الیکشن کمیشن کے پاس توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار نہیں ،فواد چوہدری

الیکشن کمیشن کے پاس توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار نہیں ،فواد چوہدری

اسلام آباد(آن لائن) تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کی جانب سے عدلیہ اور فوج کے خلاف مہم کو ملکی سلامتی کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ سے اس کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شریف خاندان نے پاکستانی قوم کے اربوں روپے کھائے ہیں اور ہماری کوشش صرف اتنی ہے کہ پاپا، پپو اور پیسے ملک میں واپس لے کر آئیں ان کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کے بلانے کے باوجود آج ایک بار پھر شریف خاندان کا کوئی فرد پیش نہیں ہوا، نوازشریف اور ان کی کمپنی پرویز مشرف کے بھاگنے کی باتیں کرتی تھی اور آج خود عدالتوں کا سامنا کرنے سے بھاگ رہے ہیں انہوں نے کہاکہ ایک بار پھر شریف فیملی کی جگہ ان کے منشی آصف کرمانی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہمیں نوازشریف اور ان کے بچوں کی لندن رہائش گاہ کا پتہ معلوم نہیں انہوں نے کہاکہ سب جانتے ہیں کہ نوازشریف، حسن اور حسین نواز کہاں رہتے ہیں آصف کرمانی کو عدالت میں جھوٹ بولنے پر گرفتار کیا جانا چاہئے تھا۔انہوں نے مزید کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ معزز ججوں اور قومی اداروں کے خلاف بیانات دینے پر وفاقی وزیرداخلہ کے خلاف کارروائی کا حکم دیں اور ان سے پوچھا جائے کہ کس کی ایما پر بیانات دے رہے ہیں اس موقع پر تحریک انصاف کی منحرف رہنما عائشہ گلالئی کے حوالے سے بیرسٹر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی کی باتیں غیر ضروری ہیں جن کا جواب دینا مناسب نہیں، پورا میڈیا جانتا ہے کہ انہوں نے خود پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اور اتنے جھوٹ بولے کہ ڈکشنری میں تبدیلی کی گئی ان سے صرف اتنا کہتا ہوں کہ وہ اپنی نشست سے دستبردار ہوکر دوبارہ الیکشن میں حصہ لیں تو انہیں ان کی اوقات کا پتہ چل جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان الیکشن کمیشن سمیت تمام آئینی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور ہر جگہ پیش ہوتے ہیں، لیکن ہمارا نکتہ ہے کہ الیکشن کمیشن عدالت ہے یا انتظامی ادارہ اگر انتظامی ادارہ ہے تو اس کے پاس توہین عدالت کا اختیار نہیں اور اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی لارجز بنچ تشکیل دی جا چکی ہے اور آج( بدھ کو) اس کی سماعت ہے۔

فواد چودھری

مزید : صفحہ آخر