جوہانسبرگ،شیروں سے بچاؤ کے لیے جانوروں پر نقلی آنکھیں لگنے لگیں

جوہانسبرگ،شیروں سے بچاؤ کے لیے جانوروں پر نقلی آنکھیں لگنے لگیں
 جوہانسبرگ،شیروں سے بچاؤ کے لیے جانوروں پر نقلی آنکھیں لگنے لگیں

  

جوہانسبرگ(مانیٹرنگ ڈیسک)دس ہزار سال سے بھی زائد عرصے سے جب سے انسان نے افریقہ میں مویشوں کو خوراک کے حصول کے لیے پالنا شروع کیا ہے مگر شیر ایک بہت بڑا مسئلہ رہے ہیں۔شیر بلکہ زیادہ تر شیرنیاں جو اصل شکاری ہوتی ہیں یہاں کے چھوٹے کسانوں کا ذریعہ معاش تباہ کر دیتی ہیں حتٰی کہ اگر یہ ایک ہی گائے ہو جو حاملہ ہو یا دودھ دیتی ہو۔بوٹسوانا کی بہترین تحفظاتی پالیسیوں کا ہی کمال ہے کہ افریقہ کے سب سے زیادہ شیر یہاں ہیں جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 3000 ہے۔جنوبی افریقہ میں خشک موسم کی وجہ سے جنگلی حیات کے لیے محفوظ مقامات کم ہو رہے ہیں وہیں گلہ بان بھی نئی چراگاہوں کی تلاش میں ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ انسانوں اور شیروں کا آمنا سامنا بڑھ گیا ہے۔غریب کسان رات کے وقت اپنی مویشی لکڑیوں اور کانٹے دار جھاڑیوں سے بنے باڑوں میں رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ کتے پال لیتے ہیں جو خطرہ پاتے ہیں بھونکنے لگتے ہیں۔ گو کہ بوٹسوانا میں شکار غیر قانونی ہے تاہم کچھ لوگ شیروں کو گولی مار دیتے ہیں یا زہر رکھتے ہیں۔ایک فلاحی ادارے کے ساتھ کام کرنے والے نیل جارڈن کا خیال ہے کہ انہیں اس کا ایک حل مل گیا ہے۔ایک مرتبہ انھوں نے دیکھا کہ ایک شیر 30 منٹ تک ایک ہرن کے لیے گھات لگائے بیٹھا رہا لیکن جونہی اس نے پلٹ کر شکار کو دیکھا شیر نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ اس بات سے انہیں یہ خیال آیا کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے نے ہرن کی جان بچا لی۔انھوں نے سوچا ’کیا اگر جانوروں کے کولہے پر پیچھے کی جانب آنکھیں پینٹ کر دی جائیں تو اس کا بھی ایسا ہی اثر ہوگا؟‘ ابتدا میں ان کی ٹیم نے گائے کے ایک ریوڑ کی ایک تہائی جانوروں پر آنکھیں پینٹ کیں۔جارڈن کا کہنا تھا ’پہلے تو میں یہ خیال بتانے سے گریزاں تھا لیکن جب ہم نے 2015 میں اس کا ایک تجربہ کیا تو اس کے نتائج کافی امید افزا نکلے۔‘نتیجہ یہ ہوا کہ شیر نے 39 میں سے تین گائے کو مارا جبکہ پینٹ کی ہوئی کوئی بھی گائے شکار نہ ہوئی۔

نقلی آنکھیں

مزید :

صفحہ آخر -