”اس بندے نے ہمارا ملک تباہ کردیا ہے“ مودی کے خلاف بھارت میں زوردار آواز اٹھ گئی

”اس بندے نے ہمارا ملک تباہ کردیا ہے“ مودی کے خلاف بھارت میں زوردار آواز اٹھ ...
”اس بندے نے ہمارا ملک تباہ کردیا ہے“ مودی کے خلاف بھارت میں زوردار آواز اٹھ گئی

  

اوٹاوا (نیوز ڈیسک)بھارت میں عدم برداشت اور شدت پسندی پہلے بھی کچھ کم نہ تھی مگر وزیراعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ برائیاں نئی انتہاﺅں کو چھونے لگی ہیں۔ بھارت کی جانب سے اپنے مکروہ چہرے پر پردہ ڈالنے کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن بالآخر عالمی برادری اور خصوصاً بین الاقوامی شہرت رکھنے والے دانشوروں نے بھی اسے شدت پسندی اور عدم برداشت کا گڑھ قرار دے دیا ہے۔

ویب سائٹ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق مصنفین کے عالمی گروپ پین انٹرنیشنل نے حال ہی میں ایک سروے کیا جس میں مصنفین، وکلائ، سماجی کارکنوں، صحافیوں اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے دانشوروں سے بھارت کے بگڑتے ہوئے سماجی و سیاسی حالات کے متعلق رائے لی گئی۔ سروے کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی دانشوروں کی بھاری اکثریت کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں بھارت میں عدم برداشت اور خصوصاً اقلیتوں کے استحصال کا مسئلہ شدت پکڑگیا ہے۔ آزادی اظہار رائے کو دبانے کے لئے ہتک عزت، بغاوت پر اکسانے اور دیگر ایسے قوانین کا غلط استعمال افراد، گروہوں اور حتیٰ کہ ریاست کی جانب سے بھی کیا جارہا ہے۔

پین کینیڈا اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے شعبہ قانون کے تعاون سے کئے گئے اس سروے میں دانشوروں کی اکثریت کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کے مبہم قوانین اور نقائص سے بھرپور نظام قانون کی وجہ سے اقلیتوں کا استحصال بہت آسان اور عام ہوچکا ہے اوربھارتی معاشرہ بھی اس پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔ برطانوی دور کے قوانین کو استعمال کرتے ہوئے اختلاف رائے رکھنے والے کسی بھی شخص کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور حتیٰ کہ عمر قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اقلیتوں اور کمزور طبقات کے بعد اب بے انصافی اور مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے صحافیوں اور دانشوروں کو بھی بالواسطہ اور براہ راست دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ہندو شدت پسند گروپوں کی جانب سے متعدد صحافیوں اور دانشوروں کو جان سے ماردینے کی دھمکیاں بھی دی جاچکی ہیں۔ رپورٹ میں اس تشویشناک امر کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ بھارتی ریاست شدت پسندی اور عدم برداشت پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی تو کیا کرے گی، ان عناصر کا نوٹس تک نہیں لیا جا رہا۔

مزید :

بین الاقوامی -