بھتہ مافیا پوری طرح سرگرم ہوگیا

بھتہ مافیا پوری طرح سرگرم ہوگیا
  1. محرم الحرام قریب آتے ہی خیبر پختون خوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہوگئی ہے۔ جس میں ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی سمیت سکیورٹی فورسز کے کئی اہلکار بھی شہید ہو گئے لوئر دیر میں نا معلوم دہشتگردوں نے چلتی گاڑی کو شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا جس میں سابق رکن صوبائی اسمبلی ہاشم خان سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے ہاشم خان ماضی کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے تاہم بعد میں جمعیت علماء اسلام ف میں شمولیت اختیار کر لی تھی ہاشم خان کے ساتھ جاں بحق ہونے والوں میں ان کے کزن اور علاقے کی معروف شخصیت ملک عجب خان بھی شامل ہیں اس واقعے کے بعد با جوڑ ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا جس میں پولیٹکل تحصلیدار فواد علی اور ان کے ساتھ موجود سات سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حسب معمول واقعے کے بعد علاقے کا سرچ اپریشن کیا مگر میڈیا میں کوئی قابل ذکر پیش رفت سامنے نہ آ سکی دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں امریکہ بہادر نے بھی اپنا حصہ حسب توفیق ڈالتے ہوئے کرم ایجنسی میں ایک ڈورن حملہ کر ڈالا پاک افغان سرحد کے قریب ہونے والے ڈورن حملے میں دعوی کیا گیا کہ اس حملے میں طالبان کمانڈر مولانا عصمت سمیت تین اہم کمانڈر مارئے گئے مولانا عصمت کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ملا عبد السلام ضیعف کا داماد تھا ملا عبد السلام ضعیف طالبان دور حکومت میں پاکستان میں افغانستان کے سفیر اور بعد ازاں امریکہ کے اسیر رہ چکے ہیں ۔

    پاک افغان سرحد پر اس حملے کے لئے امریکہ کو طویل انتظار کرنا پڑا امریکی حکام نے مولانا عصمت ضیعف کو افغانستان کی حدود میں نشانہ بنانا مناسب نہ سمجھا مولانا عصمت کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی اور وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جیسے ہی چند گز پاکستانی حدود میں داخل ہوئے تو افغانستان سے لیکر پینٹا گون تک سارے امریکی حکام حرکت میں آ گئے اور ڈورن کو فضا میں بلند کرکے اپنا مشن مکمل کر لیا اس مشن کا اصل مقصد پاکستان کو اپنا مخصوص پیغام دینا تھا مگر اس کے جواب میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی طرف سے امریکہ بہادر کو جو پیغام دیا گیا وہ ڈورن حملے سے دو چند سخت تھا جسے سب نے پسند کیا ۔اس قتل و غارت گری کے دوران شبقدر سمیت بعض دیگر مقامات پر ایسے لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جو مقامی سطح پر معروف شخصیات تھے۔

    صوبائی دارالحکومت پشاور میں کالعدم تنظیموں کے لئے فنڈریزنگ کرنے والا بھتہ مافیا پوری طرح سرگرم ہو چکا ہے تاجروں سمیت صاحب حثیت شخصیات سے بھاری بھتہ وصول کیا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ سر عام کیا جا رہا ہے بھتہ مافیا کی بڑھتی سر گرمیوں پر نظر رکھنے والے لوگوں کی نظر میں حکومتی رٹ برائے نام رہ گئی ہے جو لوگ شرافت سے بھتہ نہیں دیتے ان کو سرعام بھرے بازار میں روک کر لوٹ لیا جاتا ہے جس کی تازہ ترین مثال چار روز قبل سر کلر روڈ پر اس وقت دیکھنے کو ملی جب دن کے گیارہ بجے بھتہ مافیا کے ارکان نے بھرے بازار میں ایک تاجر کو چلتے رکشے سے اتار لیا اور ساڑھے دس لاکھ روپے چھین کر فرار ہونے کی بجائے اطمینان کے ساتھ چلتے بنے پنج کھٹہ کے علاقے میں ایک تاجر سے 50 لاکھ روپے بھتہ وصول کرنے کے لئے آئے اور بھرے بازار میں بلایاگیا اور سب کے سامنے اس سے رقم وصول کی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا پولیس کے اعلیٰ حکام اور حکومتی شخصیات اپنی تقاریر اور اخباری بیانات میں سب اچھاکی رپورٹ دیتے ہیں مگر حقائق ان کے دعوؤں سے مختلف ہیں پشاور ہنگو اور بعض دیگر علاقوں میں داعش کے نیٹ ورک کی موجودگی کا بھی ذکر ہوتا ہے ایسے حالات میں محرم الحرام کی آمد ہو رہی ہے صاحب بصیرت لوگ اس سال محرم الحرام کے دوران ممکنہ طور پر کسی سانحے کے رونما ہونے کے خدشے کی بو محسوس کر رہے ہیں خدا کرئے کہ ایسا کچھ بھی نہ ہو جہاں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت اور نا اہلی کی قیمت بے گناہ اور معصوم عوام کو اپنی جان دے کر ادا کر نا پڑئے۔

    ایک طرف امن و امان کے حوالے سے حالات تیزی کے ساتھ ابتری کی طرف جا رہے ہیں تو دوسری طرف صوبائی حکومت کے بعض اقدامات کے خلاف سرکاری ملازمین سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں صوبائی حکومت نے اپنے دور کے آخری چند ماہ میں عجلت میں بعض ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جو سرا سر آئین کے خلاف ہیں محکمہ تعلیم کے سرکاری کالجز اور سکولوں کے لئے ایسا ایکٹ سامنے لائے ہیں جس کے تحت سرکاری ملازمین کی ملازمتیں کنٹریکٹ میں تبدیل کی جا رہی ہیں جبکہ سرکاری کالجز کسی نیلامی کے بغیر نجی شعبے کے حوالے کئے جائیں گے۔ محکمہ فنی تعلیم کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے صوبائی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں مذکورہ ایکٹ سمیت دیگر اقدامات کی منظوری لی جائے گی جس کے خلاف دونوں محکموں کے سینکڑوں ملازمین نے صوبائی اسمبلی کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور آئندہ تحریک انصاف کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا اس موقع پر حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسمبلی کے اندر ان کے لئے آواز اٹھانے کا وعدہ کیا مگر تحریک انصاف کی واضح اکثریت ہونے کے باعث اس بات کا امکان ہے کہ ایکٹ منظور کر لیا جائے گا جس کے بعد معاملہ عدالت میں جا سکتا ہے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے دعوی کر رہے ہیں یہ انقلابی اصلاحات ہیں جس سے تعلیم کا معیار بین الاقوامی سطح پر آ جائے گا۔

مزید : ایڈیشن 1