شانگلہ میں ینگ ڈاکٹرز کا مطالبات کے حق میں مظاہرہ

شانگلہ میں ینگ ڈاکٹرز کا مطالبات کے حق میں مظاہرہ

  

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شانگلہ کے ینگ ڈاکٹرز نے اپنی تنخواہوں اور بقاجات کی ادائیگی میں ٹال مٹول اوررشوت کا مطالبہ کرنے پر محکمہ خزانہ شانگلہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو بند کرنے کی دھمکی دیدی،بار بار ضلعی انتظامیہ اور ضلع ناظم کو اگاہ کر دیا ہے لیکن وہ بھی کرپشن مافیا کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں،اپنا حق مانگ رہے ہیں ،صوبائی حکومت ،وزیراعلیٰ پرویز خٹک محکمہ خزانہ شانگلہ کے کرپشن کا نوٹس لیں،ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر عدنان ضیاء ۔جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عنایت اللہ ۔ڈاکٹر ممتاز اور دیگر ڈاکٹروں کی میڈیا سے بات چیت۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے حال ہی میں مستقل ہونے والے شانگلہ کے ڈاکٹروں اٹھارہ ماہ گزرنے کے باوجود تنخواہوں کی مد میں بقاجات سے محروم ہیں ،اٹھارہ ماہ ہسپتالوں میں مریضوں کی خدمت کی جبکہ محکمہ خزانہ شانگلہ بقاجات میں 1/3حصہ رشوت مانگ رہے ہیں ،جو صوبائی حکومت کے کرپشن ختم کرنے کے دعوے کی قلعی کھل دی گئی اور کرپشن ختم کرنے کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئی،بقاجات ہمارا حق ہے ،کسی کو ایک کوڑی رشوت نہیں دیں گے،پورے صوبہ میں مستقل ہونے والے ینگ ڈاکٹروں کو یک مشت بابقایاجات ادا کی گئی ہے جبکہ ضلع شانگلہ کے محکمہ خزانہ کے درجہ چہارم جوکہ کاؤنٹر پر رشوت کیلئے تعینات کر دیا ہے کہتا ہے کہ کمپیوٹر سرور پیسوں پر کھولتا ہے بغیر پیسوں کے نہیں کھولتا شانگلہ اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے کوئی پرسان حال نہیں ہے ،ایسا لگ رہا ہے کہ محکمہ خزانہ شانگلہ کے اہل کار کو رشوت کا فری ہینڈ دیا گیا ہے ، ان ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب بھی محکمہ خزانہ شانگلہ جاتے ہیں تو پہلے رشوت کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمارا کمپیوٹر سرور پچاس ہزار سے زائد مالیت پر نہیں کھولتاہے ،اگر اپ بقایاجات میں 1/3رشوت دیں تو کچھ بن سکتا ہے ،محکمہ خزانہ شانگلہ کر پشن کا گڑھ بن چکا ہے ،اعلیٰ سے لیکر ادنیٰ اہلکار تک سب کرپٹ ہیں ،بار بار شکایت کرنے پر بھی کوئی ایکشن نہیں لیتا،وزیراعلیٰ پرویز خٹک،وزیر خزانہ مظفر سید ،اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا محکمہ خزانہ شاگلہ کے اس چیر پھاڑ پر انکوائری مقرر کرکے عبرت ناک سزہ دیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -