بے گناہ صحافیو ں کی گرفتاری پر احتجاج

بے گناہ صحافیو ں کی گرفتاری پر احتجاج
بے گناہ صحافیو ں کی گرفتاری پر احتجاج

  

آج سے تین سال قبل پاسپورٹ آفس گوجرانوالہ کے ملازمین کی طرف سے سائلین کو پریشان کئے جانے کی شکایات موصول ہوئیں۔

گوجرانوالہ کے نمائندہ صحافیوں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن اینڈ پاسپورٹ آفس سے ملاقات کی اور صورتِ حال سے آگاہی چاہی ۔ وہاں بات تُوتکار اور ہاتھا پائی تک جا پہنچی ۔ یہ نہایت افسوس ناک واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔دونوں طرف پڑھے لکھے اور سلجھے لوگ تھے۔ تُو تکار اور ہاتھا پائی کا عمل دونوں جانب سے قا بلِ مذمت ہے۔ خیر دونوں جانب سے مقدمات کا اندراج کروا دیا گیا۔ واقعہ کو تین سال گزر گئے۔ تین سال کے بعد گوجرانوالہ پولیس نے دو صحافیوں کے گھروں میں ریڈ کر کے تنگ کرنا شروع کر دیا۔ سید مصباح الحسن شاہ اور محمد ندیم کمبوہ نے تنگ آکر عبوری ضمانت کروا ئی اور شاملِ تفتیش ہوگئے۔ یہ دونوں صحافی چھوٹے اخبار ات سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پولیس اہلکاروں نے اُنہیں ہی تنگ کیا، جبکہ بڑے صحافی، جو اس ایف آئی آر میں نامزد تھے، ان سے ہر روز ملاقات کے باوجود اس معاملے پر بات تک نہیں کی۔

خیر یہ دونوں صحافی تر نوالہ ثابت ہوئے اور دھر لئے گئے۔ دورانِ تفتیش ثابت ہوا کہ یہ دونوں صحافی بے گناہ ہیں، موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔کسی سی سی ٹی وی کیمرے یا موبائل ٹاور نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ موقع پر موجود تھے۔ بعد ازاں گواہ بھی منحرف ہوگیا جس کی بنیاد پر ان دونوں صحافیوں کو تفتیشی آفیسر نے بے گناہ لکھ دیا۔۔۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، ابھی دلچسپ بات آگے ہے ۔۔۔پھر ہوا یوں کہ کچھ لوگ خوف زدہ ہوگئے۔ اصل کردار سامنے آنا ضروری ہو گئے تھے، لہٰذا راتوں رات تفتیش تبدیل کرکے سی آئی اے کے ایک انسپکٹر کو دے دی گئی۔ معمولی سی ہاتھا پائی اور تُو تکار کے واقعہ میں دہشت گردی کی دفعات شامل کر دی گئیں۔ دونوں کو باقاعدہ گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ کہ یہ سب کچھ وقوعہ کے تین سال بعد کیا گیا ہے، جب مدعی اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کاتبادلہ بھی ہوچکا ہے۔ خیر ان بے گناہ صحافیوں کی گرفتاری کے بعد گوجرانوالہ کی نمائندہ صحافتی تنظیموں نے انگڑائی لی۔ پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر افتخار علی بٹ (چیف رپورٹر روز نامہ ’’پاکستان‘‘ لاہور، گوجرانوالہ بیورو) اور فیض رسول چغتائی سیکرٹری جنرل و بیورو چیف ’’مساوات‘‘ نے پولیس حکام سے ملاقاتیں کیں اور حقائق سے آگاہ کیا۔

وہاں سے اُنہیں یقین دلایا گیا کہ ان بے گناہوں کو ’’سزا‘‘ کے لئے آگے نہیں بھیجا جائے گا مگر عملاً اس کے بر عکس ہوتا گیا۔ ’’وہی نادیدہ ہاتھ‘‘ پھر ہاتھ کرگئے۔ بااثر لوگوں کو بچانے کے لئے ان کو ہی قربانی کے بکرے کے طور پر بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی جانے لگی جس پر ’’پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن‘‘کے صدر افتخار علی بٹ نے اپنی کابینہ سے مشاورت کے بعد سی پی او اآفس کے باہر احتجاج کی کال دے دی۔

نمائندہ صحافیوں اور تنظیموں نے احتجاجی کال پر لبیک کہتے ہوئے شمولیت کا اعلان کر دیا۔ احتجاج کو روکنے کے لئے کوششیں کی جانے لگیں۔ ادھر سے بے گناہوں کو بے گناہ قرار دے کر رہا کرنے کی شرط عائدکر دی گئی۔ مصباح اور ند یم کو بے گناہ قرار دیتے تو پھر گرفتارکسے کرتے؟ خیر احتجاج ہوا، گوجرانوالہ کے تمام صحافیوں نے احتجاج میں شرکت کی۔ (ماسوائے مخصوص لابی کے چند افراد کے)۔۔۔کچھ صحافیوں کی طرف سے سی پی او صاحب کو یقین دہانی کروائی گئی کہ آپ اطمینان رکھیں مظاہرین کو ابھی واپس بلالیتے ہیں۔کچھ صحافیوں کو فون کئے جانے لگے، مگر انہوں نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ان صحافیوں کے خلاف بھی شدید نعرے بازی شروع کردی جو اس احتجاج کو بے اثر اور ناکام بنانے پر تلے ہوئے تھے۔ ایس ایس پی صدر کی طرف سے انصاف کی یقین دہانی پر یہ احتجاجی مظاہرہ ختم کر دیا گیا، مگر اپنے پیچھے چند سوالات چھوڑ گیا۔ کیا انتظامیہ بااثر صحافیوں کے ہاتھ میں کھلونا ہے؟ انصاف تک رسائی کے لئے با اثر اور طاقتور ہونا شرط ہے؟ چھوٹے اخبارات کے صحافی کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں؟ ان کو کسی بھی وقت قربانی کے بکروں کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات خود کروائیں۔اگر یہ صحافی پولیس تفتیش کے مطابق (جوکہ مثل میں لکھا جا چکا ہے)موقع پر موجود ہی نہیں تھے، کسی فوٹیج و موبائل ریکارڈ یا دیگر جدید آلاتی تفتیش میں ثابت ہی نہیں ہوتاکہ یہ موقع پر موجود تھے اور گواہ بھی اس بات سے انکاری ہے کہ اس نے ان کو جائے وقوع پر دیکھا تھا ۔

تو اس صورت حال میں ان بے گناہ صحافیوں کو اب تک کس جرم کی پاداش میں حوالات میں رکھا گیا ہے؟کیا پولیس افسران کا ضمیر ان کو ملامت نہیں کرتا؟ اگر انہوں نے خود تفتیش میں ان دونوں کو بے گناہ لکھا ہے تو اب تک رہا کیوں نہیں کیا جا رہا؟ یا پھر (اس نادیدہ قوت) کا نام بتایا جائے جس کے کہنے پر ان کو بھی تک زیر حراست رکھا جا رہا ہے۔۔۔ ادھر پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن کی قیادت اور گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹ کی قیادت نے با ہمی اتفاق سے احتجاجی دائرہ ملک بھر میں پھیلانے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ افتخار علی بٹ صدر پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن اور افتخار علی گل سیکرٹری جنرل گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹ نے مشترکہ لا ئحہ عمل تر تیب دے دیا ہے۔ آئندہ چند روز میں بھر پور احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔

میں نہیں جانتا وہ ’’بااثر‘‘صحافی ان احتجاجی مظاہروں کو بھی ’’بے اثر‘‘کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام؟۔۔۔لیکن یہ سوال بہر حال بر قرار ہے کہ ان بے گناہوں کی ’’سزا‘‘ کا ذمہ دار کون ہے؟ پاسپورٹ ملازمین ، پولیس حکام یا چند با اثر صحافی؟ ذمہ دار جو بھی ہو وزارت داخلہ اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بے گناہوں کو انصاف دلائے اور اصل کرداروں کے چہرے بے نقاب کرے۔

مزید : کالم