کرک ،بجلی لوڈشیڈنگ اور کم گیس پریشر کا سلسلہ بدستور جاری

کرک ،بجلی لوڈشیڈنگ اور کم گیس پریشر کا سلسلہ بدستور جاری

  

اکرک (بیورورپورٹ) کرک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بد ستور جاری ،سوئی نادرن نے ایک بار پھر گیس پریشر کم کر دیا، محروم علاقوں کو لوپنگ دیکر پریشر بڑھانے کا وعدہ بھی ایفا نہ ہو سکا ،صارفین نے ایک بار پھر غیر قانونی راستہ اختیار کر لیا ۔تفصیلات کے مطابق کرک شہر و مضافاتی دیہات میں مشران اور پیسکو حکام کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت ریکوری ، ماہانہ بلوں کی ادائیگی اور بجلی چوری کے خاتمے کیلئے ’’ بجلی سدھارو مہم ‘‘ کے دوران پہلے مہینے لاکھوں روپے کی ریکوری کی گئی درجنوں صارفین نے غیر قانونی کنکشنز از خود ختم کرکے نئے میٹرز کی تنصیب کیلئے بلدیاتی نمائندوں کی وساطت سے درخواستیں جمع کرائیں لیکن اس کے باوجود شہری علاقوں میں پرانے طریقے کار کے تھے لوڈشیڈنگ کرائی جاتی ہے اور سٹی ون فیڈر کے صارفین کو 24گھنٹوں میں صرف 8گھنٹے ، سٹی ٹو فیڈر کو 14گھنٹے بجلی سپلائی کی جارہی ہے علاوہ ازیں سٹی ٹو فیڈر پر اوور لوڈنگ کے باعث ٹرپنگ کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے مذکورہ فیڈ ر پر معمولی فالٹ کی صورت میں گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے اور رات کے وقت لائنوں میں پیدا ہونے والی خرابی فوری مرمت ہونے کی بجائے اگلی صبح تک صارفین کو انتظار کروایا جاتا ہے اتوار اور پیر کے درمیانی شب تقریباً 11بجے فالٹ کی وجہ سے بجلی کی سپلائی معطل ہوئی جس کی وجہ سے شہری علاقوں اندھیروں میں ڈوب گیا اور رات بھر مکین مچھروں سے کھیلتے رہے دوپہر 12بجے بجلی بحال گئی بریک ڈاؤن سے شہری علاقوں میں پینے کا پانی نایاب ہو گیا اور دوسری جانب دفاتر میں بھی بجلی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے روزمرہ کے کام نہ ہوسکے اطلاعات کے مطابق نادرا رجسٹریشن سنٹر کرک ، ٹی ایم اے کرک ، ڈپٹی کمشنر کے متعلقہ دفاتر میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سائلین مایوس گھروں کو لوٹ گئے علاوہ ازیں شہری علاقوں میں عوامی احتجاج کے باعث سوئی نادرن نے گیس پریشر میں اضافہ کیا تھالیکن اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ متعلقہ حکام نے صارفین کو سہولت پہنچانے ، ماضی میں اپنی غلطیاں چھپانے میں ناکامی کا غیر اعلانیہ اعتراف کرتے ہوئے شہری علاقوں میں گیس پریشر ایک بار پھر کم کر دیا ہے جس کی وجہ سے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور صارفین لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں شہر میں عوامی مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کرنے والے مشران اور بلدیاتی نمائندوں پر مشتمل رابطہ کمیٹی کی کوششوں سے محروم علاقوں میں لوپنگ کے ذریعے گیس کی مین لائن سے منسلک کرنے کی منظوری دیدی گئی مگر حکام بالا نے اس پر بھی تاحال کوئی عمل در آمد نہیں کیا جس کے باعث غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے پر آمادہ صارفین نے ایک بار پھر غیر قانونی طریقوں سے کنکشنز حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے شہری علاقوں میں بجلی ، گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے کاروبار بھی شدید متاثر ہوا ہے عوامی سماجی حلقوں نے متعلقہ حکام سے صورت حال پر فوری قابو پانے اور شہری علاقوں میں بجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے ، گیس پریشر میں فوری اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -