صوبائی حکومت نے عوام پر تعلیم کے دوازے بند کردیئے ،حاجی غلام علی

صوبائی حکومت نے عوام پر تعلیم کے دوازے بند کردیئے ،حاجی غلام علی

پشاور( کرائمز رپورٹر)جے یوآئی کے مرکزی رہنما وسینیٹرحاجی غلام علی نے کہاہے کہ ملکی ترقی،دنیاکے ساتھ شانہ بشانہ چلنے اورغربت کے خاتمہ کیلئے تعلیم انتہائی ضروری ہے لیکن تحریک انصاف کی ناکام حکومت پختونخواکے غریب عوام پرتعلیم کے دروازے بندکرناچاہتی ہے،یہودکی خوشنودی کی خاطر آج پختون بچوں اوربچیوں کے ہاتھ قلم چھینے کی کوشش کی جارہی ہے،اگرصوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں کی نجکاری کافیصلہ ترک نہ کیاتواساتذہ کیساتھ عوام بھی سڑکوں پرنکلے گے ایسی صورتحال میں جے یوآئی کے ہزاروں،لاکھوں کارکن بھی عوام اوراساتذہ کے شانہ بشانہ کھڑے رہینگے کسی بھی ناخوشگوارواقعہ کی تمام ذمہ داری عمران خان اورصوبائی حکومت پرعائدہوگی،آئین پاکستان کی روح سے مفت تعلیم،صحت اوربنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے،تحریک انصاف کے تعلیمی اداروں کی نجکاری کے فیصلہ سے ثابت ہوگیاہے کہ یہودکی کودمیں اپنی نسل کوپروان چڑھانے والا حقیقت میں کون سے تبدیلی چاہتاہے،تعلیمی اداروں کی نجکاری دراصل غریب بچوں اوربچیوں کوتعلیم سے محروم رکھ کرجہالت کے اندھیروں میں دھکیلناہے،حاجی غلام علی نے مزیدکہاکہ چارسال تک صحت وتعلیمی ایمرجنسی اوراصلاحات کے دعوے کرنیوالوں کی اصلیت عوام کے سامنے آچکی ہے،ہسپتالوں کی نجکاری سے غریب عوام کی مشکلات میں اضافہ کیاگیااوراب صوبے کے سرکاری سکولوں اورکالجوں کی نجکاری غریب عوام کیساتھ دشمنی کے مترادف ہے،خیبرپختونخوااسمبلی میں بیٹھے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان اپنی ذاتی مفادکیلئے بنی گالاکی ناقص پالیسی پرخاموش ہیں تاکہ تعلیمی اداروں کی نجکاری سے ان کوفائدہ پہنچے اوران کی دکانیں چمکیں،عمران خان بتائیں تقریباً پانچ سالہ اقتدارمیں خیبرپختونخواحکومت نے کون سا تیرماراہے،میٹرک کے بدترین نتائج ہوں،قیمتی جانیں نگلتابے قابوڈینگی،جابجاگندگی کے ڈھیر،پینے کامضرصحت پانی،بے روزگاری عوام آج بھی کئی قسم کے مسائل سے دوچارہیں جن میں موجودہ حکومت نے کمی کی بجائے اضافہ ہی کیاہے،صوبائی حکومت بنی گالاکے سامنے عوام کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہوگئی ہے،انہوں نے کہاکہ جے یوآئی تعلیمی اداروں کی نجکاری کی مذمت کرتی رہے گی،حکومتی ظالمانہ اقدامات نے عوام کے صبرکاپیمانہ لبریز کردیاہے،2018کے الیکشن میں عوام تحریک انصاف بدترین شکست سے دوچارکرینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر