لائل پور سے فیصل آباد تک (3)

لائل پور سے فیصل آباد تک (3)
 لائل پور سے فیصل آباد تک (3)

  

سیلز آفیسر کی اس ’’کامیابی‘‘ سے شہ پا کر ایک لائسنس انسپکٹر نے ڈائریکٹر فنانس مطیع الرحمان مرزا صاحب سے یہ حکم جاری کروا لیا کہ بیورو میں ان کے لئے بھی ایک کمرہ مخصوص کیا جائے اس پر ڈائریکٹر نیوز مصلح الدین نے بھی دستخط کر دیئے۔ میں نے اس پر انتظامیہ کو ایک خط لکھا کہ یہ حکم معروضی حالات کا جائزہ لئے بغیر جاری کیا گیا ہے اور اس پر عملدرآمد سے پرائیویسی ممکن نہیں اور میں چونکہ فیملی کے ساتھ رہتا ہوں۔

یوں میرے لئے یہاں رہنا ممکن نہیں ہو گا لہٰذا میں اپنی رہائش یہاں سے شفٹ کرنا چاہوں گا اور نتیجتاً میں صرف دفتری اوقات میں دستیاب ہوں گا۔ اگر آپ کو یہ Arrangement منظور ہے تو میں ایک کمرہ ان کے حوالے کر دیتا ہوں اس پر لاہور سنٹر کے نیوز ایڈیٹر خالد محمود ربانی نے ظاہر ہے کہ ڈائریکٹر نیوز سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا کہ آپ شفٹ نہیں ہوں گے کیونکہ بیورو میں بیوروچیف کی آفس کم ریزیڈینس کا فیصلہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کیا ہوا ہے اور یہ نیوز کی ورکنگ کے لئے انتہائی ضروری ہے لہٰذا میں شفٹ ہوا نہ دو ڈائریکٹرز کے تحریری فیصلے پر عملدرآمد ہوا۔

ستمبر 1982ء میں فیصل آباد میں ہمارے دفتر کے قریب ڈی گراؤنڈ میں ریڈیو پاکستان کا سٹیشن قائم کر دیا گیا۔ ریڈیو اسٹیشن کے سربراہوں میں سے عابد بخاری سے تو سکول کے زمانے سے قریبی دوستی تھی اور ہمارا آبائی علاقہ بھی ایک ہے۔ عابدی بخاری ، ملک محمد بخش (سابق ای ڈی او آر لاہور) اور چوہدری بشیر (سابق ڈی سی او بھکر) سکول میں میرے کلاس فیلو تھے۔

دوسرے سٹیشن ڈائریکٹروں اکرم چوہدری اور حسن ذکی کاظمی سے بھی دوستی ہو گئی۔ محمد شفیع صاحب سے بھی دوستی ہے وہ بعد میں پی بی سی کے ہیڈکوارٹر میں کنٹرولر بن کر ریٹائر ہوئے اور آجکل اسلام آباد میں ہی قیام پذیر ہیں۔

فیصل آباد میں ایک صحافی اور سوشل ایکٹوسٹ زمان خان (وہ ہیومن رائٹس کمیشن سے حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں)ہومیو ڈاکٹر اشرف چوہدری ، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے رکن ڈاکٹر آغا سجاد حیدر، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسین ، کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کے جمشید خٹک اورملک سرفراز سے بھی یہیں دوستی ہوئی۔ کامرس اینڈ ٹریڈ کے آصف غفور صاحب (فیڈرل سیکرٹری ریٹائرڈ) زاہد خان اور نجکاری کے سیکرٹری اظہر چوہدری سے بھی بڑی پرانی دوستی ہے۔ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر میاں ممتاز علی سے بھی بڑے خوشگوار تعلقات رہے۔

میرا آبائی گاؤں یہاں سے اڑھائی گھنٹے کے فاصلے پر تھا اس لئے گاؤں سے بھی رابطہ بحال ہو گیا اور آبائی زمینوں کے کچھ مسائل حل کرنے کا بھی موقع ملا۔ دراصل میرا تعلق ایک زمیندار خاندان سے ہے۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیر محل سے عبدالحکیم جانے والی سڑک پر پیر محل سے تقریباً 15 کلومیٹر پر میرا گاؤں نواب بھوتی واقع ہے۔ گاؤں اور موضع (نواب بھوتی) کا نام میرے پردادا کے نام پر رکھا گیا تھا۔

