قطر کیلئے دہشت گردی کی معاونت سے باز آنے کا وقت آگیا: مصر

قطر کیلئے دہشت گردی کی معاونت سے باز آنے کا وقت آگیا: مصر

قاہرہ(آن لائن)مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آنے کے بعد ایک تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ قطر دہشت گردی کی معاونت اور پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لے۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی سول سوسائٹی کے نمائندہ گروپ سے ملاقات میں مصری صدر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصر کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک دہشت گردی کی معاونت اور پشت پناہی کررہے ہیں جس کے باعث دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے قطر کا نام لے کر کہا کہ دہشت گردی کی پشت پناہی اور معاونت کرنے والوں میں قطر بھی شامل ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دوحہ دہشت گردوں کی معاونت سے باز آجائے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی اصل ذمہ داریاں پوری کرے۔صدر عبدالفتاح السیسی کا کہنا تھا کہ قطر کو دوسرے عرب ممالک کے مفادات کو ضرر پہنچانے کی پالیسی سے باز آنا اور عدم مداخلت کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب قطر بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک کے مطالبات کا مثبت جواب دے گا۔مصری ایوان صدر کے ترجمان علاء یوسف نے بتایا کہ گذشتہ روز نیویارک میں امریکا کی سرکردہ شخصیات، سابق وزراء4 ، ارکان کانگریس اور سابق فوجی افسران نے صدر السیسی سے ملاقات کی اور انہیں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آمد پر انہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر صدر السیسی نے مصر اور امریکا کے درمیان تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے اور دونوں ملکوں کے درمیان طویل تاریخی دوستانہ تعلقات پربھی کھل کر بات کی۔ترجمان علاء یوسف کے مطابق صدر السیسی اور امریکی مندوبین کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ پر خصوصی طور پر گفتگو کی گئی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حالیہ برسوں کے دوران مصر کے کردار، مصر کی موجودہ اندرونی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔صدر السیسی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے چار اہم امور پر خصوصی طور پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ بلا تفریق تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جاندار کارروائی، دہشت گردوں کی مالی معاونت، اسلحہ، مادی اور معنوی، امداد، سیاسی اور نظریاتی سپورٹ روکنا، جنگجو گروپوں کی مزید بھرتیوں کا راستہ بند کرنا اور خطے کے قومی اداروں کو دہشت گردوں سے محفوظ بنانا ہوگا۔مصر میں جمہوریت کے فروغ اور انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنائے جانے پر بات کرتے ہوئے صدر السیسی نے کہا کہ مصر اس وقت ایک دستوری ملک ہے۔ دستور اور ریاستی اختیارات میں توازن ہے، منتخب پارلیمان کو وسیع تر اختیارات حاصل ہیں۔ ان کی حکومت ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ اور پورے مشرق وسطیٰ میں امن وآشتی کے لیے موثر کوششیں کررہی ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے مصر میں انسانی حقوق اور جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔

مزید : عالمی منظر