پاکستان کا متحرک معاشرہ!

پاکستان کا متحرک معاشرہ!
 پاکستان کا متحرک معاشرہ!

  

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جمہوریت کی نشوونما اور بقاء ،لکھے پڑھے، باشعور اور معاشی طور پر متوسط طبقات کی اکثریت پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ 1947ء کے مقابلے میں آج 2017ء میں 70سال کے بعد پاکستانی عوام کا تعلیمی اور سماجی معیار بہت حد تک بہتر ہوا ہے لیکن اس کا زیادہ فائدہ شہری آبادیوں کو ہوا ہے، دیہی آبادی کو نہیں۔۔۔ اگر ہم پاکستان کے شہروں کو ترقی اور خوشحالی کے تناظر میں دیکھیں تو اسلام آباد، لاہور اور کراچی تین ایسے شہر ہیں جن میں عوام کو بہت حد تک مطلوبہ سماجی اور عمرانی سہولتیں میسر ہیں

ان کے بعد پشاور، کوئٹہ اور ملتان کا نام لیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان چھ بڑے شہروں کے بعد جس شہر کا بھی نام لیں گے وہاں جدید اربن سہولتوں کی کمی ہوگی اور یہ کمی آگے چل کر قصبوں اور گاؤں کی سطح پر مزید بڑھتی چلی جائے گی۔ اس صورتِ حال نے پاکستان کے شہری علاقوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔۔۔ یعنی ترقی یافتہ، کم ترقی یافتہ اور پسماندہ حصے۔۔۔

اتنا کہہ چکنے کے بعد یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے شہری اور دیہاتی علاقوں میں بتدریج ہمہ جہتی ترقی ہو رہی ہے۔

میں لاہور میں رہتا ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ گزشتہ چند برسوں میں اس شہر نے ترقی کی کئی منازل طے کی ہیں۔ مثلاً شہری ٹرانسپورٹ کو لیجئے۔ چند برس پہلے یہاں بڑی بڑی سڑکوں پر بھی پرانی بسیں اور منی بسیں چلا کرتی تھیں۔ اب ان کی جگہ نئی اور اربن ٹرانسپورٹ نے لے لی ہے۔ اس جدید طرز کی ٹرانسپورٹ لائن کو سپورٹ کرنے کے لئے جدید ذرائع مواصلات کی ضرورت تھی۔ چنانچہ لاہور کے اکثر علاقوں میں سڑکوں کی صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے۔ بڑی بڑی شاہراہوں کے یکطرفہ ٹریفک کو کھلا کرکے دو طرفہ کر دیا گیا ہے۔ اوور پاس اور انڈر پاس تعمیر کئے گئے ہیں۔

موٹروے اور اورنج لائن کی آمد آمد ہے۔ لاہور کے تعلیمی اداروں کی عمارات کو نئی شکل وصورت دی گئی ہے اور اسی طرح ہسپتالوں کو بھی سرکاری اور نجی سطح پر نئی عماراتی ، انتظامی اور پیشہ ورانہ سہولیات سے مسلح کیا گیا ہے۔ شہر کی مجموعی خوبصورتی میں پی ایچ اے (پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی) نے ایک بڑا اور قابلِ قدر رول ادا کیا ہے۔ بڑی بڑی شاہراہوں مثلاً مال روڈ، جیل روڈ اور فیروز پور روڈ وغیرہ پر سبزے اور پھولوں کی نت نئی آرائشوں نے راہگیروں کے لئے ایک سدا بہار منظر پیدا کر دیا ہے۔

اسی طرح لاہور کے باقی علاقوں اور کینٹ کے علاقوں میں بھی دوسرے اداروں نے سبزہ و گل کی باغ و بہار زیبائشیں عام کر دی ہیں۔سڑکوں پر روشنی کا انتظام بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔ لاہور کے علاوہ اسلام آباد اور کراچی کے بہت سے جدید علاقوں کا حسنِ نظر بھی دیدنی ہے۔

ان بڑے بڑے شہروں میں ایک اور قابلِ تعریف اضافہ یہ ہوا ہے کہ ان کے مضافات میں ایسی جدید بستیاں بس گئی ہیں جو پرانے لاہور کو تو ماند کرتی ہی ہیں، نئے لاہور کا نام بھی کبھی جن آبادیوں سے منسوب تھا(مثلاً گل برگ اور ماڈل ٹاؤن وغیرہ) ان کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔۔۔ اور بہت پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔۔۔ جوہرٹاؤن، فیصل ٹاؤن ،واپڈا ٹاؤن، ای ایم ای ہاؤسنگ کالونی، ڈیفنس ہاؤسنگ کالونی اور اس طرح کی دیگر نواحی بستیوں کو جا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے پرانا لاہور بہت ہی پرانا ہو چکا ہے۔ اب شہر کے بارہ دروازے ، انار کلی، مزنگ وغیرہ بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ہر جدید آبادی میں اشیائے صرف کی بھرمارہے اور وہاں کی دکانیں کسی بھی بین الاقوامی معیار کے پلازوں اور دکانوں کی چکاچوند سے کم نہیں۔ ایک ایک دکان میں کروڑوں کا مال بھرا ہے اور اس کی تزئین و آرائش جدید خطوط پر کی گئی ہے۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ ان پلازوں اور دکانوں میں ہر وقت رش رہتا ہے۔ پہلے لوگ مختلف بزرگوں کی زیارت گاہوں پر سالانہ عرس دیکھنے کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے۔ کھوّے سے کھوّا چھلتا تھا اور کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ لیکن آج تو جدید سیٹلائٹ ٹاؤنوں میں یہی منظر صبح و شام نظر آتا ہے۔ ہر وقت میلا لگا رہتا ہے۔۔۔ افزائش آبادی ایک مسئلہ ضرور ہے لیکن اس طرف کوئی بھی متوجہ نہیں ہوتا۔ موٹرسائیکلوں پر سوار ہر نو عمر جوڑے کے آگے پیچھے کم از کم دو بچے سوار ہوتے ہیں۔

لاہور جیسے شہروں میں غربت اب کوئی مسئلہ نہیں رہی۔(ویسے کچی آبادیوں سے کہیں بھی مفر نہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں (Slums) کا کوئی کال نہیں اور بھارت میں دہلی، کلکتہ اور بمبئی کی کچی اور فٹ پاتھی آبادیوں کا تذکرہ تو گلوبل میڈیا کا معمول کا موضوع ہے) لاہور، کراچی اور دوسرے بڑے شہروں کی سڑکوں پر دوڑتی نئی اور زرق برق کاروں سے ٹریفک جام کا مسئلہ پیدا ہوتا رہتا ہے۔ لاہور میں تو کسی سڑک پر کوئی سائیکل سوار آپ کو شاذ ہی نظر آئے گا۔ گلی محلے کی پیدل سواریاں ایک میل کی ’’مسافت‘‘ طے کرنے کے لئے بھی چنگ چی کو ترجیح دیتی ہیں۔

کسی ٹریفک سگنل پر رکیں تو صرف وہ بھکارنیں نظر آئیں گی جو ’’سرتاپا‘‘ فیشن زدہ ہوں گی۔ ہاتھ پھیلانا ان کے ہاں اس لئے کوئی عار نہیں کہ وہ اسے باقاعدہ ایک کاروبار سمجھتی ہیں۔ سبزیوں اور فروٹ سے دکانیں، کھوکھے اور ریڑھیاں بھری رہتی ہیں اور ان کے سامنے گاہک بھی بھرے رہتے ہیں۔ اگر ان شہروں اور بازاروں میں صفائی ستھرائی کا تھوڑا سا اور اہتمام کر لیا جائے تو انہیں کسی بھی جدید یورپین شہر کی مارکیٹوں کے مقابل رکھا جا سکتا ہے۔

آپ شائد سوچتے ہوں گے کہ قصبوں اور دیہاتوں میں غربت و افلاس کا دور دورہ ہے۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ ہمارا میڈیا اپنے ملک کی منفی تصاویر دکھانے کا عادی ہے۔ایسی خبریں آن ائر کی جاتی ہیں جن میں دیہاتوں کی حالت کی کوئی حقیقی تصویر کشی نہیں کی جاتی۔ صرف ایسی خبروں کی پٹیاں چلائی جاتی ہیں کہ فلاں سڑک پر فلاں ٹرک نے فلاں تعداد میں راہگیروں کو کچل ڈالا یا موٹرسائیکل سواروں کو ہلاک کر ڈالا۔ الجھے ہوئے فرسودہ سماجی مسائل اور مفلسی وفاداری کے موضوعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ چھوٹے سے چھوٹے گاؤں کے متوسط گھرانوں میں بھی ہر فرد کے پاس ایک موٹرسائیکل ہے جس پر ماڈرن کپڑے پہن کر خواتین اپنے شوہروں اور رشتے داروں کے پیچھے بیٹھی ہوتی ہیں۔ اب کسی گاؤں میں حقہ کش، تاش کھیلنے والے بے فکرے اور بیکار لوگ، بندروں کا تماشا دکھانے والے، گیس بھرے غبارے بیچنے والے، اونٹوں کا دودھ بیچنے والی بلوچنیں، سروں پر بھاری بھرکم کھاریاں اٹھا کر چوڑیاں بیچنے والیاں وغیرہ دکھائی نہیں دیں گی۔ ہر متوسط گھر میں ایک TV سیٹ اور ہر بالغ مرد یا عورت کے پاس ایک ذاتی موبائل فون ضرور ہوگا ۔۔۔ کیا یہ غربت کی نشانیاں ہیں؟

اپنی آرمی سروس کے دوران میں جب بھی کسی چھاؤنی کے CMH میں جاتا تھا تو پاک فوج کی سپاہیوں کی برقعہ پوش خواتین خال خال نظر آتی تھیں۔ جو خواتین علاج کے لئے آتی بھی تھیں ان کے پہناوے ان کے شوہروں کے رینک کی خبر دیتے تھے۔ ان کے بچے بچیوں کے چہرے مہرے بھی ان کی لوئر مڈل کلاس والی مالی استطاعت کے آئینہ دار ہوتے تھے۔ لیکن آج کسی بھی ملٹری ہسپتال کا رخ کریں۔

تمام عہدہ داروں کی خواتین اپنے مردوں کی ہمراہی کے بغیر ڈاکٹروں اور لیڈی ڈاکٹروں کے ہاں جا کر جس اعتماد اور انداز کی گفتگو کرتی ہیں اس سے یہ گمان ہر گز نہیں گزرتا کہ یہ کوئی اَن پڑھ اور مفلس گھرانے کی فرد ہیں۔ ان کا لباس، وضع قطع اور میک اپ وغیرہ افسروں کی بیویوں اور رشتہ دار خواتین سے اگرچہ ’’کچھ کم‘‘ نظر آتا ہے لیکن بہت جلد یہ معمولی فرق بھی مٹ جائے گا۔ پہلے فوج کے JCOsصاحبان کے پاس بھی خال خال موٹرسائیکل ہوتا تھا لیکن آج ہر نائیک اور حوالدار آپ کو کسی چھاؤنی میں پیدل جاتا نظر نہیں آئے گا۔ یہ تمام اشاریئے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے واضح اشاریئے ہی تو ہیں۔

آج پاکستان کے سکولوں میں بچے اور بچیوں کی نہ صرف تعداد میں معتدبہ اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کی عمومی سماجی حیثیت بھی ان کے چہروں سے عیاں ہو رہی ہوتی ہے۔ اگر کوئی دیہی خاندان اپنے کسی بچے یا بچی کو سکول نہیں بھیجتا تو اس کی اپنی کوئی خاص مجبوری ہوگی، غربت نہیں۔ یہ جو آئے روز میڈیا پر منفی پراپیگنڈہ دیکھنے اور سننے میں آتا ہے، وہ حقیقت میں سنی سنائی افواہوں پر انحصار رکھتا ہے۔ مجھے اپنی 30سالہ فوجی ملازمت کے دوران ملک کے تمام صوبوں / حصوں میں رہنے والے لوگوں سے انٹرایکشن کے مواقع ملے ہیں۔ ہم لوگ جب ریکی وغیرہ پر نکلتے تھے تو وہ عمل شہری علاقوں میں تو انجام نہیں پاتا۔

ریکی اور جنگی مشقیں ہمیشہ کراس کنٹری اور دیہی فضاؤں میں کی جاتی ہیں۔ بلوچستان کا کوئی ایسا قصبہ نہیں ہوگا جہاں میں اپنے 5،6 سالہ دورِ ملازمت میں نہیں گیا ہوں گا، اسی طرح سندھ، کشمیر، کے پی اور گلگت بلتستان میں بھی برسوں رہا اور گھوما پھرا ہوں اور جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اس کے اکثر شہری اور دیہی علاقے بار بار نظروں سے گزرتے رہے ہیں۔

سالہا سال تک ان میں رہنے اور ان کی سوشل فیبرک (سماجی ردا) کو بہت قریب سے دیکھنے کے مواقع ملے ہیں۔ میں دیانت داری سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ تمام علاقے ماضی ء قریب کے مقابلے میں حال کے دو تین عشروں میں یکسر تبدیل ہو چکے ہیں اور یہ تبدیلی مثبت انداز کی طرف گئی ہے، منفی کی طرف نہیں۔

بعض مالی اور اقتصادی بزرجمہر ملک کی معیشت کی زبوں حالی کا عجیب و غریب نقشہ کھینچتے ہیں۔ میں ایک طویل عرصے سے سن رہا ہوں کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کی حدوں کو چھو رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ اگر آئی ایم ایف نے اگلی قسط جاری نہ کی تو بس ہم پاکستانی تانگانیکا کے شہری بن جائیں گے۔ میں سیاست کا پنڈورہ باکس نہیں کھولنا چاہتا کہ آپ صبح و شام و شب وابستہ مفادات کی راگنیاں سنتے رہتے ہیں۔ رات گئے جب آپ میڈیا کے ہنگاموں سے تھک ہار کر نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں اور صبح بیدار ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے۔۔۔ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا۔۔۔

سیاسی افق پر جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں یا ہونے والی ہیں، وہ ہوکے رہیں گی۔ تبدیلی اور تغیر، پوری کائنات کا اٹل اصول ہے۔ آج کا موسمی سورج طلوع ہوتا ہے تو آج ہی غروب بھی ہو جاتا ہے لیکن قوموں اور معاشروں کے آفتاب بارہ گھنٹے نہیں بارہ سال اور کئی صورتوں میں اس سے بھی زیادہ مدت میں طلوع و غروب ہوتے ہیں!

ہر ملک کے ادارے اپنا اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور ہم ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سنتے رہتے ہیں کہ فلاں ادارے نے فلاں ادارے کے دائرۂ اختیارمیں ٹانگ اڑائی ہے۔یہ کوئی انہونی بات نہیں اور ہم پاکستانی بھی کون سی افلاطونی جمہوریت کے پیروکار ہیں۔ لیکن اس کے باوجود نظمِ جہاں برہم نہیں ہوتا اور بکھرتا نہیں۔ کسے خبر تھی کہ 2017ء کا چین 1917ء کے چین سے یکسر معکوس ہو جائے گا۔۔۔

پاکستان کا موجودہ معاشرہ آج سے 70 سال قبل کے معاشرے کے مقابلے میں اگرچہ چین کے پیمانے کے مطابق ویسا متحرک (Vibrant) نہیں لیکن ایسا ساکن (Stagnant) بھی نہیں کہ چشمِ بِینا کو نظر نہ آئے!

مزید : کالم