اصلاحات پر 3ماہ میں عملدرآمد کرینگے،حکومتی اتحادی اتنے مضبوط نہیں کہ فاٹا کا انضمام روک سکیں:عبدالقادر بلوچ

اصلاحات پر 3ماہ میں عملدرآمد کرینگے،حکومتی اتحادی اتنے مضبوط نہیں کہ فاٹا ...

اسلام آباد (صباح نیوز)وزیرریاستیں وسرحدی امورلیفٹیننٹ جنرل(ر)عبد القادر بلوچ نے واضح کیا ہے ہمارے اتحادی اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ وہ فاٹا کا صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام روک سکیں ۔آئین میں فاٹا کے معاملے پر ریفرنڈم کی کوئی گنجائش نہیں ، جو بھی افسر فاٹا جاتا ہے وہ کرپٹ ہو جاتا ہے ، این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو شفافیت کے بغیر ٹھیکے نہیں دیے جائیں گے ۔ ترقیاتی کام کیلئے سول ٹھیکیداروں کی سکر و نٹی کا مقصد ماضی میں ٹھیکیداروں کی طرف سے طالبان کو بھتہ دینا ہے جس سے وہ ہتھیار خرید کر فوج کیخلاف لڑتے تھے ۔ پولیٹکل ایجنٹ بھی آج فوج کی مدد کے بغیراپنے علاقے میں کام نہیں کر سکتا ،فاٹا میں فوج کا متبادل نظام لانا ہو گا۔ منگل کو فاٹا اصلاحات پر سینیٹ کی ہول کمیٹی کے اجلاس میں سے وزیر سیفران کا مزید کہنا تھا فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کمیٹی کے گورنر خیبرپختونخوا جبکہ آرمی چیف اور چیف سیکرٹری کے پی کے اس کے ارکان ہیں، پانچ سال میں فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیاجائے گا اورمناسب وقت پر جب سمجھا جائے گا اس کو کے پی کے میں ضم کر لیاجائے گا ۔ ہم چاہتے 2018 ء میں فاٹا میں بھی صوبائی اسمبلی کے الیکشن ہوں، انضمام کے بعد وہاں الیکشن کی تجویز ہے اگر فوراً انضمام کریں گے تو وہاں مشکلات بڑھ جائیں گی اور موجودہ نظام کو بدلنے کیلئے وقت چاہیے ۔ 20 گریڈ کے چیف آپر یٹنگ افسر کے تحت کام کیا جائے گا اور ایک نظام بنائیں گے جو اپنی رپورٹ گورنر کو دے گا گورنر ہاؤس کے تحت ہی یہ سی ای او کام کریں گے ۔ افسرکی تقرری کیلئے گورنر اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا سے مشاورت ہو گی ۔ جب تک کے پی کے میں فاٹا کا انضمام نہیں ہوتا یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں رہے گا ۔ رواج ایکٹ ایف سی آر کی جگہ لیتامگر اپوزیشن کی بھرپور مخالفت پر رواج ایکٹ کو ختم کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ پچیس نکات سے متعلق کاروائی کا سلسلہ جاری ہے، ہرسال 100 ارب فاٹاکے ترقیاتی فنڈ کیلئے رکھا جائے گا جس میں سے 70 ارب بڑے منصوبوں اور 30 ارب سول حکومت کے ذریعے فاٹا میں خرچ کئے جائیں گے، اس طرح ہر ایجنسی کو چار سے پانچ ارب روپے ملیں گے ۔ فاٹا میں اچھے افسر نہیں جاتے اس لیے اب ایک قانون لا رہے ہیں جس کے تحت جو بھی افسر فاٹا جائے گا اس کو 20 فیصد اضافی تنخواہ دی جائے گی ۔ بد قسمتی سے جو بھی افسر فاٹا جاتا ہے وہ کرپٹ ہو جاتا ہے ۔ بے نظیر انکم سپورٹ ، فاٹا کے طلباء کیلئے سکالر شپ دس سال کے لیے دگنا کر دیا ہے اور بیت المال کو فاٹا میں لے کر جائیں گے، اصلاحات پر تین مہینے میں عملدرآمد شروع کر دیں گے ، فاٹا کے چیف آپریٹنگ افیسر کے پاس انتظامی اختیارات نہیں ہوں گے بلکہ وہ صرف مختلف شعبوں میں ریسرچ کر کے اپنی سفارشات گورنر کو دے گا ۔ پولیٹیکل ایجنٹ کی جگہ فاٹا میں ڈپٹی کمشنر لیں گے ۔ خواہش تو یہ ہے کہ 2018 ء سے پہلے فاٹا اصلاحات کا مکمل نفاذ ہو جائے ہم نہیں چاہتے کہ فاٹا میں جلد بازی کی وجہ سے طالبان اور داعش آ جائیں اور امن و امان کی صورتحال دوبارہ خراب ہو جائے، کیونکہ فاٹا میں امن کے بغیر کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو سکتا ۔ فاٹا میں بڑے پراجیکٹ فوج کے زیر نگرانی مکمل کئے جائیں گے ۔فاٹا اصلاحات میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ممبران جو تجویز دیں گے اس کو قبول کریں گے ۔ مقامی حکومتوں کا الیکشن ہم17 ء میں کروانا چاہتے تھے مگر اب یہ 18 ء میں ہونگے ۔اس موقع پر چےئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے حکومت کو فاٹا کے چیف آپریٹنگ افیسر کے عہدہ کا باقاعدہ ضابطہ کار وضح کرنے کی ہدایت کی اور کہا سول افراد کو فاٹا میں ٹھیکے نہ دینے کے حکمنامہ کو کو واپس لینے کے بارے میں بھی کہا ،انھوں نے فوج کے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار کو سراہتے ہوئے قوم کی طرف سے ان قربانیوں پر پاک فوج کو سلام پیش کیا اور کہا آئین کے تحت فوج کا کردار سرحدوں اور قومی امن قائم کرنا ہے ، مگر بد قسمتی سے ماضی میں فوج نے سول اداروں میں مداخلت کی اس لیے ضروری ہے فاٹا کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے قواعد میں لکھا جائے کہ وہ آرمی جنرل نہ ہو ۔

عبدالقادر بلوچ

مزید : علاقائی