ڈیرہ میں جدید سہولیات سے آراستہ نیا ائر پورٹ نا گریز ہے، فضل الرحمٰن

ڈیرہ میں جدید سہولیات سے آراستہ نیا ائر پورٹ نا گریز ہے، فضل الرحمٰن

  

ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ)وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے دورہ ڈیرہ اسماعیل خان کے موقع پر اعلان کئے گئے میگا ترقیاتی پراجیکٹس پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے متعلقہ محکموں کے سربراہان کی جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر اور قومی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن کو تفصیلی بریفنگ بریفنگ کا اہتمام ڈیرہ ایئرپورٹ کے ڈیپارچر لاونچ میں کیا گیا تھا ۔اس موقع پر صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمن ،ڈپٹی کمشنر ڈیرہ معتصم باللہ شاہ،سابق ضلع نائب ناظم حاجی عبدالرشید دھپ،خانوادہ زکوڑی شریف کے سجادہ نشین پیر فواد رضا زکوڑی اور سرکاری محکمہ جات کے سربراہان موجود تھے۔پی آئی اے کے حکام نے ڈیرہ ایئرپورٹ کی توسیعی منصوبے کے بارے میں بتایا کہ موجودہ ایئرپورٹ 1967 ؁ء میں قائم کیا گیا تھا۔ موجودہ صورتحال میں پی آئی اے کا چار سو سواریوں کی استطاعت رکھنے والا اے ٹی آر اور سی ون تھرٹی طیارہ یہاں سے آپریشن کر سکتا ہے اور بوئنگ طیاروں وبڑے جہازوں کی پروازوں کیلئے رن وے میں توسیع،فائر سٹیشن کوجدید سہولیات سے آراستہ بڑے جرنیٹر اور لاونچز و دفاتر کی تعمیر سمیت عملے و سہولیات میں اضافے کو یقینی بنایا جائے تو ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ موجودہ ایئرپورٹ کو فنکشنل کرنے اور اس کے ساتھ ایک جدید سہولیات سے آراستہ نیا ایئرپورٹ تعمیر کرنے کی سمری تیار کی جائے جبکہ وفاقی حکومت سے اس ضمن میں ابتدائی امور پر بات چیت مکمل ہو چکی ہے ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے فلائٹس روٹس کا تعین کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھے کہ جن جن علاقوں سے ڈیرہ کے عوام کے تجارتی مفادات وابسطہ ہیں اور وہاں کے آسان سفر کی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے اور روزانہ کے حساب سے کراچی،لاہور،فیصل آباد،ملتان،اسلام آباد ،پشاور،ژوب،کوئٹہ کی نیشنل اور ڈیرہ سے گوادر،مسقط،بحرین دبئی کی انٹرنیشنل پروازیں شروع کی جائیں اس سلسلے میں ڈیرہ سب سے زیادہ بزنس کرنے والا سٹیشن ثابت ہو گا ۔ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں محکمانہ سفارشات کی روشنی میں متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کے یارک ٹو رحمانی خیل سیکشن پر کام کا آغاز ہو چکاہے اور اس کی تعمیر کیلئے ابتدائی طور پر اس کے تمام سیکشنز پر کام جاری ہے۔اور پنیالہ رحمانی خیل اور یارک میں کیمپوں کی تعمیر کا کام مکمل ہو چکا ہے پنیالہ میں تعمیر ہونے والا کیمپ ریجنل کیمپ ہو گا اور اس کو کوریڈور کی تعمیر کے بعد بھی آپریشنل رکھا جائے گا ۔ان کا بتانا تھا کہ انشاء اللہ کوریڈور کے اس حصے پر کام اپنے وقت سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا ۔ان کا بتانا تھا کہ دو انٹر چینج پنیالہ کم عبدالخیل اور یارک انٹٹرچینج سمیت مختلف مقامات پر اوربرج تعمیر کئے جائیں گے جبکہ کوریڈور کے ساتھ سروس روڈ بھی تعمیر ہو گا ان کا بتانا تھا کہ اس کی تعمیر کے ساتھ ہی ڈیرہ کے لوگوں کو اسلام آباد کا صرف ڈہائی گھنٹوں کی مسافت پر ہو گا۔ان کا بتانا تھا کہ یارک ٹو مغل کوٹ سیکشن 181کلومیٹرپر رواں ماہ کے آخر میں کام کا آغاز متوقع پر مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ رحمانی خیل سے اس کوریڈور کو لکی مروت وکرک کیلئے بھی رسائی فراہم کی جائے اسی طرح پپلاں کڑی خیسور کے مقام پر ایک پل کی تعمیر کیلئے پنجاب حکومت سے بات چیت مکمل کر لی گئی ہے اور ہماری تجویز ہے کہ کڑی خیسور سے بھی رحمانی خیل کے راستے اس کی رسائی کوریڈور تک کی جائے انہوں نے محکمہ کو ہدایت کی کہ چونکہ کوریڈور کے راستے میں آنے والے تمام پہاڑ کچے ہیں اور منصوبے میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ تعمیر کے بعد بارشوں کی صورت میں بارشوں کا پانی یا پہاڑی تودے اس کو نقصان نہ پہنچا سکیں ۔مولانا فضل الرحمن کا بتانا تھا کہ ہماری تجویز ہے کہ رمک سے لیہ دریائے سندھ کے اوپر ایک پل تعمیر کیا جائے جس سے عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آسکیں گی۔اس پر ایم ایم اے دور میں کام مکمل کیا گیا تھا ۔مولانا فضل الرحمن کو ایریگیشن حکام نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایریگیشن سرکل ڈیرہ منظور ہو چکا ہے اور ان کا بتانا تھا کہ سی آر بی سی دوہزار دس کے سیلاب میں 19مقامات سے متاثر ہوئی تھی اور 2002 ؁ء کے بعد سے اب تک اس کی صفائی کے لئے فنڈز فراہم نہیں کئے گئے مین کینال کا انتظام ایک معائدے کے تحت واپڈہ کے پاس ہے اور واپڈہ نے آجتک اس کی صفائی و سالانہ مرمت پر توجہ نہیں دی جس کے باعث اس میں پانی کی روانی متاثر ہوئی ہے اور اور اب بھی اس میں اگر اس کے ڈیزائن کے مطابق پانی ڈالا جائے تو یہ ٹوٹ جائے گی جبکہ ابتدائی25کلومیٹر حصہ بھی اس قابل نہیں کہ اس میں 4879کیوسک پانی چھوڑا جائے ایریگیشن حکام نے بتایا کہ 3ارب روپے کی لاگت سے مارجنل بند کی ماڈل سٹڈی مکمل کر کے اس کاپی سی ون تیار کیا جا چکا ہے اور اس سلسلے میں وفاق نے پی سی ٹو میں اس پراجیکٹ کو ڈال دیا ہے مولانا فضل الرحمن نے یقین دہانی کروائی کہ وفاق سے اس ضمن میں بات کی جائے گی ۔مولانا فضل الرحمن کو گومل زام ڈیم جامعہ گومل اور مفتی محمود زرعی یونیورسٹی کے پراجیکٹس بارے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔جبکہ یارک کے مقام پر نئے تعمیر ہونے والے 220KWگرڈ سٹیشن کی ٹرانسمیشن لائن پر NTDCحکام نے بریف کیا اور بتایا کہ اس گرڈ کی مین ٹرانسمیشن لائن پریکم اکتوبر سے کام شروع کیا جائے گا اور مارچ2018 ؁ء میں کام مکمل کر لیا جائے گا مولانا فضل الرحمن نے تمام محکمہ جات کے سربراہان کو یقین دلایا کہ ڈیرہ کے مسائل کے لئے ان کی خدمات حاضر ہیں ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -