دل اور دمہ کے مریضوں کے لئےسب سے بڑی خوشخبری،ارجن کے قہوے میں وہ بات ہے جو اس سے پہلے آپ نے سنی نہ ہوگی

دل اور دمہ کے مریضوں کے لئےسب سے بڑی خوشخبری،ارجن کے قہوے میں وہ بات ہے جو اس ...
دل اور دمہ کے مریضوں کے لئےسب سے بڑی خوشخبری،ارجن کے قہوے میں وہ بات ہے جو اس سے پہلے آپ نے سنی نہ ہوگی

  

لاہور(حکیم محمد عثمان) ارجن ایک ایسا درخت ہے جس کی چھال میں قلبی قوت بڑھانے والا ایک اہم جوہر ”گلوکوسائیڈ“ پایا جاتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق ارجن سے حاصل کردہ اجزاء نمایاں طور پر دل کے نازک پٹھوں کیلئے باعث تقویت ہوتے ہیں، خون کی نالیوں کو مضبوط بناتے ہیں اور خون میں موجود چکنائی کے انہضامی نظام کی اصلاح کرتے ہیں۔

ارجن کا قہوہ جریان خون‘ جریان منی‘ دستوں اور پیچش کے لئے صدیوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ اطباءنے اسے عمدہ ٹانک قرار دیا ہے۔ اس کی چھال مثانے کی پتھریوں کے اخراج میں بھی مدد دیتی ہے۔ دمہ کے علاج کے لئے یہ عمدہ دوا ہے۔ اس مرض کے لئے ارجن کی چھال خشک کرکے کوٹ کر پیس لی جاتی ہے پھر اسے چھان کر ڈھکن والی بوتل میں بند کرکے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔

آیورویدک طریقہ علاج میں اس سفوف کا استعمال اس طرح کیا جاتا ہے کہ دمہ کے مریض کو پورے چاند کے دن روزہ رکھنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ گاڑھے دودھ اور چاولوں کی کھیر پکا کر اسے ساری رات وہاں رکھا جاتا ہے جہاں اس پر چاند کی روشنی پڑتی رہے۔ علی الصبح اس کھیر پر ارجن کی چھال کا سفوف 12گرام مقدار میں چھڑک کر مریض کو جی بھر کر کھانے کو دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مریض کو کم از کم 12گھنٹے تک سونے نہیں دیا جاتا یوں مریض کو افاقہ محسوس ہوتا ہے۔

ارجن کے قہوے کی اینٹی اوکسیڈنٹ صلاحیت کو انتہائی مو¿ثر پایا گیا ہے اور وہی اس کے بطور دوا انتخاب کی ذمہ دار ہے۔ اینٹی اوکسیڈینٹ ایسے اجزاء کو کہا جاتا ہے جو دیگر اجزاءکو آکسیجن کے ساتھ مل کر ایسی ٹھوس شکل اختیار کر نے سے روکیں یا ان کی ایسا کرنے کی رفتار کو کم کریں جو انسانی صحت کیلئے مضر ہوں۔ مثلاً چکنائی کا خون کی نالیوں میں جم جانا وغیرہ۔ اس طرح ارجن کی چھال سے بنے قہوے کا استعمال چکنائی اور پروٹین کو رگوں میں جمنے نہیں دیتا اور خون کے رگوں میں دوڑتے پھرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت