ایل ایل بی داخلہ کیلئے عمر کی حد کا نوٹیفکیشن معطل ،لاء کالجوں کی جانچ پڑتال کیلئے اعلٰی سطحی کمیٹیاں تشکیل

ایل ایل بی داخلہ کیلئے عمر کی حد کا نوٹیفکیشن معطل ،لاء کالجوں کی جانچ پڑتال ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم 3رکنی فل بنچ نے ایل ایل بی میں داخلے کے لئے عمرکی زیادہ سے زیادہ حد 24 سال مقرر کرنے کانوٹیفکیشن معطل کردیاہے جبکہ پنجاب بھر کے نجی لاء کالجوں کی جانچ پڑتال کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں جو آئندہ تاریخ سماعت پر اپنی رپورٹس پیش کریں گی ۔عدالت عالیہ میں متعدد درخواستیں زیر سماعت ہیں جن میں ایل ایل بی میں داخلے کے لئے عمرکی حد 24 سال مقرر کرنے، 5سالہ ایل ایل بی اور لاء اکیڈمیز بنانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیاہے،درخواست گزاروں نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ایل ایل بی 5 سالہ پروگرام سے ہزاروں طالبعلم کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے،پنجاب یونیورسٹی نے ایل ایل بی میں داخلہ کے لئے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 24سال تک مقرر کردی ہے ۔پنجاب یونیورسٹی کا تعلیم کیلئے عمر کی حد مقررکرنا بنیادی حقوق اور آئین کے منافی ہے۔ آئین کے تحت کسی شہری کو تعلیم کے حصول سے روکا نہیں جاسکتا۔ درخواستوں میں استدعا کی گئی کہ ایل ایل بی میں داخلے کے لئے عمرکی حد مقرر کرنے کا اقدام کالعدم قرار دیا جائے اور ایل ایل بی کا نیا 5سالہ پروگرام غیر آئینی قرار دیا جائے، فل بنچ نے عبوری حکم کے تحت ایل ایل بی کے لیے عمر کی حد 24سال مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے 2016 ء تک بی اے کرنے والے امیدواروں کو ایل ایل بی 5سالہ پروگرام کے تیسرے سال(ایل ایل بی پارٹ I ) میں داخلہ لینے کا اہل قرار دے دیا۔ فل بنچ نے ہدایت کی کہ تمام یونیورسٹیاں اور الحاق شدہ کالجز پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے تحت ہی مقرر ہ سیٹوں پر داخلے کریں گے۔ مزید برآں عدالت عالیہ نے پنجاب بھر کے تمام لاء کالجز اور لا ء اکیڈمیز کے معیار کو جانچنے کیلئے پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور پنجاب یونیورسٹی کے نمائندوں اور متعلقہ اضلاع کے ڈی سی اوزاورڈی پی اوز پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کر دی، مذکورہ بالا کمیٹیاں اگلی تاریخ سماعت پر پنجاب بھر کے لاء کالجز کی سکروٹنی کرنے کے بعد کالجز کے الحاق، معیار اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ضابطہ کار پر عملدر آمد کے حوالے سے اپنی رپورٹس پیش کریں گی۔ عدالتی حکم کے مطابق حالیہ داخلوں کے حوالے سے مندرجہ بالا رعایت گھوسٹ یا غیر الحاق شدہ لاء کالجز اور لاء اکیڈمیز پر لاگو نہیں ہوگی۔

لاء کالجز

مزید :

صفحہ آخر -