے بھلے آپ لاتعلق ہوں، ان کی تعداد سے تو آپ لاعلم نہیں ہوسکتے۔ جوتین،ساڑھے تین ہزار زخمی ہیں،ان کے زخموں کی گہرائی اور ٹیس آپ بے شک محسوس نہ کریں،لیکن ان کی تعداد سے بھی آپ لاعلم تو نہیں ہوں گے۔ انسانی حقوق میں بالخصوص خواتین کے حقوق کے سلسلے میں امریکہ بھی اور آپ بھی ذاتی طور پرکچھ زیادہ حساس ہیں۔ مشل اوباما بھی سیاہ نام عورتوں کے حقوق کے لئے سرگرم رہتی ہیں، لیکن آپ کی بے حسی قابل تعجب ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کا شکار ہونے والی دس لاکھ خواتین پر آپ خاموش ہیں۔ ان اعدادوشمار کی گواہی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف کام کرنے والی متعدد تنظیموں اور اداروں نے دی ہے، لیکن اگر اس کے باوجود آپ کو کوئی شک ہے تو اپنے نئے دوست بھارت، بھارتی گجرات کے مسلمانوں اور بھارتی عیسائیوں کے حوالے سے رنگین ہاتھوں والے دوست نریندر مودی کو صرف اتنی سی بات پر آمادہ کرلیں کہ وہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگمشن کو مقبوضہ کشمیرکے دورے کی اجازت دے دے۔۔۔چلئے اقوام متحدہ نہ سہی، امریکہ کے کسی بھی انسانی حقوق کے ادارے کو کشمیریوں تک رسائی دے دے۔ مجھے خدشہ ہے کہ آپ ایسا ہرگز نہیں کر پائیں گے۔ اس میں آپ کی کوتاہ دستی ہی آپ کے دوست کی ڈھٹائی کی واحد وجہ ہے۔

مسٹر اوباما! وکی لیکس کی دستاویزات میں انکشاف ہوا تھا کہ انٹرنیشنل کمیشن آف ریڈ کراس نے 2005ء میں دہلی میں امریکی حکام کو ایک بریفنگ میں بتایا تھا کہ 2002ء سے 2004ء تک بھارتی فوج نے سینکڑوں قیدیوں پر تشدد کر کے ان سے بھارت کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ گویا قیدیوں پر تشدد کے معاملے میں امریکہ اور بھارت ہم پلہ ہیں، لیکن مسٹر پریذیڈنٹ! آپ تو جارج ڈبلیو بش کے عہد میں گوانتاناموبے کے قیدیوں پر تشدد کے خلاف تھے ۔ آپ کی جماعت بھی اس کی حمایت نہیں کرتی، پھر کیا بات ہے کہ وہی کام بھارت کرے اور ایک با اعتماد عالمی ادارہ اس کی نشان دہی کرے تو بھی آپ مصلحت کوشی سے کام لیتے ہوئے خاموش رہتے ہیں۔ 30جولائی کو مسٹر جان کربی نے معمول کی ایک نیوز بریفنگ میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا، لیکن کیا اس تشویش کا بھارت پر کوئی اثر ہوا ؟جان کربی نے بھارت پر زور دیا کہ باہمی مذاکرات سے مسئلہ کشمیر کا حل نکالے، لیکن کیا بھارت نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی؟اول تو بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہی نہیں ہوتا۔ کسی بھی بات کو بہانہ بنا کر مذاکرات کے طے شدہ پروگرام کو ختم کردیتا ہے اور مذاکرات کے لئے پیشگی شرائط عائد کردیتا ہے ، ان مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو ممنوعہ موضوع قرار دے دیتا ہے تو پھر اس مسئلے کا پُر امن حل کیسے نکالا جائے اور اس وقت کشمیر میں جو خون بہہ رہا ہے، اسے کیسے بند کیا جائے؟

مسٹر اوباما! اب جبکہ وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے امریکہ گئے ہیں اورمودی کو یقین ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اپنی تقریر میں شامل کریں گے تو آپ کے یہ دوست اقوام متحدہ میں آنے کو بھی تیار نہیں۔چلئے بھارت سے تو کسی خیر کی توقع رکھنا بھی عبث ہے، مجھے اس سے کیا لینا دینا۔ مجھے تو امریکہ کی غیر جانب داری کے اعلان پر تعجب ہے۔واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ امریکہ جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر اُٹھانے پر غیر جانب دار رہے گا۔ مسٹرکربی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس مسئلے پر امریکی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستان اور بھارت کو یہ مسئلہ باہمی طور پر حل کرنا چاہیے۔مسٹر پریذیڈنٹ! یہ غیر جانب داری صرف غیر جانب داری نہیں، سراسر ظلم کی طرف داری ہے۔ امریکہ کے موقف پر قائم رہنے سے مظلوم کشمیریوں کا کیا بھلا ہوگا اور امریکہ کا اس بات پر زور دینے سے کیا فائدہ کہ پاکستان اور بھارت اس معاملے کو باہمی طور پر حل کریں۔ یقیناًیہی اس مسئلے کا حل ہے۔ لیکن آپ بھارت کو مذاکرات کی میز تک لانے میں تو اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔ اگرچہ آپ غیر جانب دار رہتے ہوئے محض باہمی طور پر مسئلے کو حل کرنے کے لئے کہتے رہتے ہیں، جسے آپ کا دوست کوئی اہمیت نہیں دیتا تو پھر آپ مظلوموں کے ساتھ نہیں ظالم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انسانی حقوق کی علم برداری کے آپ کے سارے دعدے محض دھوکا ہیں، یہ سارے دعوے مصلحتوں کے تابع ہیں۔ مصلحتوں کے تحت کئے جانے والے دعوے بد ترین مصلحت اندیشی کی ظالمانہ شکل ہوتے ہیں۔

مسٹر پریذیڈنٹ! امریکہ میں دو ماہ بعد صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات میں اگر ری پبلکن جیت گئے تو آپ کی تمام کارکردگی پر کالک پوت دی جائے گی، جس کا مجھے بے حد افسوس ہوگا۔ میں نہیں چاہتا کہ عورتوں مردوں کی تنخواہ میں برابری، کم از کم اجرت میں اضافہ، آپ کا صحت پروگرام، ہمجنسوں کے حقوق،خواتین کے حقوق کے لئے آپ نے جو کچھ کیا ہے، وہ ملیامیٹ ہو جائے اور آئندہ قریباً دو صدارتی میعادوں تک ڈیموکریٹس پر وائٹ ہاؤس کے دروازے ہی بند نہ ہو جائیں اور کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کا خواب بھی پریشان ہو جائے۔ جب ہیلری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی کی مہم شروع کی تھی تو اس وقت ان کی مقبولیت ری پبلکن امیدوار سے بہت آگے تھی۔ اب ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے منیجر کی ای میل کے مطابق صورت حال یہ ہے کہ 15ستمبر کے اندازوں کے مطابق ’’سی بی ایس نیوز‘‘ اور ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مطابق گراف 42,42 ہے، یعنی مقابلہ برابر کا ہے۔ راسمو سین رپورٹ کے مطابق ہیلری کلنٹن دو پوائنٹ پیچھے ہے، اس ادارے کی ایک دوسری رپورٹ میں بھی یہی صورت حال ہے۔ ایل اے ٹائمز اور یو ایس سی کے رائے عامہ کے اندازے کے مطابق ہیلری کلنٹن چھ پوائنٹ پیچھے ہے۔ اوہائیو میں سفوک کے اندازے کے مطابق ہیلری کلنٹن تین پوائنٹ پیچھے ہے۔ نارتھ کیرولینا میں برابر برابر ہے، یعنی اس وقت صرف دو ایسے سروسیز ہیں، جن کے مطابق ایک میں ہیلری کلنٹن کو دو پوائنٹ اور ایک میں تین پوائنٹ کی برتری حاصل ہے۔

میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ 8نومبر تک صورت حال کیا رہتی ہے ، لیکن جس طرح ٹرمپ نے کم مقبولیت کو زیادہ مقبولیت میں تبدیل کرلیا ہے، اس سے ایک ہی رجحان کی نشان دہی ہوتی ہے کہ ہیلری کلنٹن پیچھے لڑھکرہی ہیں۔ اگر خدانخواستہ موجودہ صورت حال بھی برقرار رہی تو ڈیموکریٹس کو سوفیصد بھارتی ووٹ مل جانے کے باوجود پاکستانی کمیونٹی آپ کی غیر جانب داری، بلکہ ظالم کی طرف داری کی بدولت اگر ڈیموکریٹس کے خلاف ووٹ دیتی ہے تو ہیلری کلنٹن خدانخواستہ معمولی مارجن سے سہی، لیکن ہار جائیں گی۔ امریکہ میں پاکستانی امریکی، کشمیری امریکی اور کشمیر کے ہمدرد سیاہ فام امریکی و دیگر انصاف پسند امریکی جنہیں یہ غیر جانب داری کی پالیسی اچھی نہیں لگے گی،وہ اس برابری اور ایک دو پوائنٹ کی برتری والی صدارتی ریس میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔

مسٹر پریذیڈنٹ! مجھے سمجھ نہیں آئی کہ آپ بھارت اور مودی کی محبت میں اپنی جماعت،امریکہ کی پہلی خاتون امیدوار صدارت اور امریکی عوام کے مفادات کو کیوں داؤ پر لگا رہے ہیں؟ آپ نام نہاد غیر جانب داری کی بجائے حتمی اور انصاف کی بات کیوں نہیں کرتے۔ آپ مظلوموں کا ساتھ کیوں نہیں دیتے۔ سیاہ فاموں کی طرح کشمیری بھی ایک طویل دورِ غلامی سے گزر کر اس مرحلے تک پہنچے ہیں، تاریخ میں ان کی آزادی کے مہ و سال کم اور غلامی کے زیادہ ہیں۔ اگر آپ بھی اہل کشمیر کا ساتھ دینے کی بجائے غیر جانب داری کی آڑ لے کر ظلم کا ساتھ دیں گے تو پھر کس سے توقع رکھی جائے گی؟ آپ کی غیر جانب داری مجھ جیسے پاکستانی امریکیوں کے لئے باعث شرمندگی ہے، اس سے امریکہ کی جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاس داری پر ہمارا ایمان متزلزل ہو رہا ہے۔ لینڈ آف بریوز Land of braves۔۔۔ کی یہ بزدلانہ حرکت ہم سب کے لئے باعثِ شرم ہے۔

مزید :

کالم -