چودھری سرور کی سخت کوششوں کے باوجود چیچہ وطنی میں تحریک انصاف ہار گئی

چودھری سرور کی سخت کوششوں کے باوجود چیچہ وطنی میں تحریک انصاف ہار گئی

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

 چودھری محمد سرور تو دس بارہ دن سے چیچہ وطنی میں چھاؤنی ڈال کر بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے پوری کوشش کی کہ تحریک انصاف کا امیدوار جیت سکے لیکن چودھری محمد سرور کی ساری سیاست برطانیہ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں کبھی کوئی الیکشن نہیں لڑا، جن امیدواروں کی انہوں نے حمایت بھی کی بدقسمتی سے وہ بھی نہیں جیت سکے، جیسا کہ چیچہ وطنی میں ہوا، شکست و فتح تو نصیبوں سے ہوتی ہے لیکن سچی بات ہے اس حلقے میں جتنی جان ماری چودھری سرور نے کی اگر پارٹی کے دوسرے لیڈر بھی اس حلقے میں چند دن لگا لیتے تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا، لیکن جن کی نگاہیں ریلیوں اور دھرنوں پر مرکوز ہوں انہیں ایک ضمنی انتخاب میں فتح و شکست سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟ ویسے عام انتخابات میں یہ نشست تو تحریک انصاف جیتی ہوئی تھی، اس کا مطلب یہ ہواکہ قومی اسمبلی میں اس کی ایک نشست کم ہوگئی، لیکن اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی کیونکہ ستمبر 2014ء میں تو تحریک انصاف کے تمام ارکان نے تمام اسمبلیوں سے استعفے دے دیئے تھے (ماسوا خیبر پختونخوا)۔ استعفے دینے کا کنٹینروں سے روزانہ اعلان ہوتا تھاکہ یہ استعفے منظور کئے جائیں، لیکن بھلا ہو ایاز صادق کا جنہوں نے تمام تر دباؤ کے باوجود یہ موقف اختیار کئے رکھا کہ جب تک استعفے دینے والے خود آکر تصدیق نہیں کریں گے، وہ استعفے منظور نہیں کریں گے حالانکہ قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ سپیکر کے پاس استعفے منظور کرنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں ہوتا۔ ادھر استعفیٰ سپیکر آفس میں پہنچا ادھر یہ منظور تصور ہوا لیکن ایاز صادق اس معاملے میں تحریک انصاف کیلئے سافٹ کارنر رکھتے تھے اور عملاً نظر بھی آتا تھا، اس کا نتیجہ تھا کہ مستعفی ہونے والے تمام ارکان اب بھی قومی اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے غیر حاضری کے دنوں کی تنخواہیں بھی بڑے دھڑلے سے وصول کیں اور اپنی ایمانداری پر کوئی حرف بھی نہیں آنے دیا۔ یہی حال پنجاب اسمبلی کے مرنجاں مرنج سپیکر رانا محمد اقبال کا تھا جو کہتے تھے میں وہی کروں گا جو قومی اسمبلی کے سپیکر کریں گے چنانچہ اسی نرم دلی کا نتیجہ ہے کہ میاں محمود الرشید روزانہ اسمبلی کے اندر یا باہر کہیں نہ کہیں گرج برس رہے ہوتے ہیں۔ استعفوں کی بات ذرا طویل ہوگئی ہم یہ عرض کر رہے تھے کہ تحریک انصاف پنجاب میں قومی اسمبلی کے ایک اور حلقے سے الیکشن ہار گئی ہے۔ دو ہفتوں کے وقفے سے یہ پارٹی کی دوسری شکست ہے، اس سے پہلے جہلم کے حلقے میں بھی ہار گئی تھی۔ اس کے بعد لاہور کی ریلی نکلی تو یہ پھیکی پھیکی تھی، شکست کے اثرات نمایاں تھے، البتہ چشم بینا نہ ہو تو نظر نہیں آتے۔

