سمن آباد ٹاؤن کی سینکڑوں خواتین ورکرز کا پولیو مہم میں شرکت سے انکار

سمن آباد ٹاؤن کی سینکڑوں خواتین ورکرز کا پولیو مہم میں شرکت سے انکار

 لاہور(جنرل رپورٹر،نمائندہ پاکستان) صوبائی دارلحکومت میں پولیو کیے قطرے پلانے کی تین روزہ مہم شروع ہو گئی ہے جس کے پہلے روز ہی سمن آباد ٹاؤن کی سینکڑوں خواتین پولیو ورکرز نے قطرے پلانے سے انکار کر دیا اور ایک مقام پر جمع ہو کر ٹاؤن کے ڈی سی سپروائزرز ،انچارج کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔خواتین نے الزام لگایا کہ ٹاؤن کے سپر وائزرز انہیں ہراساں کرتے ہیں ان کی تبدیلی تک وہ مہم کا حصہ نہیں بنیں گی۔ گزشتہ روز ضلعی انتظامیہ کی طرف سے لاہور میں انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، تین روزہ مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر 17 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق ڈی سی لاہور سمیر احمد سید کی طرف سے گزشتہ روز سمن آباد ہسپتال میں کمسن بچے کو پولیو کے قطرے پلا کر تین روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے ۔ اس موقع پر ڈی سی لاہو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوام سے بھی اس انقلابی مہم میں تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔بتایا گیا ہے کہ انسداد پولیو مہم، 19، 20، 21 ستمبر تک جاری رہے گی اور 4400 ٹیمیں گھر وں میں جا کر 5 سال سے کم عمر 17 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی۔دریں اثناء پہلے روز ہی پولیو مہم کی ملازمین نے سمن آباد ٹاؤن میں پولیو انچارج کے خلاف احتجاج کے طور پر کام کرنے سے انکار کر دیا، خواتین پولیو ورکرز نے سی ڈی سی پر ہراساں کرنے الزام کے سابقہ الزام کی وجہ سے کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ خاتون ملازمین نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملہ کا فوری نوٹس لیں۔اس حوالے سے ہیلتھ اتھارٹی لاہور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سعید گھمن سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ معاملے کا نوٹس لے لیا گیا ہے خواتین ورکرز کو بھر پور تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے تحقیقات کر کے کہ اگر سپروئزرز خواتین ورکرز کو ہراساں کرنے کے حوالے سے گنہگار پائے گئے تو ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کی جائے گی اس حوالے سے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1