بھارت کا جنگی جنون۔ مودی بند گلی میں

بھارت کا جنگی جنون۔ مودی بند گلی میں
بھارت کا جنگی جنون۔ مودی بند گلی میں

  

بھارت کا جنگی جنون بڑھ رہا ہے۔ بھارتی میڈیا اپنے ملک میں جنگی جنون بڑھا رہا ہے۔ بی جے پی کی قیادت بھی اپنے ملک میں جنگی جنون کو بڑھا رہی ہے۔ ایسے بیانات د یے جا رہے ہیں جیسے بی جے پی جنگ کا موڈ بنائے بیٹھی ہے۔سارک کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بھارت کا میڈیا دیکھیں وہاں کی سیاسی قیادت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

ایسی صورتحال میں بی جے پی کیا خود کو سیاسی طو ر پر ایک بند گلی میں لیکر جا رہی ہے۔ جس طرح بی جے پی عوامی جذبات سے کھیل رہی ہے۔ اسی طرح بی جے پی پر عوامی دباؤ بھی بڑھے گا کہ کچھ کیا جائے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ اڑی کے واقعہ میں بھارت میں سترہ فوجیوں کی جانیں گئی ہیں۔ کئی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ وہاں بھی اپنی فوج کے لئے جذبات موجود ہیں۔ بھارت کا ایک عام آدمی بھی اپنے ملک کے جوانوں سے اسی طرح محبت کرتا ہے جیسے ہم اپنے جوانوں سے محبت کرتے ہیں۔اس وقت تو بھارتی وزیر اعظم مودی اپنے ملک کے عوام کے جذبات سے کھیل رہے ہیں لیکن یہ کھیل انہیں بند گلی میں لیکر جا رہا ہے۔ چند دن میں وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں ان کے پاس آگے اور پیچھے جانے کا راستہ نہیں ہو گا۔

اگر یہ فرض کر لیا جائے اور اس مفروضہ کو مان لیا جائے کہ مودی پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ کرنے کا پلان رکھتے ہیں۔بھارت کے اندر سے بھی ایسی آوازیں آرہی ہیں کہ مودی کے ارد گرد جنگی جنونیوں کا ایک گروہ اکٹھا ہو چکا ہے۔ اسی تناظر میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اڑی کا واقعہ بھی اسی تناظر میں کروا یا گیا ہے تا کہ مودی اپنے جنگی عزائم کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ اس مقصد کے لئے مودی حکومت نے جان بوجھ کر مقبوضہ کشمیر میں حالات خراب کئے۔ لوگوں کو اندھا کیا۔ تا کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات اس قدر خراب ہوں۔ ایسے میں اڑی جیسا واقعہ کروایا جائے تا کہ ملک میں جنگ کے لئے رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔

کیا اب مودی اپنے جنگی عزائم کو آگے بڑھا سکیں گے۔ اس مقصد کے لئے کیا بھارت پاکستان کے ساتھ تجارت ختم کر سکتا ہے۔ کیا بھارت پاکستان کے ساتھ تمام سفر ی روابط ختم کر سکتا ہے۔ کیا دونوں ممالک کے درمیان ویزہ کی سہولت ختم کی جا سکتی ہے۔ کیا بھارت پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ بھارت اس سے قبل بھی مختلف ادوار میں پاکستان پر مختلف پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ مختلف معاہدات ختم کر چکا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بعد میں بھارت نے دوبارہ وہی تعلقات قائم کرنے کے لئے بھی درخواست کی ہے۔

لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ مودی کو کچھ کرنا ہو گا۔ ان پر سب سے زیادہ دباؤ تو پاکستان پر سرجیکل سٹرایکس کرنے کا ہے۔ بھارت میں شور ہے کہ جماعت الدعوۃ کے ہیڈ کوارٹر مریدکے اور جیش محمد کے ہیڈ کوارٹر بہاولپور پر سرجیکل سٹرائیکس کی جائیں۔لیکن کیا بھارت ایسا کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ اس وقت پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ اور ایک ایٹمی طاقت کے خلاف کوئی بھی سرجیکل سٹرایکس کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس ضمن میں شمالی کوریا کی مثال سب کے سامنے ہے۔ شمالی کوریا کے ارد گرد تو جنوبی کوریا اور جا پان جیسے مضبوط ممالک ہیں لیکن وہ بھی شمالی کوریا کے ساتھ کسی بھی قسم کے ایڈونچرکا سوچ نہیں سکتے۔

اس لئے کیا بھارت اکیلا پاکستان کے خلاف کسی ایڈونچر کا سوچ سکتا ہے۔ایسے میں پاکستان کے ہمسائے کس کے ساتھ ہونگے ایک اہم سوال ہے۔ یہ درست ہے کہ بھارت کو افغانستان کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن یہ حمایت ایک اخلاقی حمایت ہی ہے۔ افغانستان اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز میں بھارت کی ہاں میں ہاں ہی ملا سکتا ہے۔اشرف غنی نے تو زبان کھول بھی دی ہے۔ لیکن کیا افغانستان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے۔ ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ افغانستان میں نیٹو کی موجودگی، طالبان کی موجودگی، داعش کی موجودگی، اس کو مزید کسی محاذ کو کھولنے کا حوصلہ نہیں دے سکتیں۔

کیا ایران بھارت کے ساتھ ہے۔ ایسا نظر نہیں آتا۔ ایران کے دبائر پر ہی پاکستان نے خود کو یمن کی جنگ سے دور رکھا۔ سعودی عرب کو ناراض کر لیا۔ یہ درست ہے کہ کلبھوشن والے واقعہ پر پاک ایران کشیدگی ہوئی ہے۔ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان پر بد مزگی ہوئی تھی۔لیکن پھر بھی پاک ایران تعلقات اس نہج پر نہیں کہ ایران بھارت کے ساتھ مل جائے۔ ایران اگر پاکستان کے ساتھ نہیں ہو گا۔ تو بھارت کے ساتھ بھی نہیں ہو گا۔

چین پاکستان کے ساتھ ہے۔ چین نے تو بیان بھی دیا ہے کہ بھارت اشتعال انگیزی سے باز رہے۔ ایسے میں بھارت کا جنگی جنون کیا رنگ لائے گا؟ کہیں یہ مودی کی سیاسی خود کشی تو نہیں ہو گی۔ اگر وہ کچھ نہ کر سکے تو ان کی سیاسی موت ہو جائے گی۔ بھارت میں آگے کئی انتخابات ہیں جو مودی کے ہارنے کے امکانات ہیں۔ کور کمانڈرز کانفرنس نے بھی بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی امریکہ میں موجود ہیں۔ یہ بھارت کے جنگی جنون کو نکیل ڈالنے کا اچھا موقع ہے۔ امید ہے کہ مودی بند گلی میں جا رہے ہیں۔ وہ شاید فوجوں کو سرحدوں پر بھی لے آئیں۔ لیکن اگر ہم مشرف کی طرح لیٹ نہ گئے تو مودی پر دباؤ بڑھتا جائے گا۔

بھارت کا جنگی جنون۔ مودی بند گلی میں

مزید :

کالم -