حلقہ این اے 120 میں جیت کا مغالطہ

حلقہ این اے 120 میں جیت کا مغالطہ
حلقہ این اے 120 میں جیت کا مغالطہ

  

حلقہ این اے 120 کے نتائج نے تمام مفروضے غلط ثابت کردیئے ہیں۔یہ کہا جاتا تھا کہ عمران خان کی مقبولیت میں کمی واقع ہو گئی ہے ۔لیکن اس معرکہ سے نظر آتا ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹ بینک تو وہیں کا وہیں کھڑا رہا تھوڑا بہت فرق تو ضمنی انتخاب میں پڑ ہی جاتا ہے لیکن ن لیگ کا ووٹ بینک تو بہت زیادہ کم ہو گیاہے۔

باوجود اس بات کے کہ مرکز اور پنجاب میں حکومت ، بلدیاتی اداروں کا رات دن کام کرنا اوراس پر مریم نواز کا اعلان کہ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو حلقے کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے حلقہ میں ن لیگ کو جھٹکا لگا ہے ۔ مسلم لیگ کے حق میں پڑنے والے ووٹوں کو دیکھا جائے تو یہ 47 فیصد بنتے ہیں یعنی حلقے کی 53 فیصد عوام نے ان کے خلاف ووٹ ڈالا کیونکہ سبھی جماعتیں تحریک انصاف ، تحریک لبیک پاکستان ، ملی مسلم لیگ ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی سبھی ن لیگ کے خلاف ہی منشور لے کر میدان میں اتری تھیں ۔اب مریم بی بی کا یہ کہنا ہے کہ عوام کی اکثریت نے عدالتی فیصلے کو مسترد کر دیا ہے تو یہ انتخابی نتیجہ اس کی تردید کر رہا ہے ۔

ن لیگ نے الیکشن جیتنے کے لئے دیگر سیاسی جماعتوں کا زور توڑنے کی کوشش کی جس کی بڑی مثال عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار امیر بہادر خان ہوتی کی صورت میں تحریک انصاف کے خلاف تھی کہ ہو سکتا ہے ہزار دو ہزار پٹھانوں کا ووٹ عمران خان کو پڑنے سے رک جائے ، مذہبی جماعتوں کا زور توڑنے کی کوشش سب سے زیادہ تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار کے خلاف نظر آئی جہاں خادم حسین رضوی اور ضعیم قادری کے ملنے کی ڈیڑھ برس پرانی تصاویر شائع کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ تحریک لبیک پاکستان کا امیدوار ن لیگ کے حق میں دستبردار ہو گیاہے لیکن تحریک لبیک والے ڈٹے رہے اور 7ہزار سے زائد ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر آ گئے۔ انہی کے خلاف ایک اور کوشش ہمارے دوست پروفیسر فاروق سعیدی کے ذریعے کی گئی جب کیپٹن صفدر نے ان سے پے درپے ملاقاتیں کیں اور تحریک صدقے یارسول اللہ جیسی فرضی تنظیم وجود میں لائی گئی۔ اخبارات کے لیے فرضی پریس ریلیز جاری ہوئیں جس میں لبیک یارسول اللہ فاونڈیشن کے ذریعے بھی ن لیگ کی حمایت کا اعلان کیا گیا اور سوشل میڈیا پر بھی بھرپور مہم چلائی گئی جسے بہت سے لوگوں نے درست مان بھی لیا۔ یہی حال اہل حدیث اور اہل تشیع اکابرین کی تصاویر چلا کر بھی کیا گیا حالانکہ حقیقت میں مسلم لیگ ن صرف جمعیت اہلحدیث ، جمعیت علماء پاکستان پیر اعجاز ہاشمی گروپ ، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی کی ہی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی اور ان جماعتوں کا جتنا ووٹ بینک ہے وہ سب کو پتہ ہے لیکن تاثر یہی دیا گیا کہ شاید سارے مذہبی اکابرین ن لیگ کی حمایت کر چکے ہیں۔حالانکہ ایسا نہیں تھا ، اور اہلحدیث مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی ملی مسلم لیگ کے 5822 اور سنی بریلوی مسلک کی تحریک لبیک پاکستان کے 7130 ووٹ اس کی واضح مثال ہیں کہ ان مخصوص مذہبی قائدین کی حمایت مل جانے کے باوجود مذہبی جماعتوں کے کارکنان مسلم لیگ ن کے ساتھ نہیں چلے ۔ پاکستانی عوام کیونکہ جیتنے والے کی زیادہ حمایت کرتے ہیں اس لیے کئی سروے بھی کروائے گئے جن میں دکھایا گیا کہ 70 فیصد سے بھی زیادہ ووٹر مسلم لیگ ن کے حق میں ہیں ۔ حلقے میں بھر پور ترقیاتی کام بھی الیکشن کے دنوں میں ہی کروائے گئے ۔لاہور بھر سے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی پارٹی عہدیدار لاہور میں ڈیرے ڈالے رہے جس کی مثال سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی چوہدری جعفر اقبال اور مسلم لیگ ن شعبہ خواتین کی سابق صدر سابق ایم این اے بیگم عشرت اشرف کا رحیم یارخان سے لاہور میں آکر کئی دن مقیم رہنا ہے ۔ گلی گلی محلہ محلہ کروڑوں روپے مالیت کے بینرز اور پینا فلیکس لگانے کے ساتھ دفاتر کا قیام جہاں کھانے پینے کے تمام لوازمات موجود ہوتے تھے۔ ملی مسلم لیگ پر الیکشن مہم میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کا الزام لگانے والوں نے خود بھی ان کچھ زیادہ ہی خرچ کر دیا ، جو حلقہ ن لیگ گھر بیٹھے جیت جاتی تھی اسی میں گلی محلوں میں مریم بی بی کو پھرنا پڑ گیا ۔ ووٹر لسٹوں اور پولنگ سٹیشنوں کو بھر پور طریقے سے کنٹرول سابقہ سالوں کی طرح ہی کیا گیا۔اس کے باوجود ن لیگ کہے کہ وہ پہلے کی طرح مقبول ہے اور عمران خان سمیت نواز شریف کے خلاف فیصلہ کرنے والے ہار گئے ہیں،ان کی خوش فہمی ہے۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