ریسکیو1122کے انسٹرکٹرزکیلئے پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

ریسکیو1122کے انسٹرکٹرزکیلئے پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

  

لا ہور (کرائم رپورٹر)انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایڈوائزری گروپ (انسراگ) سے بین الاقوامی سرٹی فیکیشن کے حصول اور نئے چیلنجز بشمول موسمیاتی تبدیلی، زلزلہ،سیلاب، ہوش ربا آبادی، اور دیگر ڈزاسٹر ز سے بہتر انداز میں نبرد آزما ہونے کی غرض سے ایمرجنسی سروسز اکیڈمی (ریسکیو 1122)کے انسٹرکٹرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیلئے ترتیب دیے گئے خصوصی پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی سروسز اکیڈمی (ریسکیو 1122)بریگیڈئرامیرحمزہ نے وسیع پیمانے پر انسٹرکٹرز کی تدریسی مہارتوں میں اضافہ کا خصوصی پروگرام شرو ع کیا ہوا ہے جس کا مقصد ڈزاسٹر منیجمنٹ، فائر، ریسکیو ، میڈیکل اور دیگر اقسام کی ایمرجنسیز سے متعلق ریسکیو انسٹرکٹرز کی انسٹرکشنل مہارتوں میں اضافہ کرنا ہے ۔اس خصوصی پروگرام کاپہلا مرحلہ 9ستمبر کو اختتام پذیرہوا جبکہ حالیہ پروگرام یکم اکتوبر کو ختم ہوگا۔ افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ یہ پاکستان اور ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ سارک ممالک نے پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122)کے ماڈل کو پسند کیا ہے اور اس کے سٹرٹیجک، آپریشنل اور ٹریننگ میکانزم کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آخر میں ہم سارک ممالک کے ڈزاسٹر منیجمنٹ اور ایمرجنسی پروفیشنل کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو 1122کی ڈزاسٹر ریسپانس فورس بہت جلد انٹرنیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فورس کی حیثیت سے سرٹی فائی ہوجائے گی جس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی تدریسی ، لیڈرشپ ، رویہ، سیکھنے اور ڈزاسٹر منیجمنٹ کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم بھی مستقبل کے نئے چیلنجز کے پیشِ نظر اپنے اندر بہتر رویہ، ڈسپلن اور اپنی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔

مزید :

علاقائی -