مہاجرین کو باندھ کرافغان حکومت کے حوالے کرنا دانشمندی نہیں ہوگی : سراج الحق

مہاجرین کو باندھ کرافغان حکومت کے حوالے کرنا دانشمندی نہیں ہوگی : سراج الحق
مہاجرین کو باندھ کرافغان حکومت کے حوالے کرنا دانشمندی نہیں ہوگی : سراج الحق

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ مہاجرین کے ہاتھ پاوں باندھ کرافغان حکومت کے حوالے کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے افغانستان کیلئے ایک ارب ڈالر امداد کا اعلان کردیاہے۔ہمیں افغانستان اور دیگر ممالک کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنی چاہئے۔پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی 35 سالہ خدمات پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مہاجرین کے ہاتھ پاو¿ں باندھ کرافغان حکومت کے حوالے کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان سمیت اپنی خارجہ پالیسی کو وزٹ کرناچاہیے ۔ امریکی مفادات کے تحت بننے والی خارجہ پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے ۔ افغان مہاجرین کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر انہیں افغان حکومت کے حوالے کرنا دانشمندی نہیں ہے ۔ موجودہ پالیسی 35 سالہ خدمات پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اسلام آباد میں افغان امور کے مشیر شبیر احمد خان سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہاکہ ایک طرف انڈین آر می پاکستان کے مشرقی بارڈر پر مسلسل جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہے اور دوسری طرف ہماری خارجہ پالیسی کے بزرجمہروں کی وجہ سے ہمارا مغربی بارڈر بھی گرم بارڈر میں تبدیل ہو گیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ ساٹھ سالوں میں ہمیں جس بارڈر پر کبھی ایک پولیس مین کی بھی ضرورت نہیں پڑی وہاں اب دو لاکھ فوج کی تعیناتی اور بارڈر پر مسلسل کشیدگی نے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کر دیاہے جس پر پالیسی سازوں کی عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتاہے ۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ دوستی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں ۔تعلیمی اداروں سے افغان طلبہ کو نکالنے سے ان کی تعلیم پر بہت منفی اثرات پڑرہے ہیں ۔ افغان مہاجرین کے حوالے سے موجودہ پالیسی نے نہ صرف مہاجرین کی مشکلات میں اضافہ کر دیاہے بلکہ یہ پالیسی پاکستان کے خلاف ان کے دلوں میں ایک نفرت کا بیج بونے کا بھی سبب بنی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت افغانستان جو پاکستانی تجارت کے لیے قریب ترین مارکیٹ ہے ، اس پالیسی کی وجہ سے اس پر انڈیا قابض ہوچکاہے ۔

خیبرپختونخوا حکومت کاایس ایس ڈی فورس کو سی پیک روٹ پر محدود اختیارات دینے کا فیصلہ

سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ خارجہ پالیسی وقتی حادثات پر نہیں بلکہ یہ ملکوں اور قوموں کے درمیان باہمی مفادات کی بنیاد پر بنتی ہے ۔ افغانستان کے حوالے سے پالیسی سازی کے لیے کبھی بھی حکومت نے قومی نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان پالیسی پر فوری طور پر نظر ثانی کی جائے اور قومی مفادات کو بھارتی خواہشات کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔

مزید :

قومی -