امداد علی ذہنی مریض، قانون کے مطابق پھانسی نہیں ہو سکتی، ڈاکٹر اظہر

امداد علی ذہنی مریض، قانون کے مطابق پھانسی نہیں ہو سکتی، ڈاکٹر اظہر

  

ملتان (وقائع نگار) پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی کے عہدیدران نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ جیل وہاڑی میں پھانسی کا منتظر قیدی امداد علی ذہنی مریض ہے اور ماہر نفسیات اسے باقاعدہ ذہنی(بقیہ نمبر29صفحہ12پر )

مریض قرار دے چکے ہیں۔ اسکی پھانسی سے دنیا بھر میں پاکستان کا امیچ خراب ہوگا۔ ماہر تعینات ڈاکٹر اظہر حسین نے ڈاکٹر علیزہ اظہر، ڈاکٹر ایمن عبدالباسط اور ڈاکٹر کنیز فاطمہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وہاڑی جیل میں قید امداد علی نے 2001 میں مدرسے کے معلم عبداللہ چشتی کو اس لیے قتل کر دیا تھا کہ معلم اسکی داؤں کو آسمان پر جانے سے روکتا ہے۔ اس بنیاد پر قتل محض ایک ذہنی، نفسیاتی مریض اور پاگل ہی کر سکتا ہے۔ قانون کے مطابق کسی پاگل کو پھانسی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ امداد علی کا والد بھی ذہنی مریض تھا۔ جب امداد علی کی عمر دو سال تھی۔ تو اس کے والد نے ٹرین کے آگے چھلانگ لگا دی تھی اور اسکی موت واقع ہوگئی۔ ڈاکٹر اظہر نے کہا کہ اس وقت انصاف کہاں تھا۔ جب ریمنڈڈیوس سب کیسامنے قتل کر کے پاکستان سے باعزت چلا گیا۔ کیا حکومت اور عدالتیں اس وقت سو رہی تھیں۔ پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی نے اعلیٰ حکومتی شخصیات سیا مداد علی کی پھانسی رکوانے کیلئے کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر اظہر حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن میرے کلاس فیلو ہیں ۔ امداد علی کی پھانسی رکوانے کیلئے ان سے رابطہ کی کوشش کی ہے۔

ڈاکٹر اظہر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -