ایڈیشنل ڈی جی ایم ڈی اے کے حکم پر ایمپلائز یونین سی بی اے کا آفس سیل

ایڈیشنل ڈی جی ایم ڈی اے کے حکم پر ایمپلائز یونین سی بی اے کا آفس سیل

  

ملتان (نمائندہ خصوصی) اے ڈی جی ایم ڈی اے نے ایمپلائز یونین سی بی اے ایم ڈی اے کا آفس سیل کر دیا اور یونین آفس (بقیہ نمبر25صفحہ12پر )

کا کمرہ ڈپٹی ڈائریکٹر انفورسمنٹ کو الاٹ کر دیا۔ گذشتہ روز ایمپلائز یونین نے رہنما اے ڈی جی کے اس اقدام کے خلاف بھی ڈٹ گئے۔ یونین آفس کو ڈی سیل کر کے کمہر پر قبضہ کر لیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر انفورسمنٹ کو بھی کمرے سے نکال دیا۔ پولیس کے پہنچنے پر صورتحال کنٹرول کر لی گئی اور ایم ڈی اے کے آفیسران اور یونین رہنماؤں کے درمیان تصادم ہونے ہوئے رہ گیا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے الطاف حسین ساریو کے خلاف نیب اور انسداد رشوت ستانی ملتان کے ادارے میں انکوائری ہو رہی ہیں۔ ایک درخواست کا مدعی صدر ایمپلائز یونین سی بی اے ایم ڈی اے اصغر رفیع کھادل اور نیب میں جاری انکوائری کا مدعی صدر ایمپلائز یونین سی بی اے پی ایچ اے غفار احمد شاہد ہے۔ ان دونوں درخواستوں میں الطاف حسین ساریو کے انتظامی معاملات اور مالی کرپشن کی نشاندہی کئی گئی۔ دونوں درخواستوں کی کارروائی آگے بڑھنے پر ایم ڈی اے انتظامیہ نے پہلے اصغر ریفع کھادل پر دائر کیا۔ شاہ ولی کی قیادت میں ایک اور دھڑا کر دیا گیا اور ایمپلائز یونین کے عہدیداران اور اراکین کو شاہ ولی کے دھڑے میں شمولیت کا حکم دیا گیا۔ لیکن ایمپلائز یونین سی بی اے کے اراکین کے اکثریت نے اس حکم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سی بی اے یونین پی ایچ اے غفار احمد شاہد پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک ریفرنس تیار کرکے نیب ملتان ریجن کو بھجوا دیا گیا۔ ہفتہ کے روز ایمپلائز یونین سی بی اے کے آفس کو غیر قانونی قرار دیکر سیل کر دیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر انفورسمنٹ کو یہ کمرہ الاٹ کر دیا۔ ان کے اس اقدام پر یونین سراپا احتجاج بن گئی۔ گذشتہ روز جب یونین رہنما اپنے آفس پہنچے تو آفس کو سیل پایا۔ جس پر انہوں نے فوری طور پر آفس کے سیلیں توڑ کر اپنے کمرہ پر قبضہ کر لیا۔ اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر ایم ڈی اے حکام نے فوری طور پر لینڈ کنٹرول آفیسر اکرام بلوچ پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ پہنچ گئے اور یونین رہنماؤں سے کمرہ خالی کرنے کا حکم دیا۔ جوکہ یونین رہنماؤں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر اے ڈی جی الطاف حسین ساریو بھی موقع پر پہنچ گئے۔ لیکن یونین عہدیداروں نے انہیں کھری کھری سنا دیں۔ جس پر وہ فوری واپس چلے گئے۔ اسی دوران جب پولیس نے کمرہ خالی کرنے پر زور دیا تو ماحول میں تلخ ہوگیا اور تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ لیکن فریقین افہام و تفہیم کا مظاہرہ کیا۔

سیل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -