کیلے کے گودام میں مزدوروں کی ہلاکت پر مزدور سراپا احتجاج ،پولیس کا مالک گودام سے مک مکا

کیلے کے گودام میں مزدوروں کی ہلاکت پر مزدور سراپا احتجاج ،پولیس کا مالک ...
 کیلے کے گودام میں مزدوروں کی ہلاکت پر مزدور سراپا احتجاج ،پولیس کا مالک گودام سے مک مکا

  

لاہور(خبر نگار)گلشن اقبال کے علاقہ میں کیلے کے گودام میں گیس بھرنے سے دو مزدوروں کی ہلاکت پر مزدور سراپا احتجاج، پولیس نے گودا م کے مالک محمد شفیق کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے مبینہ طور پر ’’مک مکا‘‘ کرلیا۔ جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی ہلاکت پر ساتھی مزدور نعشوں پر زاروقطار روتے رہے۔ سبزی منڈی میں آئی فروٹ گودام کے مالک محمد شفیق نے کچے کیلے تیار کرنے کا گودام بنا رکھا تھا۔ اور اس گودام میں عمر فاروق اور حنیف سمیت ارشاد علی سو رہے تھے کہ رات کے وقت امونیا گیس لیکج ہونے پر کمرہ میں بھرگئی جس کے باعث سانس بند ہونے پر دو مزدور اختر اور عمران فاروق جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ دو مزدور حنیف اور ارشاد کی حالت تاحال تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ واقعہ کے خلاف فروف منڈی کے مزدور سراپا ا حتجاج بنے ہوئے ہیں۔ ’’ روزنامہ پاکستان‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے عصمت خان، عظمت خان، وحیل گل، ایمان خان، اسد خان، اسلم ، دلمیر خان، وحید عالم ، اکبر خاں اور دیگر نے کہا کہ پولیس نے گودام کے مالک محمد شفیق کے ساتھ مبینہ طور پر ساز باز کر لی ہے جس کی بنا پر پولیس نے صرف زیر دفعہ 174 ض ف کی کارروائی کی ہے جس میں پولیس نے اتنے بڑے واقعہ کو حادثاتی واقعہ قرار دیا ہے جو کہ سراسر ظلم ہے۔ اس موقع پر عصمت خان ، عظمت خان اور وحید گل نے کہا کہ ایک طرف دو مزدوروں کی جانیں چلی گئی ہیں ۔ دو مزدور زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ پولیس نے کارروائی تک نہ کی ہے۔ مزدور اکبر اور اسلم نے کہا کہ اس طرح کے پہلے بھی واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن ضلعی حکومت یا پولیس کوئی کارروائی نہیں کرتی ہے۔ اس کے لئے حکومت کو قانون سازی کرنا چاہیے۔ بغیر اجازت کے بنائے گئے گودام اور ورکشاپوں کا خاتمہ ہونا چاہیے جبکہ ایسے واقعات کے دوران جانوں کے ضیاع ہونے پر بھی قانون میں تبدیلی ہونا چاہیے اور باقاعدہ مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ جاں بحق ہونے والے دونوں مزدوروں کی نعشیں پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کیں تو وہاں پر مزدور اور ان کے لواحقین نعشوں پر زاروقطار روتے رہے۔ متوفی اختر بہاولپور کا رہائشی اور چار بچوں کا واحد سہارا تھا جبکہ عمر فاروق پانچ بچوں کاباپ اور بہاولنگر کا رہائشی تھا۔ پولیس کے مطابق لواحقین نے کارروائی نہیں کروائی جس پر حادثاتی واقعہ قرار دیا گیا ہے۔

مزید : علاقائی