سانحہ ماڈل ٹاﺅن ،وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سمیت حکومتی شخصیات کے خلاف استغاثہ میں 56گواہوں کے بیانات مکمل

سانحہ ماڈل ٹاﺅن ،وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سمیت حکومتی شخصیات کے خلاف استغاثہ ...
سانحہ ماڈل ٹاﺅن ،وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سمیت حکومتی شخصیات کے خلاف استغاثہ میں 56گواہوں کے بیانات مکمل

  

لاہور(نامہ نگار)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف سمیت دیگر حکومتی شخصیات کے خلاف کارروائی کے لئے استغاثہ پر عوامی تحریک کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا عمل مکمل کرلیاہے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے روبرو عوامی تحریک کے استغاثے پر سماعت شروع کی تو عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈ ا پور عدالت میں پیش ہوئے.۔ خرم نواز گنڈاپور نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور بتایا کہ 15جون کو رات 8بجے حکومت نے بیرئر ہٹانے کے لئے مشینری بھیجی اور اس طرح طاہر القادری کو پاکستان آنے سے روکنے اور آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا پیغام دیا گیا۔خرم نواز گنڈا پور نے یہ بھی بتایا کہ وزیر داخلہ سمیت وفاقی وزرا کو اس صورتحال سے آگاہ کیا اور حالات کو کنٹرول میں کرنے کا اقدامات اٹھانے کا درخواست کی.۔ عوامی تحریک کے رہنما کے بقول پرویز رشید کی جانب سے جواب دیا گیا کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے، خرم نواز گنڈاپور نے دعوی کیا کہ حکومتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوامی تحریک کی بے زورگاری کے خلاف تحریک کو کچل دیا جائے گا۔ استغاثہ میں عوامی تحریک کی جانب سے آخری گواہ کی حیثیت سے بیان ریکارڈ کرایا۔عوامی تحریک کے وکیل نے بتایا کہ اب تک 56 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں۔ رائے بشیر اور خرم نواز گنڈا پور نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عدالت سے انصاف کی امید ہے، استغاثہ پر مزید کارروائی 19اگست کو ہوگی۔

مزید :

لاہور -