لاپتہ بچوں کے کیس میں سرکاری کارکردگی رپورٹ طلب ،ہائی کورٹ نے انسانی اعضاءکی غیر قانونی پیوند کاری روکنے کے لئے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی

لاپتہ بچوں کے کیس میں سرکاری کارکردگی رپورٹ طلب ،ہائی کورٹ نے انسانی ...
 لاپتہ بچوں کے کیس میں سرکاری کارکردگی رپورٹ طلب ،ہائی کورٹ نے انسانی اعضاءکی غیر قانونی پیوند کاری روکنے کے لئے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے لاپتہ بچوں کی بازیابی کے حوالے سے پنجاب حکومت سے کارکردگی رپورٹ طلب کر لی ہے ۔عدالت نے طلبا و طالبات کو تعلیمی اداروں تک لانے لیجانے والی بسوں اور ویگنوں میں سیکیورٹی گارڈز کی تعیناتی اور ان گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی رجسٹریشن کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کی رپورٹ بھی آئندہ تاریخ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔فاضل جج نے انسانی اعضاءکی غیر قانونی پیوند کاری کی روک تھام کے لئے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کمیٹی کوسفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے ۔عدالت نے لاپتہ بچوںاور بازیاب کرائے گئے بچوں کی میڈیا پر تشہیر کے ذریعے ان کے والدین تک پہنچانے کے لئے پیمرا اور پی ٹی وی کو بھی نوٹس جاری کردئیے ہیں۔فاضل عدالت نے پولیس کو گزشتہ پانچ سالوں میں بازیاب کرائے گئے 6 ہزار 809بچوں کے کوائف اور 146لاپتہ بچوں کی تمام تر معلومات چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے بچوں کی بحالی کے لئے اقدامات کی ہدایت کر دی.۔گزشتہ روز سرکاری وکیل نے پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ سال 2011 سے سال 2016 ءکے دوران 7ہزار 36بچوں کی گمشدگی رپورٹ ہوئی ۔جن میں سے 6 ہزار 809 بچے بازیاب کرا لئے گئے جبکہ 146بچے تاحال لاپتہ ہیں جن کی بازیابی کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر فیصل مسعود نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ پنجاب کے بااثر افراد کے نجی اداروں میں بڑے پیمانے پر انسانی اعضاءکی غیر قانونی پیوند کاری کا سلسلہ جاری ہے،اس حوالے سے متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کے علم میں ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جاتی جس پر عدالت نے قرار دیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان انسانی اعضاءکی پیوند کاری کا بڑا مرکز ہے مگر اس پر متعلقہ اداروں کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے،محکمہ تعلیم کے افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سکول کی بسوں میں گارڈز کی تعیناتی کانوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیاہے جبکہ سکولوں کی بسوں اور ڈرائیورز کی رجسٹریشن کرنے کے لئے پنجاب بھر کے تمام سکولوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری کی روک تھام اور بازیاب کرائے گئے بچوں کی بحالی کے لئے ڈاکٹر فیصل مسعود کی سربراہی میں سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری تعلیم ، اے آئی جی سپیشل برانچ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ احکام پرمشتمل اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کمیٹی سے ایک ماہ میں سفارشات طلب کرلی ہیں، فاضل عدالت نے ہدایت کی کہ چیف سیکرٹری پنجاب اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس میں تمام افسران کی شرکت کو یقینی بنائیں۔اس کیس کی مزید سماعت 27اکتوبر کو ہوگی ۔

مزید :

لاہور -