نیو یارک اور نیو جرسی میں بم دھماکوں کا ذمہ دار افغان باشندہ گرفتار

نیو یارک اور نیو جرسی میں بم دھماکوں کا ذمہ دار افغان باشندہ گرفتار

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) سکیورٹی حکام نے آج صبح نیویارک اور نیو جرسی میں بم دھماکوں کے مشتبہ ملزم کو فائرنگ کے تبادلے کے بعد زخمی حالت میں حراست میں لے لیا ہے۔ قبل ازیں پولیس نے گرفتاری سے پہلے ہی اس کی شناخت کرکے اس کی تصویر جاری کردی تھی جس کے مطابق اٹھائیس سالہ باریش نوجوان احمد راحامی نیو جارسی کا رہائشی افغان نژاد امریکی شہری تھا۔ سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ نیویارک اور نیو جرسی میں پانچ مقامات پر بم نصب کرنے والا شخص بنیادی طور پر وہی تھا جس کی معاونت میں علاقے میں کام کرنے والے دہشت گردوں کے سیل کے دوسرے ارکان بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ ہفتے کی شب نیویارک میں مین ہٹن کے پرہجوم علاقے میں سائیڈ واک پر ایک بم پھٹنے سے 29 افراد زخمی ہوگئے تھے اور اس سے چار بلاک کے فاصلے پر بھی ایک پریشر ککر بم ملا تھا جسے ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ اتوار کی رات نیو جرسی میں کوڑے کے ایک ڈرم میں بم چلا تھا جس کا کوئی نقصان نہیں ہوا اور قریب ہی دو اور مقامات پر بھی دو بم ملے تھے جنہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ اس علاقے میں نصب کئے جانے والے بم ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ اس دوران داعش کی حامی نیوز ایجنسی کے علاوہ داعش نے اپنی ویب سائٹ پر منی سوٹا میں چاقو سے حملہ کرنے کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ اس کی شناخت ہوگئی ہے جو صومالیہ سے تعلق رکھنے والا امریکی شہری داہر عدن تھا۔ تاہم نیویارک اور نیو جرسی میں بم دھماکوں کے بارے میں فی الحال داٖش خاموش ہے اس لئے سکیورٹی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ افغانستان کا باشندہ احمد راحامی ’’اکیلا بھیڑیا‘‘ ہو۔ یہ اصطلاح ایسے اکیلے شخص یا گروہ کیلئے استعمال ہوتی ہے جسے دہشت گردی کی ذمہ داری نہیں دی جاتی لیکن وہ دہشت گرد تنظیموں کی حمایت میں اپنے طور پر ایسی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ پولیس کے مطابق سوموار کو صبح گیارہ بجے نیو جرسی ریاست کے ٹاؤن لنڈن میں احمد راحامی کو گرفتار کیا گیا جس نے گرفتاری سے قبل مزاحمت کی اور فائرنگ کے تبادلے میں وہ معمولی زخمی بھی ہوا۔ پولیس نے اتوار کے روز ملزم کی شناخت کرنے کے بعد اس کی تصویر جاری کی تھی اور پانچ افراد سے پوچھ گچھ شروع کردی تھی۔ ایف بی آئی کے مطابق ملزم افغانستان میں پیدا ہوا تھا اور اب امریکی شہری تھا۔ نیو جرسی ریاست کے شہر الزبتھ میں اس کے خاندان کا فوڈ بزنس ہے۔ ’’فرسٹ امریکن فرائیڈ چکن‘‘ کے نام سے اس کے والد کا ریسٹورینٹ قائم ہے جس میں وہ کام کرتا تھا اور اسی عمارت کی اوپر کی منزل پر ان کی رہائش تھی۔ جب پولیس ملزم کے قریب پہنچی تو اس نے پولیس افسر پر فائرنگ کی اور تھوڑے سے مقابلے اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد اس پر قابو پالیا گیا۔ بم دھماکوں کے یہ واقعات نیویارک میں ایسے وقت ہوئے ہیں جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر صدر بارک اوبامہ اور پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف سمیت دنیا بھر سے اہم لیڈر وہاں جمع ہیں۔ آج سوموار کے روز نیویارک پہنچنے کے بعد صدر اوبامہ نے ان بم دھماکوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ منی سوٹا میں چاقو کے حملے اور نیویارک اور نیو جرسی میں بم دھماکوں کے درمیان ابھی تک کوئی تعلق سامنے نہیں آیا لیکن ان دہشت گردانہ کارروائیوں نے ان کا یہ عزم تازہ کردیا ہے کہ ہم داعش کے خلاف اپنی جنگ بھرپور طریقے سے جاری رکھیں گے۔ ہم زمین پر بھی اور آن لائن بھی جدوجہد کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم زمینی جنگ کے علاوہ انٹرنیٹ پر نفرت کے پیغاموں کا مقابلہ کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خوفزدہ ہونے کی بجائے دہشت گردوں کی کارروائیوں سے ہوشیار رہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -