اقوام متحدہ میں اوباما کا خطاب، جاتے جاتے کئی اہم مسئلوں پر ’یوٹرن‘کی پالیسی اپنالی

اقوام متحدہ میں اوباما کا خطاب، جاتے جاتے کئی اہم مسئلوں پر ’یوٹرن‘کی ...
اقوام متحدہ میں اوباما کا خطاب، جاتے جاتے کئی اہم مسئلوں پر ’یوٹرن‘کی پالیسی اپنالی

  

نیویارک (عثمان شامی سے) اقوام متحدہ جنرل سمبلی کی ’جنرل ڈیبیٹ‘ کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس دوران دنیا بھر سے سربراہان مملکت یا اُن کے منتخب کردہ نمائندے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہیں، گزشتہ روز سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ 26 ستمبر تک جاری رہے گا۔ پہلے روز امریکی صدر باراک اوباما کی تقریر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز رہی، یہ بطور امریکی صدر باراک اوباما کا جنرل اسمبلی سے آخری خطاب تھا۔

گزشتہ برس کے مقابلے میں شام کی صورتحال کے بارے میں اُن کے مؤقف میں بڑی واضح تبدیلی آئی ہے۔ گزشتہ برس امریکی صدر نے اسی جنرل اسمبلی میں کھڑے ہوکر بڑے دوٹوک انداز میں اعلان کیا تھا کہ شامی صدر بشارالاسد کو جانا ہوگا، جس کے ردعمل میں روسی صدر پیوٹن نے بھی دھواں دھار انداز میں بشارالاسد کی حمایت کا واضح اعلان کیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بشارالاسد واحد آدمی ہیں جو داعش سے بھرپور جنگ لڑرہے ہیں، انہیں ہٹانا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ اس مرتبہ روسی صدر پیوٹن نے کئی روز پہلے ہی جنرل اسمبلی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی صدر کا لب ولہجہ بدلا ہوا نظر آیا کہ تازہ خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا شام کی خانہ جنگی سمیت تمام تنازعات کا حل طاقت کے زور پر نہیں بلکہ سفارتی کوششوں کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ شدت پسندی اور فرقہ واریت کی جس آگ نے مشرق وسطیٰ کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، اسے جلد بجھانا ممکن نہ ہوگا۔ گزشتہ ایک برس کے دوران امریکی مؤقف میں اس تبدیلی کو اپنے اہداف کی حصولی میں ناکامی بھی کہا جاسکتا ہے اور حقیقت کا اعتراف بھی کہ روس نے شامی حکومت کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بشارالاسد کو بال بال بچالیا ہے۔ تاہم امریکہ اور روس کے درمیان حال ہی میں ہونے والا امن معاہدہ شامی فوجیوں پر امریکی حملے کے بعد دم توڑ چکا ہے، اب امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر عروج پر ہے۔

باراک اوباما نے جاتے جاتے ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک مرتبہ پھر چوٹ لگائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیوار بنا کر اپنے معاشرے کو شدت پسندی سے محفوظ بنالیا جائے، یہ کام کرنے کیلئے دنیا بے حد چھوٹی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدارتی امیدوار بار بار امریکی سرحد پر دیوار بنا کر غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کا راستہ روکنے کے ’عزم‘ کا اظہار کرچکے ہیں۔

اپنے دورِ صدارت کے اختتام پر صدر اوباما اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو مشورہ بھی دے گئے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر فلسطینی تشدد کو ترک کرکے اسرائیل کو ریاست تسلیم کرلیں اور اسرائیل یہ ادراک کرلے کہ وہ ہمیشہ کیلئے فلسطینی زمین پر قبضہ نہیں کرسکتا تو یہ دونوں کیلئے بہتر ہوگا۔ صدر اوباما کا یہ ’مشورہ‘ یقینا بے حد اہم ہے اور اُن کا اقوام متحدہ کے فورم پر کھڑے ہوکر اسرائیلی قبضے کا اعتراف کرنا بھی ایک تاریخی قدم ہے لیکن یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اوباما آٹھ برس تک امریکی صدر رہے،ا گر وہ واقعی میں چاہتے تو اس مسئلے کے حل کیلئے اس بیان بازی سے بڑھ کر بہت کچھ کرسکتے تھے۔

صدر اوباما نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا گلوبلائزیشن کے نتیجے میں دنیا میں بہت سے مسائل کھل کر سامنے آئے ہیں، اگر ان پر توجہ نہ دی گئی تو اثر اُلٹا یہ پڑے گا کہ دنیا قریب آنے کی بجائے مزید تقسیم ہوجائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اپنے دور حکومت میں اُنہوں نے امریکہ کے تاریخی مخالفین ممالک جیسے کہ کیوبا اور میانمار سے دوبارہ روابط قائم کرنے کی کوشش بھی اسی فلسفے کے تحت کی۔

دوسری جانب گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف کی مصروفیت قدرے کم رہی۔ انہوں نے جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے اور ترک صدر طیب اردگان سے ون ٹو ون ملاقات کی اور مہاجرین پر لیڈرز سمٹ سے خطاب بھی کیا۔ نیویارک کے وقت کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر آج دوپہر ایک سے دو بجے کے درمیان متوقع ہے جس میں وہ عالمی دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کی طرف دلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ بھارتی سفارتی حلقوں کو بھی اُن کی تقریر کا شدت سے انتظار ہے۔

اقوام متحدہ کے اجلاس سے ہٹ کر امریکا میں ایک حالیہ پیشرفت ایسی بھی ہے جسے پاکستان کے لئے خاصہ باعث تشویش کہا جا سکتا ہے . ہفتے کی رات نیو یارک میں ہونے والے 'پریشر ککر ' دھماکے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، یہ احمد خان راحامی نامی افغان نژاد امریکی بتایا جاتا ہے. امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی پاکستانی ہے جس کا تعلق کوئٹہ سے ہے، چند سال قبل پاکستان کے دورے کے دوران اس نے اس سے شادی کی، بیگم کو بھی امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ سے پاکستان جاتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں گرفتار کر لیا گیا ہے . احمد خان کے ہمسایوں کا کہنا ہے کہ چند برس پہلے افغانستان اور پاکستان میں اس نے قریبا ایک برس قیام کیا اور واپس آیا تو زیادہ مذہبی ہوچکا تھا. معاملے کی حقیقت کیا ہے، ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں لیکن امریکی صدارتی انتخابات کے اس قدر قریب ایسا واقعہ اور اس میں پاکستان کا نام آنا بے حد تشویشناک ہے ، خاص طور پر جب امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی ساری انتخابی مہم ہی دیگر ممالک سے آکر امریکہ میں بسنے والوں کے خلاف نفرت پر مبنی ہے . اس واقعہ سے بھی وہ فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں ، اور بیشتر سروے رپورٹس کے مطابق اب ان کے اور ہیلری کلنٹن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے، چند ہفتے قبل تک ہیلری کو جو برتری حاصل تھی بظاھر اب وہ ختم ہوچکی ہے.

مزید :

بین الاقوامی -اہم خبریں -