سٹی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت، مریضوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے لگی، انکوائری شروع

سٹی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت، مریضوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے لگی، ...

ملتان(وقائع نگار) ملتان کے سب سے بڑے پرائیویٹ سٹی ہسپتال میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کی وجہ سے مریضوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ ہسپتال کے ڈاکٹرز کی غفلت نے ایک اور معصوم بچے کی جان لے لی۔ پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن نے ہسپتال کی (بقیہ نمبر38صفحہ7پر )

انتظامیہ اور ڈاکٹرز کیخلاف انکوائری شروع کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر اعجاز، ڈاکٹر عاصم خورشید، ڈاکٹر رانا طارق، ڈاکٹر ناصر سمیت دیگر متعلقہ عملے کو طلبی کے نوٹس جاری کردیئے ۔ گل گشت کالونی کہکشاں سٹریٹ کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا کہ اس نے 17اپریل 2017ء کو سٹی ہسپتال میں ایک بچے کو جنم دیا۔ ایک ہفتہ کے بعد بچے کو لوز پیسٹ کی تکلیف ہوئی۔ جسکی وجہ سے اس کو دوبارہ مذکورہ ہسپتال لایا گیا۔ جہاں موقع پر کوئی سینئر ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔ جونیئر ڈاکٹر نے فرح خان کوبتایا کہ اس وقت کوئی سینئر ڈاکٹر موجود نہیں اور نہ ہی کوئی فون اٹینڈ کررہا ہے۔ اسی دوران فرح خان نے ڈاکٹر عاصم خورشید سے موبائل فون پر بذریدہ مسیج بچے کے بارے میں تمام حقیقت بتلائی، جس نے مسیج کے جواب میں ’’انفاکول‘‘ دوائی کا نام لکھ کر بھیجا جسکو روزانہ دو ٹائم استعمال کرنے کیلئے کہا جبکہ جونیئر ڈاکٹر مذکورہ ہسپتال میں داخل کرانے کی ضد میں لگا رہا ہے۔ اور پھر ضد کے آگے بے قابو ہوکر داخل کرواکر چارٹ بنوالیا گیا۔ ٹھیک دو گھنٹے کے بعد ڈاکٹر نے میرے بچے کو یہ کہہ کر ڈسچارج کردیا کہ اب اپکا بچہ بالکل ٹھیک ہے۔ گھر لے جاؤ، گھر آنے پر بھی بچے کی حالت نہ سنبھلی اور جوں کی توں رہی منہ سے پانی نکلتا رہا۔ خالت زیادہ بگڑنے پر بچے کو ایک بار پھر سوموار کی علی الصبح تقریباً 5.30بجے سٹی ہستپال علاج کی غرض سے لایا گیا۔ جہاں پھر سینئر موجود نہ تھے۔ ایک جونیئر ڈاکٹر نیند سے اٹھا۔ اور آنکھیں ملتا ہوا کمرے سے باہر نکلا بچے کو چیک کیا اور بتلایا کہ اس کو کچھ نہیں اسکی ناک بند ہے۔ ڈراپ لکھ کر دیئے کے ہر دو گھنٹے کے بعد اسکی ناک میں ڈالیں۔ بچہ ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر بچے کے منہ سے پانی نکلنا بند نہ ہوا 8.30بجے صبح کے قریب ڈاکٹر عاصم خورشید راؤنڈ کیلئے آئے۔ جن کو کام تردوبارہ حقیقت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بچے کو چیک کرنے کے بعد ہسپتال میں داخل کرلیا۔ نرس کو چند ہدایت کے ساتھ ادویات بھی تجویز کیں۔ اور پھر چلے گئے۔ بعد ازاں بچے کی حالت دوبارہ بگڑنے پر اس کو آکسیجن دینا شروع کردیا۔ اور موبائل فون پر رابطہ کرکے ڈاکٹر عاصم خورشید سے اور ادویات تجویز کروائیں۔ اور اس کا استعمال شروع کردیا۔ اس دوران بچے کی والدہ فرح خان شور مچاتی رہی کے میرے بچے کو کیو آکسیجن لگائی ہے۔ اس کا صرف نوزپیٹ کی تکلیف ہے۔ مگر ڈاکٹروں و سٹاف نے علاج جاری ہونے کی وجہ سے چپ کروایا۔ 10/15منٹ کے بعد ڈاکٹر نے آکر بتلایا کہ بچے کا ہارٹ فیل ہونے کی وجہ سے اسکی موت واقع ہوگئی ہے۔ فرح خان نے پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کو سٹی ہسپتال کے ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے بچے کی موت کا ذمہ دار ٹھراتے ہوئے درخواست دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بعداز ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی کا آغاز کرکے انہیں طلبی کے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ واضح رہے آخری پیشی 9ستمبر 2017ء کو دی تھی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر