ایم کیو ایم پر پابندی ،کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے ،حکومت کا موقف ،تحریری جواب داخل کریں ،ہائی کورٹ کا ایم کیو ایم اور وفاق کوحکم

ایم کیو ایم پر پابندی ،کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے ،حکومت کا موقف ،تحریری ...
ایم کیو ایم پر پابندی ،کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے ،حکومت کا موقف ،تحریری جواب داخل کریں ،ہائی کورٹ کا ایم کیو ایم اور وفاق کوحکم

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )وفاقی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کوآگاہ کیا ہے کہ الطاف حسین کی تقریر کے بعد حکومت ایم کیو ایم کے معاملہ پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ایم کیو ایم کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن منسوخی کی درخواست پر فیصلہ کرنا یا نہ کرنا حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے، اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا، سرکاری وکلاءنے یہ موقف ایم کیو ایم پر پابندی کے لئے دائر آفتاب ورک ایڈووکیٹ کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کے روبرو اختیار کیا جس کے بعد فاضل جج نے ایم کیو ایم کی قیادت اوروفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمہ مزید سماعت کے لئے عدالت عالیہ کے فل بنچ کو بھجوا دیا ۔چیف جسٹس نے آفتاب ورک ایڈووکیٹ کی طرف سے ایم کیو ایم کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن منسوخی اور ایم کیو ایم کے عہدیداروں کے خلاف غداری کے مقدمات درج کرنے کی درخواست پر سماعت شروع کی تودرخواست گزار کے وکلاءنے موقف اختیار کیا کہ الطاف حسین نے پاکستان مخالف نعرے لگوائے اور تقاریر کیں جس میں پوری کی پوری ایم کیو ایم ملوث ہے، ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کے لئے وزارت داخلہ کو درخواست دی مگر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، انہوں نے استدعا کی کہ وزارت داخلہ کوایم کیو ایم کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن منسوخی کی درخواست پر فیصلے کا حکم دیا جائے، وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل حنا حفیظ اللہ خان اور سٹینڈنگ کونسل مرزا نصر نے موقف اختیار کیا کہ یہ درخواست موصول ہو گئی ہے تاہم ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ،انہوں نے موقف اختیار کیا کہ قانونی طور پر حکومت پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی ہے کہ وہ مخصوص مدت میں کسی درخواست پر فیصلہ کرے، کسی بھی درخواست پر فیصلہ کرنا یا نہ کرنا حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے، ایم کیو ایم کا معاملہ سیاسی ہے اور حکومت اس مسئلے کا پہلے ہی جائزہ لے رہی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ اسی نوعیت کی پہلے بھی درخواستیں لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواءہیں جن پر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں فل بنچ کارروائی کر رہا ہے، چیف جسٹس نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد اس درخواست میں جواب داخل کرانے کے لئے ایم کیو ایم اوروفاقی حکومت کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے درخواست لارجر بنچ کو بھجوا دی جو 5اکتوبر کو اس کیس کی سماعت کرے گا۔

مزید :

لاہور -