سماجی بہبود کی سرگرمیوں پر پابندی سے مشکلات میں اضافہ ہوگا،مسرت قدیم

سماجی بہبود کی سرگرمیوں پر پابندی سے مشکلات میں اضافہ ہوگا،مسرت قدیم

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ملک میں موجودغریب اور پسماندہ طبقے کی بہتری کیلئے متعدد کمپنیوں کی جانب سے کارپوریٹ سماجی ذمہ داریوں کی مد میں سماجی بہبود کی سرگرمیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں، ان پر پابندی سے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار پیمان الومنائی ٹرسٹ کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور معروف سماجی کارکن مسرت قدیم نے گزشتہ روزاپنے جاری کردہ ایک بیان میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمباکو کمپنیاں دہائیوں سے پاکستان میں موجود غریب اور پسماندہ طبقے بالخصوص خواتین کو تعلیم اورصحت کے شعبوں میں مدد کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور معاشی اور معاشرتی استحکام کے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ امتناع تمباکو بل2016سے ،جو اس وقت سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں زیر غور ہے، ایسی سرگرمیاں جاری رکھنا نا ممکن ہو جائے گا جس سے غریب اور پسماندہ طبقہ کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔ ان کا کہناتھاکہ پیمان الومنائی ٹرسٹ تمباکو کمپنیوں کے اشتراک سے گزشتہ چار سالوں سے صحت ، تعلیم اور خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے سرگرم عمل ہے اور اب تک 18ہزار 885غریب اور پسماندہ افراد بشمول خواتین کی معاونت کی ہے۔خدشہ ہے کہ اس بل سے ایسے افراد کی مزید معاونت نہیں کی جا سکے گی۔انھوں نے سول سوسائٹی کی جانب سے سینٹ کی قائمہ کمیٹی پر زور دیا کہ اس بل پر انسانی اور سماجی پہلووں کو مد نظر رکھتے ہو ئے نظر ثانی کی جائے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -