قومی سیاست کی دعویدار جماعتوں نے سندھ کو انتخابی سیاست سے خارج کررکھا ہے

قومی سیاست کی دعویدار جماعتوں نے سندھ کو انتخابی سیاست سے خارج کررکھا ہے

محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ہارنے کے باوجود عوامی انداز میں انتخابی مہم چلانے کا منفرد نقش ثبت کیا ہے ان کی ہمت کو ان کے مخالفین بھی داد دے رہے ہیں۔ اسی طرح بی بی مریم نواز نے سخت نامساعدماحول میں اپنی ماں کی انتخابی مہم چلانے کا کامیابی سے معرکہ سرکیا عملی سیاست میں انٹری ہوگئی ہے البتہ انہیں اب بہت احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ تب وہ ایک کامیاب سیاست دان کے طور پر اپنا آپ منواسکیں گی۔ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی یہ انتخاب توجہ کا مرکز رہا۔ سندھ میں اس حلقے کے نتائج پر تبصرہ و تجزیہ اس تناظر میں بھی کیا جارہا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اپنی ’’جنم بھومی‘‘ میں اپنی موت آپ مررہی ہے تو جناب آصف علی زرداری کس بل بوتے پر یہ دعوے کررہے ہیں کہ 2018ء میں مرکز، پنجاب سمیت چاروں صوبوں میں حکومت بناکر بلاول بھٹو زرداری کووزیر اعظم بنائیں گے؟ اس سے بھی اہم سوال یہ اٹھایا جارہا ہے، اگر فیصلہ کرنے والوں نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی جگہ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کو لانے کے لئے ایم کیو ایم کو راضی کرلیا تو جناب آصف علی زرداری اپنی پارٹی میں یہ ’’تاثر‘‘ کیسے برقرار رکھیں گے کہ 2018ء کے انتخاب کے بعد کا سیاسی منظر نامہ 2008ء کی طرح ظہور پذیر ہوگا جس میں ’’بادشاہ‘‘ بلاول اور’’بادشاہ گر‘‘ وہ خود ہوں گے۔

اگرچہ زمینی حقائق تو جناب آصف علی زرداری کے دعوؤں کی تائید نہیں کرتے۔ مگر اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ وہ ’’قسمت کے دھنی ‘‘ بھی ہیں اورموقع و محل کے اعتبار سے ’’طلاقتِ لسانی‘‘ کے ایسے جوہر دکھاتے ہیں کہ اپنے تو اپنے پرائے بھی ان کے سیاسی علم الکلام کا دم بھرتے نظر آتے ہیں۔ جناب مخدوم جاوید ہاشمی کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ آصف علی زرداری کی سیاست سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت ہے۔2008ء میں خواجہ آصف جیسے گھاگ سیاست دان سے جناب آصف علی زرداری نے مخدوم امین فہیم کو وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ سے باہر کرانے کے لئے یہ بیان دلوادیا تھا کہ ’’مخدوم امین فہیم‘‘ وزیر اعظم کے طور پر اس وجہ سے قابل قبول نہیں ہوں گے کہ ان کے رابطے اندرون خانہ جنرل مشرف کے ساتھ ہیں۔ اس بیان نے ہی جناب آصف علی زرداری کی صدارت کی راہ ہموار کی تھی مخدوم امین فہیم وزیر اعظم بن جاتے تو زرداری صاحب کے لئے صدر بننا آسان نہ ہوتا۔ آئین نے تو ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے کہ ایک صوبہ سے بیک وقت وزیر اعظم اور صدر منتخب نہیں ہوسکتے۔ ماضی میں 1997ء میں میاں نواز شریف وزیر اعظم بنے۔ تو فاروق لغاری پنجاب سے ہی صدر تھے، وہ مستعفی ہوئے تو ان کی جگہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب سے ہی جسٹس(ر) رفیق تاڑر کو صدر منتخب کرایا۔ اس حوالے سے اگرچہ یہ بات قابل ذکر ہے۔ میاں نواز شریف نے پنجاب سے جسٹس(ر) رفیق تاڑر کو منتخب کرانے کا فیصلہ چھوٹے صوبوں سے منتخب ہو کر آنے والی اس قیادت کے مشورہ پر کیا، جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے نہیں تھا۔ اس کے باوجود ایک صوبے سے وزیر اعظم اور صدر کے انتخاب کوآئینی ماہرین نے آئین کی روح کے منافی قرار دے کر ناپسند کیا تھا، جس کی وجہ سے مخدوم امین فہیم وزیر اعظم بن جاتے تو زرداری صاحب کے لئے اپنے آپ کو صدر منتخب کرانا آسان نہیں تھا، جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس قومی اسمبلی میں میاں نواز شریف کی طرح دو تہائی اکثریت توکیا حکومت سازی کے لئے سادہ اکثریت بھی نہیں تھی، ویسے تو یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1970ء سے لے کر 2008ء تک ایک بار بھی پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل نہ کرسکی چار بار اس نے وفاق میں جب بھی حکومت بنائی دوسری جماعتوں کے اشتراک سے مخلوط حکومت بنائی۔

تاہم 1970ء سے 2008ء کے عام انتخابات تک پیپلز پارٹی کا چاروں صوبوں میں مضبوط ووٹ بینک موجود رہا جو 2013ء کے انتخاب میں صوبہ سندھ تک سکڑ گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ 2008ء سے 2013ء تک خراب حکمرانی رہی ہے سندھ میں پیپلزپارٹی کی خوش قسمتی یہ رہی ہے کہ قومی سیاست کی دعوے دار جماعتوں نے سندھ کو اپنی انتخابی سیاست سے خارج کر رکھا ہے، اب اگرچہ بہت دیر ہو چکی ہے۔ تاہم تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے لئے اب بھی گنجائش موجود ہے کہ وہ بہتر سیاسی حکمت عملی کے ساتھ سندھ میں پیپلزپارٹی کو اور شہری سندھ کے علاقوں میں ایم کیو ایم کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرے تو وہ دونوں جماعتوں کو ٹف ٹائم دے سکتی ہیں۔ قومی سیاست کو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ سندھ میں بھی پیپلزپارٹی کو دوسرے صوبوں کی طرح ایک قومی جماعت کے طور پر ایکٹ کرنا پڑے گا اور ایم کیو ایم کو ‘‘لسانی‘‘ سیاست کو خیر باد کہنے پر مجبور ہونا پڑے گا سندھ کا المیہ تین عشروں سے جاری ’’لسانی‘‘ اور ’’نسلی‘‘ بنیاد پر تعصب کی سیاست ہے جس سے نجات کا واحد راستہ قومی سیاست کی دعوے دار بڑی جماعتوں کو سندھ میں عوامی سطح پر اپنی اپنی جماعتوں کا مضبوط تنظیمی نیٹ ورک قائم کر کے دیہی اور شہری سندھ کے حقیقی مسائل کا قابل عمل حل تلاش کر کے اس خلیج کو ختم کرنے میں ہے جو 1988ء سے 2013ء تک انتخابی سیاست کا محور رہے۔

پیپلزپارٹی سے کسی کو لاکھ اختلاف ہو۔ مگر اس کا لاہور میں انتخابی سیاست میں بے توقیر ہو کر آؤٹ ہونا خوش ہونے والی بات نہیں ہے۔ یہ ملک طویل اور صبر آزما سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے قائد اعظم کی قیادت میں حاصل کیا تھا۔ اس کی بقا سلامتی اور استحکام سیاسی عمل کو جاری و ساری رکھنے میں مضمر ہے۔ سیاسی عمل سیاسی جماعتوں کے بغیر برقرار رکھنا نا ممکن ہے۔ ماورائے آئین اقدام کے ذریعہ غاصب حکمرانوں نے وطن عزیز پر جو نظام مسلط کیا وہ اس ملک کے لئے ’’عطائی نظام‘‘ ثابت ہوا۔ جس میں یا تو مریض مفلوج ہو جاتا ہے یا سقوط ڈھاکہ کی شکل میں دم توڑجاتا ہے۔ جو ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ کا شور مچاتے ہیں، ان کی خدمت میں بصد ادب عرض ہے۔ ریاست کا استحکام منحصر ہے آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی قائم کر کے سیاسی جماعتوں کے ذریعہ سیاسی کلچر کو فروغ دینے میں سیاسی عمل کی عملداری سے ۔

حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی سے بھی برا حال جماعت اسلامی کا ہوا ہے۔ 1985ء سے 2002ء کے عام انتخاب تک لاہور میں جماعت اسلامی انتخابی سیاست کے کھیل میں ایک موثر جماعت تھی جہاں سے کبھی اس کے تین اور کبھی دو رکن قومی اسمبلی منتخب ہوتے رہے۔ 2002ء کے عام انتخاب میں لاہور سے جماعت اسلامی نے مسلم لیگ (ن) سے مفاہمت کر کے جناب لیاقت بلوچ اور جناب فرید پراچہ کو منتخب کرایا تھا۔ اگر 2008ء میں بائیکاٹ کا فیصلہ نہ کرتی اور مسلم لیگ (ن) سے 2008ء کی طرح اس کی مفاہمت برقرار رہتی تو دو سے تین نشستوں پر وہ کامیاب ہو سکتی تھی۔ جماعت اسلامی کو 1993ء میں کسی قومی جماعت کے ساتھ اتحاد یا مفاہمت کے بجائے ایک خاص ایجنڈے کے تحت اسلامی فرنٹ کے ناکام تجربے اور 2008ء کے عام انتخاب کے بائیکاٹ کے غلط فیصلے نے انتخابی سیاست سے آؤٹ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ رہی سہی کسر اور کلیدی کردار موجودہ امیر جماعت جناب سراج الحق کے ذہن میں پروان چڑھنے والے حقیقت سے بعید اس تصور نے کیا ہے کہ قوم ایک نجات دہندہ کے انتظار میں سڑکوں پر کھڑی ہے جو قیادت ہمہ وقت سڑکوں پر کھڑی نظر آئے گی، قوم اسی کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرے گی۔ ان کی نیت جتنی نیک ہو اس پر ہمیں بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر ان کے مقبولیت حاصل کرنے کے سارے اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں ہر گزرتا دن اس حقیقت کو آشکار کر رہا ہے کہ جماعت اسلامی کا بنیادی تشخص جناب قاضی حسین احمد (مرحوم) اور جناب سراج الحق کے مقبولیت حاصل کرنے کی خاطر مصنوعی طورطریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے نہ صرف مجروح ہوا ہے بلکہ اسے انتخابی سیاست سے بھی باہر کرنے کا موجب بن رہا ہے۔ یہ نامہ نگار کبھی بھی نہ تو جماعت اسلامی کے نظم سے وابستہ رہا ہے اور نہ ہی کبھی متفق یا کارکن رہا ہے۔ تاہم اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل رہا ہے۔ اور ہمیشہ اس پر فخر بھی کیا جماعت اسلامی کا امیر کون ہو اس کی پالیسی کیا ہو اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ تاہم مولانا مودودی کی فکر کے اسیر ہیں۔ اہل علم میں ان کی حیثیت اسلام کے عظیم مفکر اور ’’مجدد عصر‘‘ کی ہے جو لوگ جناب سراج الحق کے انداز سیاست کو اسلامی قوتوں کو بے توقیر کرنے کا موجب قرار دے رہے ہیں ان پر برہم ہونے کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ جناب سراج الحق کو خود بھی اور جماعت کی قیادت کو بھی خود احتسابی سے اپنی جاری حکمت عملی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اب جماعت اسلامی سے وابستہ ووٹر بھی اس کے امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے نہیں نکلتا ہے جہاں تک اس نامہ نگار کا معاملہ ہے اسے تو جناب سراج الحق سے صرف یہ شکوہ ہے کہ وہ اپنے انداز سیاست اور انداز تخاطب سے سید مودودیؒ کے بارے میں منفی تاثر ان لوگوں میں پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ جنہوں نے نہ تو عالم اسلام کے اس عظیم مفکر اسلام کو پڑھا ہے اور نہ ہی دیکھا ہے وہ سمجھتے ہوں گے وہ بھی جناب سراج الحق صاحب کی طرح کے کوئی سیاسی امیدوار ہوں گے سید مودودیؒ نے تو اپنے بدترین دشمنوں کو بھی مخاطب کرتے وقت اسلامی تعلیمات کی مقرر کردہ اخلاقیات کی حدود کی سختی کے ساتھ پابندی کی۔

مزید : ایڈیشن 1