میرے والد میاں نور محمد 26 مربع زمین کے مالک تھے جو دو ضلعوں فیصل آباد (سمندری) اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پھیلی ہوئی ہے۔ والد صاحب زمیندار ہونے کے باوجود جاگیرداری کی ساری بدعتوں سے پاک تھے وہ تہجد گزار آدمی تھے۔ غریب پروری، مہمان نوازی اور سچائی زندگی بھر ان کا شعار رہا۔ گولڑہ شریف والے پیر مہر علی شاہ سے اُن کا خاص تعلق تھا۔ پیر صاحب میرے والد صاحب کی دعوت پر ہمارے گھر بھی تشریف لائے تھے۔ اپریل 1961ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ تاہم والدہ دیر تک زندہ رہیں۔ میں اگرچہ گاؤں میں پیدا ہوا، وہیں پلا بڑھا، لیکن سوچ اور عادتوں کے معاملے میں میں شروع ہی سے کچھ مختلف تھا۔ پڑھنے لکھنے کا شوق بھی بہت پرانا ہے۔

میں گاؤں میں بذریعہ ڈاک کتابیں منگوا کر پڑھا کرتا تھا۔ تاہم میں زمینداری کلچر اور عمومی ماحول کے مضر اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکا۔ میں ایک بڑے خاندان کا حصہ تھا۔ اس لئے والد صاحب کی وفات کا میں نے زیادہ اثر نہیں لیا، لیکن میں چونکہ خاندان میں سب سے چھوٹا تھا اور دوسرے بھائیوں اور میری عمر میں فرق کافی تھا۔ اس لئے میری اپنے بھائیوں کے ساتھ قربت اور ذہنی ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکی۔ پھر میرے بھائیوں کی شادیاں ہو گئیں۔ اور یوں زمینوں کی تقسیم پر اختلافات شروع ہو گئے۔ جس کے مجھ پر بُرے اثرات پڑے۔

میں اُن دنوں فیصل آباد میں طالب علم تھا۔ میں پریشان رہنے لگا اور یوں مجھے ایک جسمانی عارضہ لاحق ہو گیا۔ مجھے کبھی کبھی چکر آ جاتے تھے اور پسینہ آ جاتا تھا اور میں کھڑا نہیں رہ سکتا تھا۔ یہ ایک قسم کا نروس بریک ڈاؤن تھا۔میں نے مقامی طور پر ایک دو ڈاکٹروں سے مشورہ کیا، لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ لہٰذا میں صورتحال سے مایوس ہو کر لاہور چلا گیا۔ جہاں میں میو ہسپتال کے ممتاز فزیشن ڈاکٹر عالمگیر سے ملا۔ (ڈاکٹر عالمگیر صدر کے فزیشن بھی رہے اور انہوں نے ہی پیپلزپارٹی کے پہلے دور میں وزیر صحت شیخ رشید کو دواؤں کی جنرک سکیم کا آئیڈیا دیا تھا) اِن دنوں سپیشلسٹ کی فیس 32 روپے ہوا کرتی تھی۔ ڈاکٹر عالمگیر نے اچھی طرح چیک کرنے کے بعد مجھ سے پوچھا کہ آپ فارسی جانتے ہیں۔ میں نے اثبات میں جواب دیا کہ ہاں شُدبُد ہے۔ انہوں نے فارسی کا ایک مصرع پڑھا کہ ’’اے روشن�ئ طبع تو برمن بلاشدی‘‘ (Enlightenment یا شعور میرے لئے مصیبت بن گیا ہے۔) اور مجھ سے پوچھا کہ اس کا مطلب سمجھتے ہیں؟ میں نے پھر اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ یہی آپ کی تشخیص ہے۔ آپ کو کوئی جسمانی بیماری نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ ذہین اور حسّاس آدمی ہیں اور آپ نے سوچ سوچ کر اپنے اعصاب کو تھکا دیا ہے لہٰذا سوچنا بند کریں۔ ممکن ہو تو نماز پڑھا کریں اور ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیں۔ صبح و شام سیر کیا کریں، لیکن اکیلے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو صرف ایک ہفتے کی دوائی دے رہا ہوں، لیکن بیماری کا علاج آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بیماری کے بارے میں میرا Concept ایسا واضح کیا کہ وہ بیماری دوبارہ نہیں ہوئی۔

وقت گزر رہا تھا کہ ایک شام ڈائریکٹر نیوز مصلح الدین کا فون آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ فیصل آباد میں وقت ضائع کر رہے ہیں لہٰذا بہتر ہے کہ آپ اسلام آباد آ جائیں۔ میں نے اُن کی بات سے اتفاق کیا اور یوں ستمبر 1986ء کو تیسری بار اسلام آباد آ گیا۔ مصلح الدین صاحب کی میرے بارے میں مثبت رائے اور ان کا فون میرے کیریئر کے لئے بہت اہم ثابت ہوا۔ اگر میں زیادہ وقت چھوٹی جگہوں پر ضائع کر دیتا تو میرا کیریئر کچھ مختلف ہوتا۔ (ختم شد)

مزید : کالم