خلیجی معاملے میں قطر سے غلطیاں ہوئیں،سابق قطری وزیرخارجہ

خلیجی معاملے میں قطر سے غلطیاں ہوئیں،سابق قطری وزیرخارجہ

دوحہ(این این آئی)قطری حکومت کی خطے کے ممالک کے حوالے سے نا مناسب پالیسیوں پر خود حکمران خاندان کے افراد بھی نالاں دکھائی دیتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق سابق امیر قطر کے بھتیجے اور سابق وزیرخارجہ سلطان سحیم آل ثانی کے بیٹے الشیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے کہا ہے کہ خلیجی بھائیوں کے معاملے میں دوحہ حکومت سے فاش غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔انہوں نے توقع ظاہر کی قطر کے حکمراں خاندان اور اعوان و انصار کی اپیل پر دوحہ حکومت مل بیٹھ کر خلیجی ممالک کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے موثر اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ سب پر اجلاس میں شرکت پر زور دیتے ہیں۔اپنے ایک بیان میں الشیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے کہا کہ مجھے یہ خوف ہے کہ قطر کا نام دہشت گرد ممالک کی فہرست میں شامل نہ کردیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کے بارے میں قطر سے بہت فاش غلطیاں ہوئی ہیں۔اپنے بیان میں سابق امیر قطر کے بھتیجے اور قطر کے آل ثانی خاندان کی اہم شخصیت الشیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے کہا کہ مجھے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دانش مندی پر کامل یقین ہے۔ میں جانتا ہوں کہ شاہ سلمان اور دوسرے ممالک کی قیادت ہم سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کردار ملک کو ترقی اور یکجہتی کی طرف لے جاتے ہوئے اپنے وطن کو ہرطرح کی آلائشوں سے پاک صاف کرنا ہے۔الشیخ خلیجی ملکوں اور قطر کے درمیان بحران پیدا ہونے کے بعد میں ایک دن بھی اپنے ملک میں نہیں رہ سکا جب کہ غیرملکی دھڑا دھڑ قطر میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہمارے تحفظ کی آڑ میں ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ملکوں کے خطرے سے ہمیں بچانے آئے ہیں۔ ان غیرملکی عناصر کے لیے قطر محفوظ ٹھکانہ بنتا جا رہا ہے اور وہ قطر میں مستقل آباد کاری کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم الشیخ جاسم جیسے عظیم لیڈر کی اولاد ہیں جن کی کاوششوں سے یہ عظیم مملکت قائم ہوئی تھی۔عبداللہ آل ثانی کا کہنا تھا کہ مجھے قطر اور دوسرے ملکوں کے درمیان جاری تنازع دیکھ پر بہت دکھ ہوتا ہے۔ حالات بد بدتر کی طرف جا رہے ہیں۔ خلیج عرب کے ممالک کے خلاف اشتعال انگیزی، ان کے امور میں مداخلت تمام حدیں پار کررہی ہے۔ ہمیں ایک ایسے انجام کی طرف دھکیلاجا رہا ہے جس کی طرف ہم نہیں جانا چاہتے۔

مزید : عالمی منظر