اب رائیونڈ مارچ کا چرچا ہے، وہاں تو جو ہوگا وہ ابھی مستقبل کی بات ہے لیکن پارٹی کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اچھا نہیں ہے۔ سیف اللہ نیازی استعفا دے کر بیٹھے ہیں اور انہیں جہانگیر ترین سے شکایات ہیں، یوتھ ونگ بھی ان کے خلاف پوسٹر چھپوائے بیٹھا ہے اور انہیں الگ کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان جذباتی نوجوانوں کو معلوم نہیں کہ اگر جہانگیر ترین کو پارٹی سے نکال دیا گیا تو اخراجات کون اٹھائے گا؟ اور آج کے دور میں پارٹیاں پیسے کے بغیر نہیں چلتیں نہ ان میں کوئی حسرت موہانی ہے جو تبلیغی جماعت والوں کی طرح اپنا سامان خود اٹھا کر ریل گاڑی کے تیسرے درجے میں سفر کرتے تھے ایک بار میاں افتخار الدین سے ملنے ان کے گھر گئے تو وہ گھر پر نہیں تھے، انہوں نے بستر کھولا اور ایک کونے میں بچھا کر لیٹ گئے۔ میاں افتخار الدین واپس آئے تو ملازموں نے انہیں بتایا کہ ایک بزرگ انہیں ملنے آئے ہیں اور اپنا بستر خود بچھا کر برآمدے میں لیٹے ہیں۔ میاں افتخار الدین کو اندازہ ہوگیا کہ یہ حسرت موہانی کے سوا کون ہوسکتا ہے، بھاگم بھاگ ادھر گئے اور بمشکل اٹھا کر کمرے میں لائے۔ اب نہ ریل گاڑیوں کا زمانہ ہے نہ تھرڈ اور سیکنڈ کلاس کا جھگڑا، اب تو ہمارے رہنما ذاتی طیاروں میں اڑانیں بھرتے ہیں۔ جہانگیر ترین کا جہاز عمران خان کے زیر تصرف ہے، اب اگر جہانگیر ترین نہیں ہوتے تو دوسرا جہاز کون دے گا؟ اس لئے یوتھ ونگ کے جذباتی نوجوان اس بات کو بھول جائیں کہ جہانگیر ترین کے خلاف کوئی ایکشن ہوگا۔ ویسے بھی انہوں نے پارٹی کی مالی ضروریات پوری کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے تو یہ کوئی گناہ بھی نہیں البتہ ہمیں چودھری محمد سرور کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ زیادہ دیر پاکستان میں سیاست کرتے رہیں گے۔ انہوں نے پاکستانی سیاست میں انٹری تو بطور گورنر پنجاب ڈالی تھی لیکن یہاں وہ زیادہ دیر ٹک نہیں سکے۔ بعض حضرات کا تو کہنا ہے کہ ان کا تحریک انصاف میں جانا پہلے سے طے تھا البتہ وہ چاہتے تھے کہ کوئی بڑا عہدہ لے کر اسے چھوڑیں تاکہ ان کی دھاک بیٹھ سکے۔ یہ دھاک بیٹھی یا نہیں لیکن اب نظر آتا ہے چودھری سرور برطانیہ کی چھوڑی ہوئی شہریت دوبارہ حاصل کریں گے کیونکہ کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی راہی کو یاد آ جاتی ہے۔ اب انہیں لندن کی صاف ستھری سیاست یاد آ رہی ہے، جس کا پاکستان کی پیچ دار اور تہہ در تہہ سیاست سے کوئی موازنہ نہیں۔ انہیں اگر معلوم ہوگیا ہے تو بہت بہتر، اگر نہیں ہوا تو وہ جان لیں کہ جس آسانی کے ساتھ وہ تین بار برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوتے رہے اتنی آسانی کے ساتھ قومی اسمبلی کا رکن بننا ان کیلئے ممکن نہیں۔ یہاں سیاسی صحرا نوردی جتنا عرصہ بھی کرتے رہیں ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ جہاں 126 دن کا دھرنا پارٹی کو الیکشن جتوانے میں کوئی مدد نہیں کرتا وہاں مزید دو چار مارچ کیا کرلیں گے؟ پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نظر نہیں آتی۔

مزید :

تجزیہ -