ہائیکورٹ بار ہال میں ملتان‘ ڈیرہ اور ساہیوال کے وکلاء کی جنرل باڈی کا اجلاس

ہائیکورٹ بار ہال میں ملتان‘ ڈیرہ اور ساہیوال کے وکلاء کی جنرل باڈی کا اجلاس

  

ملتان (خبر نگار خصوصی) ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن ملتان نے ہائیکورٹ ملتان بنچ کی حدودمیں کوئی تبدیلی نہ کرنے،لاہورمیں مقدمات دائرکرنے کو غیر قانونی قراردینے،ملتان بنچ کے مقدمات واپس بھجوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا(بقیہ نمبر6صفحہ12پر )

اعلان کیا ۔اس سلسلے میں گزشتہ روزوکلاء کی جانب سے دی گئی ریکو زیشن پرہائیکورٹ بار ہال میں ملتان، ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال کے وکلاء کی جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ہائیکورٹ بار ملتان کے سابق صدور، ممبران پنجاب بار کونسل اور تینوں ڈویڑنز کے ڈسٹرکٹ و تحصیل بارز کے صدور و اراکین نے شرکت کی اور متفقہ طور پر قرار دادیں منظور کیں کہ ساہیوال ڈسٹرکٹ کو قطعی طور ملتان بنچ سے علیحدہ کر کے پرنسپل سیٹ کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے جو کہ آئینی ،قانونی ، انتظامی اور علاقائی تشخص کے خلاف ہو گا بلکہ جنوبی پنجاب کے وکلاء اور عوام کی محرومیوں میں اضافے کا باعث ہو گا۔مزید برآں آئین یا کسی بھی متعلقہ قانون میں سائیلان کیلئے انصاف کے حصول کی خاطر سہولت ،پسند، خواہش یا فاصلوں کی بنیاد پر تحرک کرنے کے لئے ملتان بنچ کی مزید تقسیم خطرناک ہو گی مزید برآں مذکورہ الفاظ آئین یا دیگر کسی قانون میں موجود نہ ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی تعریف موجود ہے لہذا ہائیکورٹ ملتان بنچ کو بار بار تقسیم کرنے سے اور پرنسپل سیٹ کامزید حجم بڑھانے سے جنوبی پنجاب کے عوام اور وکلاء میں بے چینی پائی جاتی ہے جس سے آئندہ عدالت اور وکالت کا نظام غیر معمولی طور پر متاثر ہو گا۔نیز آج سے 36 برس قبل لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ آئینی اور قانونی طور پر عمل میں آیا تھا لہذا اس میں کسی طور بھی کوئی تبدیلی نہ کی جائے بلکہ ڈسٹرکٹ پاکپتن جو کہ قبل ازیں ملتان بنچ کا حصہ تھا اس کو بھی ملتان بنچ کے ساتھ منسلک کیا جائے۔اور ڈسٹرکٹ بھکر، جھنگ اور میانوالی کو ہائیکورٹ ملتان بنچ سے منسلک کیا جائے۔جبکہ ملتان بنچ سے منسلک تمام علاقوں کے سائیلان اور وکلاء کو پرنسپل سیٹ پر ڈائریکٹ مقدمات دائر کرنے کا عمل بھی غیر آئینی اور غلط ہو گا جسکو اس خطہ کے وکلاء اور سائلین اپنے حقوق کے خلاف کاروائی تصور کرتے ہیں۔اس طرح ملتان ،ساہیوال اورڈیرہ غازیخان ڈویژن کو علیحدہ سے قائم کیے گئے بنچ میں مقدمات کی پیروی کیلئے مشکلات درپیش ہیں اور اس حوالے سے ڈیرہ غازیخان ڈویڑن کے عوام اور وکلاء کو مرضی کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے جبکہ ان کا یہ حق ہے کہ وہ ملتان بنچ میں موجود تمام ججز کے پاس اپنے مقدمات کی پیروی کر سکیں۔ لہذا اس بارے میں نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔اور کمپنیز، لینڈ ریفارمز اور دیگر مقدمات جو پرنسپل سیٹ پر زیر تجویز ہیں انکو واپس ملتان بنچ میں فیصلوں کیلئے منتقل کیا جائے اور ڈسٹرکٹ جج کو 5 کروڑ تک کے مقدمات سنے جانے کے حوالے سے اختیار سماعت 2 کروڑ تک دیا جائے اور اس سے ذیادہ مالیت کے مقدمات کا اختیار واپس ہائیکورٹ کو دیا جائے۔اور ساہیوال کو ملتان بنچ سے علیحدہ کرنے کا عمل اس مرحلہ پر انصاف کی منصفانہ ، فوری عمل کو متاثر کرے گا۔اس طرح آئین کے آرٹیکل 198 کے مطابق ملتان بنچ میں ججز کی تعیناتی ایک سال سے کم عرصہ کیلئے نہ کی جائے اور اسی طرح ملتان بنچ کی تقسیم آئین کے آرٹیکل 198 کے تحت متعلقہ گورنمنٹ کی مشاورت ے بغیر نہ کی جا سکتی ہے‘ ان تمام قرارداد ہائے کی نقول چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، ججز لاہور ہائیکورٹ،چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، ججز سپریم کورٹ آف پاکستان اور گورنر پنجاب کو ارسال کی جائیں گی اور ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو سابق صدور، سینئر وکلاء ، ممبران پنجاب بار کونسل پر مشتمل ہو گی جو آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔قبل ازیں اجلاس میں صدر بار شیخ جمشید حیات ،سابق وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل میاں عباس احمداورمرزاعزیز اکبر بیگ ،ممبر پنجاب بارکونسل رانا عارف کمال نون،صدرڈسٹرکٹ بار ملتان عظیم الحق پیرزادہ ،سینئروکلاء اور ضلعی وتحصیل بارایسوسی ایشنز کے عہدیداران سید محمد علی گیلانی،عبدالستاگورایہ،حبیب اللہ شاکر،ملک حیدرعثمان،محمد عرفان وائیں،زوارحسین قریشی ،چوہدری سعید اختر،اسلم ڈھلوں،فاروق خان اورچوہدری ناصر جمال نے خطاب کرتے ہوئے مختلف تجاویز دیں۔

ہائیکورٹ بار

مزید :

ملتان صفحہ آخر -