غیر وابستہ تحریک نے حق خودار ادیت کی جدوجہد کو دہشتگردی سے جوڑنے کی مخالفت کردی

غیر وابستہ تحریک نے حق خودار ادیت کی جدوجہد کو دہشتگردی سے جوڑنے کی مخالفت ...

  

گریٹا( اے این این )غیروابستہ تحریک(نام ) نے پاکستان کے موقف کی تائیدکرتے ہوئے خودارادیت کے حصول کی جدوجہدکودہشت گردی سے جوڑنے کی کوششوں کی مخالفت کی ہے ، تنظیم کے رکن ملکوں نے ایٹمی ہتھیاروں سے لاحق خطرات کو دور کرنے کیلئے اپنی کوششیں تیز کرنے کاعزم ظاہرکرتے ہوئے واضح کیاہے کہ پرامن مقاصد کیلئے ایٹمی توانائی سے استفادہ کرناتمام ممالک کا ناقابل تنسیخ حق ہے جبکہ قانونی اور منتخب حکومت کو گرانے کیلئے غیر قانونی اقد امات کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کے منافی قراردیا گیا ہے ،اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں اصلاحات کا مطالبہ بھی دوہرایا گیا ۔ وینزویلاکے جزیرے گریٹا غیروابستہ تحریک کا سترہواں سربراہی اجلاس کے اختتام پرجاری کئے گئے اعلامیے میں پچھلے چاربرسوں کے دوران ناوابستہ تحریک کو فعال اور سرگرم بنانے اور اس کی تقویت کے تعلق سے اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اعلامیے کہا گیا کہ تحریک کے رکن ممالک موجودہ دور میں جب ترقی پذیر ملکوں کو سب سے زیادہ چیلنجوں کا سامنا ہے غیروابستہ تحریک کو مضبوط اوراس کو زیادہ سے زیادہ فعال بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔اعلامیے میں تحریک کے رکن ملکوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد کو مستحکم بنانے پر بھی زور دیا گیا ۔اعلامییمیں عالمی سطح پر پائیدار امن برقراررکھنے کی کوششوں پر تاکید کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا عہد کیا گیا ہے کہ رکن ممالک ایک دوسرے کی ارضی سالمیت ، اقتداراعلی اور قومی وفاق کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ ملکوں کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت، باہمی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرنے کے اصول پر کاربند رہیں گے ۔غیروابستہ تحریک نے ایک قانونی اور منتخب حکومت کو گرانے کیلئے غیر قانونی پالیسی اور اقد امات کی مخالفت کرتے ہوئے اس قسم کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قراردیا ہے ۔ اعلامیے میں قوموں کی سرزمینوں کی واپسی اور اوراغیار کے قبضے سے ان کی آزادی کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ اپنے وطن اور سرزمین کا دفاع ہر قوم کا حق ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحریک کے رکن ممالک عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں خاص طورپر ایٹمی ہتھیاروں سے لاحق خطرات کو دور کرنے کے لئے اپنی کوششیں تیز کریں گے تاکہ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک قراردیا جاسکے ۔اعلامیے میں مشرق وسطی کو انیس سوپچپن اوراس کے بعد کے برسوں کے کنونشنوں کی بنیاد پر ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ قراردئے جانے کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا بنانے کے لئے فوری طور پر مذاکرات شروع کئے جانے چاہئیں ۔ غیروابستہ تحریک نے اس بات پربھی زوردیا کہ پرامن مقاصد کیلئے ایٹمی توانائی سے استفادہ تمام ملکوں کا نا تنسیخ حق ہے ۔ اعلامیے میں رکن ملکوں کے خلاف زور و زبردستی کے اقدامات اور طاقت کے استعمال کی بھی مذمت کی گئی اور اس کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف قراردیا گیا ۔اعلامیے میں دہشت گردی کو عالمی امن و صلح کے لئے ایک سنگین خطرہ بتاتے ہوئے کہا گیا کہ تحریک کے رکن ممالک دہشت گردی کی خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو اور کہیں بھی ہو سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔اعلامیے میں تاریخی اور مذہبی مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کی بھی شدید مذمت کی گئی ۔ طالبان ، القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں سے دنیا کو لاحق خطرات کا ذکرکرتے ہوئے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پرزوردیا گیا اور اس بات پر تاکید کی گئی کہ اقوام متحدہ کے قانون پر مکمل طور پر عمل درآمد کرتے ہوئے دہشت گردوں کی مالی اور اسلحہ جاتی حمایت کو روکنا ہوگا ۔ اعلامیے میں پاکستان کے موقف کی روشنی میں حق خودارادیت کے لئے منصفانہ جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششوں کی مخالفت کی گئی۔سربراہ اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت خارجہ امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کی

مزید :

علاقائی -