’’حقیقی اپوزیشن لیڈر‘‘چودھری نثار علی خان

’’حقیقی اپوزیشن لیڈر‘‘چودھری نثار علی خان
’’حقیقی اپوزیشن لیڈر‘‘چودھری نثار علی خان

  

مورخین "ہائی وولٹیج" چراغ لے کر جتنے بھی "خجل" ہولیں، انہیں ایسا اپوزیشن لیڈر کرۂ ارض پر کہیں نہیں ملے گا۔جی ہاں، چودھری نثار علی خان میں وہ تمام صفات بدرجہ اُتم موجود ہیں جو ایک صادق، امین، مخلص اور حقیقی اپوزیشن لیڈر میں ہونی چاہئیں۔ بلاشبہ وہ مسلم لیگ ن میں واحد رہنما ہیں جن پر ابھی تک پاناما یا بنی گالا قسم کا کوئی بھیانک الزام سامنے آیا نا ان کے منہ سے کبھی دھرنوں جیسا کرخت اور ناگوار لہجہ سنائی دیا۔حتیٰ کہ ان کے "جانی دشمن" ٹائپ مخالفین نے بھی ان کے لئے کبھی بدتہذیبی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

ایک واحد ان کے پرانے دوست اور لیڈر نواز شریف ہیں، جو انہیں دیکھ کر ناگواری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

دراصل ہماری سیاسی تاریخ میں اپوزیشن لیڈر کا کردار قطعی مختلف تصور کا حامل رہا۔ حقیقت میں تو اسے حکومت کا ایک مثبت ناقد ہونا چاہیئے۔ وہ تنقید برائے تعمیر کرے۔بدقسمتی سے یہاں ہمیشہ تنقید برائے تخریب ہوتی رہی۔

ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا بھی اسی پالیسی کا خاصا رہا۔ اسی تخریب کاری اور کھینچا تانی میں سیاسی جماعتوں کو کئی دفعہ نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ تیری جمہوریت، میری جمہوریت کھیلتے کھیلتے گیند کئی دفعہ آمریت کی جھاڑیوں میں پھنس گیا۔ پھر کئی جماعتوں کے اتحادی ٹولوں نے جھاڑیوں سے وہ گیند تو نکال لیا لیکن ان کے کئی برسوں کا "ضیاء" بھی ہو گیا(یہاں لفظ "ضیاع" ہی لکھنا چاہتا ہوں، غلطی سے "ضیاء " لکھا گیا لیکن آپ وہی پڑھیں جو "درست" ہے) یعنی گیند دوبارہ ہاتھ آنے میں ایک بار گیارہ سال لگ گئے، دوسری بار نو برس۔اب بھی اپوزیشن لیڈر کی شاطرانہ چالوں سے اکثر جمہوری گیند "اُدھر" جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ وہ تو شکر ہے کہ ان جھاڑیوں کے نئے مالکان نے جمہوری ٹھیکے داروں کے لئے خاردار تاریں اور گیند کے لئے جالی والی چھت لگا کر "احتیاطی تدابیر" کر رکھی ہیں ۔لیکن افسوس کسی بھی سیاسی حکمران اور اپوزیشن لیڈر نے ان "حادثات" سے سبق سیکھا نہ آئندہ کوئی امید ہے۔

گذشتہ چار برس سے ملک میں پھر ایسا ہی کھیل، کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اپوزیشن لیڈرز بھی اُسی موڈ میں ہیں اور رہ گئے نون لیگی حکمران، وہ پہلے دو بار کوئی سبق نہیں سیکھ سکے، اب تیسری بار تو ان کی سزا واجب ہے۔ اسی لئے تو چودھری نثار دبے دبے لہجے میں خبردار کرتے رہے جو نواز شریف کو بہت ناگوار گزرتا رہا اور نتیجہ یہ کہ دنیا شریف خاندان کا تماشا دیکھ رہی ہے اور چودھری نثار علی خان، نواز شریف کے ساتھ بھی ہیں اور تماشائی بننے پر مجبور بھی۔

چودھری نثارنے اپنی طرف سے ہمیشہ تعمیری تنقید کی لیکن غلط لوگوں اور غلط وقت پر۔وہ جو پیپلز پارٹی والوں نے کہہ رکھا ہے کہ نواز شریف مشکل میں ہوں تو پاؤں پڑتے ہیں اور مشکل سے نکل آئیں تو گلے پڑتے ہیں، شائد کچھ غلط بھی نہیں۔ تیسری بار اقتدار کے تکبر نے یقیناً ان کا لب ولہجہ بگاڑ کے رکھ دیا۔ وہ شائد بھول گئے کہ وہ جس جمہوریت کے نام پر خاندانی حکومت کے مزے لوٹ رہے ہیں، وہ اب "ون مین شو" کے اصول پر ممکن نہیں۔ جن ریاستی اداروں کی"سازش"سے آپ اقتدار کے سنگھاسن پر ہیں،انہیں ساتھ ہی رکھنا پڑے گا۔ اگر ان کے کردار یا اہمیت کا احساس دلایا جائے تو اس کو "سازش" نہ سمجھا جائے۔ بلکہ "سازشی تھیوری" کی ساری کتابیں بند کرکے اب صرف "لو اور دو " یا "جیو اور جینے دو" کا سبق یاد رکھنا پڑے گا۔

مسئلہ تویہ ہے کہ اکیلے چودھری نثار یہ سبق کتنا یاد کرواسکتے ہیں اور کب تک۔ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ جنوری 2014ء میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے، اگست 2015ء میں بیلارس سٹیٹ یونیورسٹی سے اور اکتوبر 2016ء میں آذربائیجان کی باکو یونیورسٹی سے نواز شریف کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں ملی ہوئی ہیں جبکہ کلثوم نواز شریف نے بھی 1976ء میں پی ایچ ڈی کے لئے "اردو شاعری میں فطرت نگاری''کے تھیسس پر کام کیا لیکن ڈگری کا کچھ پتہ نہیں،اب آپ ہی بتائیں اتنے زیادہ "پڑھے لکھے" خاندان کو چودھری نثار علی خان جیسے کسی ٹیوٹر کی بھلا کیا ضرورت ہے۔

حکمران خاندان نے ایسا سبق پڑھانے والے جاوید ہاشمی، ذوالفقار کھوسہ اینڈ فیملی، عطا مانیکا، غوث علی شاہ، اسماعیل راہو، سرانجام خان، عرفان اللہ مروت اور لیاقت جتوئی جیسے کئی عمر رسیدہ "سکول ماسٹر" یا تو جبری رخصت پر بھیج رکھے ہیں یا کھڈے لائن لگا دئیے ہیں اور حکومتی سکول کا نظم ونسق اب طلال چودھری، دانیال عزیز، کیپٹن صفدر، عابد شیر علی اور رانا ثنااللہ جیسے چرب زبان پی ایچ ڈی ڈاکٹرز اور پروفیسرز کے حوالے کر کے مریم نواز کو ان کا تاحیات پرنسپل مقرر کردیا ہے۔

ویسے تو چودھری نثار کابینہ اور میڈیا میں گاہے گاہے ہلکی پھلکی شرارتیں کرتے رہتے تھے لیکن گزشتہ دنوں سینئر صحافی سلیم صافی کے پروگرام میں ان کی بے لاگ اور دوٹوک گفتگو شریف خاندان اور عوام کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھی۔بہت سی باتیں تو ایسی تھیں جو ان کی تفصیلی پریس کانفرنسوں کے ذریعے عام ہو چکی ہیں۔کچھ باتیں ایسی ہیں جو اس سے پہلے بہت بڑا راز تھیں۔ جن پر حکومت نے پردہ ڈال رکھا تھا یا میڈیا نے اصل کہانی پر اپنی پسند کی داستان گوئی کا فن دکھا رکھا تھا۔ مثلاً کچھ اہم نکات یہ ہیں :

*۔۔۔مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق فوجی خاندان سے ہے۔ میرا خاندان چار پشتوں سے فوج میں ہے۔ وقت کی پابندی'نظم وضبط اور وطن سے محبت فوج سے سیکھی۔

*۔۔۔نوازشریف کو ہمیشہ یہی سمجھایا کہ کوئی آرمی چیف "اپنا بندہ" نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس نے حکومت کے ساتھ تعلقات رکھنے کے علاوہ اپنے ادارے کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے۔

*۔۔۔پرویز مشرف کو حکومت نے نہیں ٹرائل کورٹ نے باہر بھجوایا۔

*۔۔۔ایان علی کا نام ای سی ایل پر وزارت خزانہ نے دیا تھامیری وزارت کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

*۔۔۔ یہ کہنا غلط ہے کہ نوازشریف کو فوج نے نکالا۔

*۔۔۔سول 'ملٹری تناو اتنا نہیں'جتنا پیش کیا جارہا ہے۔

*۔۔۔وزیراعظم سمیت 5 لوگوں کو علم ہے کہ ملک کو شدید خطرات کاسامنا ہے۔

*۔۔۔مجھے کئی اہم معاملات میں جان بوجھ کر مشاورت میں شامل نہیں کیاگیا۔

*۔۔۔پانی سر سے گزرنے کے بہت قریب ہے۔ابھی وقت ہے کہ فوج اور عدلیہ سے محاذآرائی ختم کر کے ملک کو خطرات سے بچایا جائے۔

*۔۔۔ فوج سے محاذ آرائی ختم کرنا'مسلم لیگ ن سے زیادہ نواز شریف کے حق میں بہتر ہے۔

*۔۔۔ کراچی آپریشن فوج نے نہیں میں نے شروع کروایا تھا۔

*۔۔۔ ڈاکٹر عاصم کاکیس رینجرز کے پاس تھا۔(لیکن اس کا نقصان نواز حکومت کو بھگتنا پڑا کہ پی پی والے "اینٹ سے اینٹ" بجانے والے بیان سے ایسے "بھاگے"کہ انھوں نے ڈاکٹر عاصم کے غصے میں اس بار اینٹ اٹھائی بھی تو نواز حکومت کے خلاف۔)

نواز شریف اور چودھری نثار کا جتنا پرانا ساتھ ہے'جتنے گھاؤ اور غصہ ان کے دل ودماغ میں ہے' مجھے یقین ہے کہ ابھی بہت کچھ ان کے اندر رہ گیا ہو گا۔ شاید وہ ابھی پوری طرح کھلنا بھی نا چاہتے ہوں کیونکہ وہ مسلم لیگ چھوڑ رہے ہیں نا پارٹی انھیں نکال رہی ہے۔ اسی لئے چودھری صاحب محتاط ہیں کہ دروازے کہیں ہمیشہ کے لیے بند ناہو جائیں۔ دروازے بند ہوجانے سے سیاست ہوسکتی ہے نااختلاف کامزہ آتا ہے۔

اگر چودھری نثار علی خان کو اس مروت کا احساس ہے تو نوازشریف کو بھی ایسی دریا دلی اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوگا کہ فی زمانہ ایسی تعمیری تنقید کرنے والے "حقیقی اپوزیشن لیڈر" ملتے ہی کہاں ہیں کہ جنھیں بقول کوثر نیازی:

ہے ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا

کس قدر سادہ طبیعت ہیں پرستار ترے

مزید : کالم