حکومت نے وزیر اعظم کا کابینہ کو بائی پاس کرنے کا اختیار کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی

حکومت نے وزیر اعظم کا کابینہ کو بائی پاس کرنے کا اختیار کالعدم قرار دینے کے ...
حکومت نے وزیر اعظم کا کابینہ کو بائی پاس کرنے کا اختیار کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) حکومت نے وزیر اعظم کی جانب سے کابینہ کو بائی پاس کرنے کے اختیار کیخلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کردی ۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے جس میں سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کی جانب سے کابینہ کو بائی پاس کرنے کا اختیار کالعدم قرار دیا گیا تھا ۔درخواست میں وزیر اعظم کے اختیارات بحال کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے ۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

یاد رہے 18اگست کو جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے وزیر اعظم کے کابینہ کو بائی پاس کرنے کے اختیار کالعدم قرار دینے کیلئے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وزیر اعظم کی جانب سے لیوی کے نفاذکیخلاف 80صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا تھا جس میں وزیر اعظم کے اختیار کو کالعدم قرار دیا گیا تھا ۔عدالت نے موبائل فون کمپنیوں اور ٹیکسٹائل مصنوعات پر لگائے گئے لیوی کے نفاذ کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے لیوی ٹیکس میں اضافے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیدیا۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئندہ کوئی بل یا آرڈیننس کابینہ کی منظوری کے بغیر جاری نہیں کیا جا سکتا۔بجٹ اور صوابدیدی اختیارات وزیرا عظم تنہا استعمال نہیں کر سکتے اور کابینہ کو قانون سازی سے قبل جائزے کیلئے مناسب وقت دیا جائے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ٹیکس میں کمی یا اضافے کا اختیار وفاقی حکومت کو ہے ، وزیر اعظم وفاقی کابینہ کو بائی پاس نہیں کر سکتے۔”وزیر اعظم، سیکرٹری اور وفاقی وزیر اپنے طور پر حکومت نہیں ہیں“۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -