سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت، آئی جی اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے تفصیلی رپورٹ طلب، وزارت داخلہ اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹسز جاری

سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت، آئی جی اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے ...
سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت، آئی جی اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے تفصیلی رپورٹ طلب، وزارت داخلہ اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹسز جاری

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں آئی جی اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت کی جانب سے وزارت داخلہ اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹسز جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی گئی ہے اور کیس کی سماعت 4 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ کوئٹہ سے متعلق ازخودڈ نوٹس کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی جس دوران ایک وکیل نے اپنے بیان میں کہا کہ سانحہ کے بعد ہسپتال میں طبی سہولیات ناکافی تھیں اور ہسپتال میں پٹیاں تک موجود نہ تھیں جس کے باعث زخموں کو ڈھانپنے کیلئے وکلاءکی ٹائیاں استعمال کی گئیں۔ وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ سانحہ کوئٹہ کے بعد ہسپتال میں کوئی سہولت نہیں تھی اور اگر زخمیوں کو فوری سہولت مل جاتی تو کئی وکلاءکی جان بچ جاتی اور نقصان کم ہوتا۔ اس موقع پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دئیے کہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی تعداد کم تھی اور سب سے المناک بات یہ ہے کہ زخمیوں کو اٹینڈ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئٹہ میں امن و عامہ کی صورتحال کافی عرصے سے خراب ہے۔ دیکھنا ہو گا واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے گئے۔

حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور سانحہ کوئٹہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس پر عدالت نے آئی جی بلوچستان کو واقعے سے متعلق جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔ آئی جی بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ حساس ادارے تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے، عدالت ان اداروں کو ہدایات جاری کرے۔ اس موقع پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ عدالت کو یہ بتائیں کہ واقع کے وقت پولیس وہاں موجود تھی؟ اور حملہ آور کو روکا کیوں نہیں؟ تو آئی جی بلوچستان نے کہا کہ بلال کاسی کے قتل کے بعد پولیس کو وہاں بھیج دیا گیا تھا۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

حامد خان نے ریکارڈں میں ردوبدل ہونے کا شک ظاہر کرتے ہوئے عدالت سے ریکارڈ سیل کرنے کی درخواست جسے منظور کرتے ہوئے واقعے کی تفتیشی رپورٹ کو سیل کرنے کا حکم دیدیا گیا۔ عدالت نے سیکرٹری کو تمام ہسپتالوں میں ٹراما سینٹر فعال کرنے، ہسپتالوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے آئی جی اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ واقعے کی تحقیقات کرنا وفاقی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے اس لئے اٹارنی جنرل اور وزارت داخلہ کو بھی نوٹسز جاری کئے گئے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور انتظامیہ سانحہ کوئٹہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اب تک کوئی ملزم سامنے نہیں آیا، گرفتاریاں نہیں ہوئی اور کوئی رپورٹ نہیں آئی،سپریم کورٹ سے صوبائی اور مرکزی حکومت کو کٹہرے میں لانے کا کہا ہے۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -