صوبے کی اجتماعی ترقی میں سوات موٹروے کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، پرویز خٹک

صوبے کی اجتماعی ترقی میں سوات موٹروے کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، ...

  

پشاور( پاکستان نیوز)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ صوبے کی اجتماعی ترقی میں سوات موٹروے کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس پراجیکٹ میں تاخیر ناقابل قبول ہے۔انہوں نے سوات موٹروے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کیں ۔اجلاس میں صوبائی وزیر محمد عاطف خان، وزیر خزانہ مظفر سید اورمشیر برائے مواصلات اکبر ایوب کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران شریک تھے ۔اجلاس میں سوات موٹر وے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا جس میں صوبائی حکومت کی طرف سے ادائیگیوں کا طریقہ کار ، فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو قرضہ کی فراہمی، آپریشنل سرگرمیوں، حادثات کی روک تھام کیلئے انٹی گلیئرز کی تنصیب ، موٹروے پر شجرکاری ، تجارتی سرگرمیوں اور موٹروے کی بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیراتی کام کے معیار کے حوالے سے غور وخوض ہو ا اور متعدد فیصلے کئے گئے اجلاس کو پریذینٹشن دی گئی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس منصوبے کے شرائط و ضوابط بھی ملک میں تعمیر ہونے وا لے اسی طرز کے دیگر منصوبوں کی طرح ہوں گے ۔ انہوں نے خود مختار انجینئرز اورآڈیٹرز کی تعیناتی کی منظور ی بھی دی ۔ اجلاس کے شرکاء کو مذکورہ پراجیکٹس کے مختلف اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا ۔ سوات موٹروے کا تخمینہ لاگت چالیں بلین روپے ہے جسے 2017تک مکمل کیا جائے گا ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ مذکورہ پراجیکٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ خود اسکی مانیٹرنگ کریں گے اس پراجیکٹ سے صوبے کا مستقبل وابستہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف صنعت و تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ صوبے کے تمام شمالی علاقہ جات کا دروازہ ملک کے دیگر حصوں کے لئے کھل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موٹروے ایم ون اور سوات ایکسپریس وے کے میلاپ سے یہ خطہ مستقبل کا تجارتی مرکز بن جائے گا جس سے وافر ذرائع آمدن اور بے روزگار افراد کو روزگار مہیا ہو سکے گا ۔ پرویز خٹک نے ہدایت کی کہ سوات ایکسپریس وے جو کہ ان کی حکومت کے اپنے ذرائع سے تعمیر ہو گی کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں ۔ انہو ں نے اس بات پر زور دیا کہ 2017ء اختتام تک سوات موٹروے مکمل ہونا چاہیے ۔ وزیر اعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں کو اس منصوبے پر بہتر انداز سے فوری کام کرنے اور دشواریاں دور کرنے کی بھی ہدایت کی ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوات موٹروے صوبائی حکومت کا منصوبہ ہے جو 81کلومیٹر طویل اور دو کلومیٹر ٹنل پر مشتمل ہے ۔وزیر اعلیٰ نے گزشتہ اجلاس میں ہدایت کی تھی کہ سوات موٹروے کے تمام چھ انٹرچینج میں ہر انٹرچینج پر تجارتی سرگرمیوں بس اڈہ ، پٹرول پمپ ، ریسٹورنٹ اوراور دیگر متعلقہ سہولیات فراہم کرنے کے لئے پانچ سوکینال تک اراضی حاصل کی جائے کیونکہ مستقبل میں یہ معاشی سرگرمیوں کامرکز بن جائے گا جس کیلئے اضافی اراضی کا حصول ضروری ہے ۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -