گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 30

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 30

  

ہندوستان میں جمہوریا ور ذمہ دار اسمبلیاں پہلی بار جنوری 1921ء میں قائم ہوئیں اور انہوں نے اگست 1947ء میں مکمل آزادی کی منزل تک ہماری رہنمائی کی۔ 1918ء کے اواخر میں یعنی پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر ہندوستانی فوجیں یورپ سے ا ور جنگ کے دوسرے محاذوں سے، جن میں مشرق وسطیٰ بھی شامل تھا، واپس ہوئیں۔ ان فوجوں نے دنیا دیکھی تھی اور یورپ میں یورپی فوجوں کے ساتھ کامیابی کے ساتھ جنگ آزمائی کی تھی۔ ورے کا خوف ان کے دلوں سے اٹھ چکا تھا اور ان کے ذہنوں پر یہ خیال پوری شدت سے حاوی تھا کہ ان کے ملک کو بھی دوسرے یورپی ملکوں کی طرح آزاد ہونا چاہیے۔ خود ہندوستان میں ہندو اور مسلمان دونوں نے انگریزوں کے ساتھ ان کی جنگی کوششوں میں تعاون کیا تھا۔ یہاں تک کہ یورپ میں دوسرے مقامات پر انگریزوں کی جنگ لڑنے کے لئے خود مسٹر گاندھی نے ہندوستانی فوج میں جوانوں کے دستے بھرتی کئے تھے اور اب ہندو اور مسلمان دونوں حکومت خود اختیاری اور آزادی کی صورت میں اپنی خدمات کے نتیجہ کے منتظر تھے لیکن جنگ ختم ہونے کے فوری بعد دہلی میں وائسرائے کی حکومت نے رولٹ ایکٹ کے نام سے ایک قانون نافذ کیا۔ زمانہ میں سکیورٹی آفس انڈیا (تحفظ ہند) کا قانون نافذ تھا جس کے تحت حکومت ہند کو گرفتاری کے وسیع اختیارات تفویض کئے گئے تھے۔ جنگ کے خاتمہ پر اس قانون کی مدت بھی ختم ہوگئی لیکن انگریز حکام نے اسے ازسرنو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسٹر رولٹ اس کمیٹی کے چیئرمین تھے جس نے اس قانون کا مسودہ تیار کیا تھا لیکن سارا ملک اس قانون کے خلاف شمشیر بکف اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ اس نے ہدوستانی عوام کو مزید آزادی دینے کے بجائے رہی سہی آزادی بھی چھین لی تھی۔ نتیجہ یہ کہ سارے ملک میں جلسے منعقد ہوئے، بلوے بھی ہوئے اور حکومت برطانیہ کے ساتھ عدم تعاون کا کا ایک دور شروع ہوگیا۔ اس قانون کے خلاف احتجاج کی خاطر امرتسر میں ایک زبردست جلسہ منعقد ہوا اور جنرل ڈائر نے ہندستانیوں کو سبق سکھانے کے لئے اس جلسہ کے غیر مسلح ہجوم پراندھا دھند گولی چلائی اورکثیر مقدار میں لوگوں کو ہلاک کردیا۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 29  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس واقعہ سے حکومت برطانیہ اور ہندوستانی عوام کے درمیان کشیدگی پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی۔ تب برطانیہ سے ہنٹر کمیشن بھیجا گیا تاکہ فائرنگ کی تحقیقات کرے اور اس امر کا فیصلہ کرے کہ آیا طاقت کے استعمال کے حق سے تجاوز کیا گیا ہے؟ اس سے اور کچھ نہیں تو اتنا ضرور ہوا کہ ان کمیشنوں نے عوام کی توجہ ایجی ٹیشن سے عدالتی کارروائی کی طرف مبذول کرادی اور ان کی کچھ تشفی بھی ہوگئی لیکن ہندوستان میں سیاسی اصلاحات کی بابت لندن کی پارلیمنٹ میں وزیر مملکت مسٹر مانٹیگو کے اعلان (1917ء) کی رو سے خود حکومت برطانیہ کچھ نہ کچھ کرنے کی پابند تھی۔

1917ء کا سال برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے حق میں بڑا نازک تھا اور برطانوی حکومت ہندوستانیوں کو یہ باور کرانا چاہتی تھی کہ ان کی جنگی کوششیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ اس بیان کے بعد وزیر مملکت 1918ء کے خاتمہ تک ہندوستان آئے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے انہیں لاہور میں گورنمنٹ ہاؤس کی گارڈن پارٹی میں دیکھا تھا۔ چیمسفورڈ اس وقت وائسرائے اور گورنر جنرل تھے۔ ان دونوں نے اصلاحات کی ایک نئی سکیم تیار کی جس کے تحت 1920ء کے خاتمہ پر انتخابات منعقد ہوئے۔ اس دوران 1919ء میں پورا ملک گویا آتش بہ جاں تھا اور پنجاب میں عوام کے مطالبہ آزادی کو دبانے کے لئے مارشل لاء نافذ کرنا پڑا تھا۔ برطانوی حکومت ایک طرف توبلووں کو دبارہی تھی اور دوسری طرف اس نے 75 فیصد منتخبہ ارکان پر مشتمل اسمبلیوں کے قیام سے عوام کی دلدہی کا سامان پید اکردیا تھا۔ ان اسمبلیوں میں وزراء کی نصف تعداد گورنروں کی نامزد کردہ ہوتی تھی اور باقی نصف کا انتخاب وہ منتخب ارکان میں سے کرتے تھے۔ اب ہم حکومت میں مشاورت کے مرحلہ تک جاپہنچے تھے۔

میں نے بھی ان انتخاباتم یں حصہ لیا اور ضلع شاہپور کی تحصیل بھلوال سے لاہور کی لیجلیٹو کونسل کا رکن منتخب ہپوا۔ میرے حلقہ انتخاب میں تقریباً 50 ہزار وٹر تھے اور میں کوئی 10 ہزار ووٹوں کی اکثیریت سے کامیاب ہوا تھا چانکہ میں صوبائی مصنفہ کے لئے منتخب ہوچکا تھا اور ضلع کچہری میں ایڈووکیٹ کی حیثیت سے تین سال کی پریکٹس کا پہلے مجھے تجربہ بھی تھا اس لئے میں نے لاہور منتقل ہونے اور ہائی کورٹ میں پریکٹس شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

ا س سلسلہ میں پہلا کام یہ تھا کہ میں ایک مکان تلاش کروں۔ میں نے والد صاحب کو آمادہ کیا کہ میرے لئے ایک مکان خرید دیں۔ بہت سے مکانات دیکھنے کے بعد آخر کار میں نے دو مکانات منتخب کئے جو ایک انگریز بیوہ مسز ایونز کی ملکیت تھے۔ ان کے شوہر شمال مگربی سرحدی صوبہ کی پولیس میں ملازم تھے اور انہیں ایک پٹھان نے عین عدالت میں جہاں وہ گواہی دے رہے تھے، چھرا مار کر ہلاک کردیا تھا۔ مسز ایونز ایک سنکی عورت تھی اور اس کے مکان کے ایجنٹ نے مجھے بتایا کہ یہ دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ عورت سودا طے کرنے کے بعد ہمیشہ مکر جاتی ہے۔

میں نے سڑک پر تانگہ رکواکر علی محمد کو تانگہ میں ہ ی چھوڑا اور خود اس کے گھر پہنچا۔ مسز ایونز نے دونوں مکانوں کو ایک لاکھ 20 ہزار روپیہ میں فروخت کرنے پر ظاہر کی۔ میں نے اسے سو روپیہ کا نوٹ دیا اور اس کی رسید لے لی اور اس کے ساتھ ہی اس مضمون کا خط حاصل کرلیا، جس سے مکان کے سودے کی تصدیق ہوتی تھی۔ دوسرے دن عورت نے سودے سے پھر جانے کی کوشش کی لیکن اس کے وکیلوں نے مشورہ دیا کہ سودا مکمل طور پر طے پاچکا ہے اور اگر میں نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کردیا تو میری کامیابی یقینی ہے چنانچہ میں نے دونوں مکان خرید لئے۔ نمبر 14 لارنس روڈ میرا ذاتی مکان تھا، جس میں بعد میں مَیں نے ایک پہلو کا اضافہ بھی کیا اور نمبر 18تین دوسرے فون صاحبان کی ملکیت تھا جو میرے نہایت قریبی عزیز تھے۔

میں نے اپنی قانون دانی کا فائدہ ایک بار اس سے پہلے بھی اٹھایا تھا۔ ہوایوں کو جب میں انگلینڈ سے فارغ التحصیل ہوکر بمبئی آیا تو میں نے ریل کے سیکنڈ کلاس کے ڈبے میں نیچے کی ایک نشست اپنے نام بک کرالی اور جب میں ڈبے میں داخل ہوا تو سیٹ پر میرے نام کی چٹ لگی تھی۔ لہٰذا میں سیٹ پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک معمولی سا ریلوے اہلکار ایک اینگلوانڈین کے ساتھ میرے ڈبہ میں داخل ہوا اور اس نے میرا نام ہٹاکر میریس یٹ پر اینگلو انڈین کے نام کی چت لگانے کی کوشش کی۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ سیٹ میرے لئے ریزرو ہوچکی ہے۔ لہٰذا کسی اور کو نہیں دی جاسکتی۔

یہ وہ زمانہ تھا جبکہ ریلوے میں اینگلو انڈین بہت بڑی شخصیت سمجھی جاتی تھیں۔ اہلکار نے کہا کہ ابتداء میں غلطی ہوگئی تھی اور میرا نام یہاں نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے اس سے کہا کہ فرض کرو میرا نام اس سیٹ پر نہیں تھا اور کسی دوسرے کا نام بھی نہیں تھا تو گویا پبلک سواریوں کے قانون کے تحت میں نے ایک نشست پر قبضہ کیا لہٰذا تم مجھے اس سے بے دخل نہیں کرسکتے۔ یہ سن کر وہ اہلکار باہر چلا گیا۔ بعد میں اس نے دو تین دوستوں سے مشورہ کیا اور پھر میری طرف نہیں آیا۔

علم بڑی طاقت ہے۔ قانون کے پیشہ میں ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ غلطیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور پھر وکیل کو معاوضہ ادا کرتے ہیں تاکہ وہ انہیں مصیبت سے نجات دلائے، مصائب سے گریز کے ڈھب سیکھنے کا طریقہ مہنگا ہے!

1920ء کے خاتمہ پر پہلی بار جو انتخابات ہوئے۔ وہ ملک ہمارے ملک کے لئے ایک نیا تجربہ تھے۔ شروع میں بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر نہیں بلکہ محدودبنیادوں پر لوگوں کو انتخاب کا حق دیا گیا تاہم اس میں ایک نہایت وسیع انتخابی حلقہ کی ضمانت دی گئی تھی۔ ہر وہ شخص جو زمین کا مالک تھا، یا اس پر کاشت کرتا تھا، خواہ اس زمین کا رقبہ کتنے ہی مختصر کیوں نہ ہو، ووٹ کا حق رکھتا تھا۔ ( کاشت کار اور زمیندار دونوں کے ووٹ مساوی تھے۔ ملکیت کا رقبہ بہت ہی کم تھا۔ یعنی اوسطاً پانچ ایکڑ ، لہٰذا ووٹر کثیر تعدادمیں نکل آئے تھے۔) تمام فوجی اور سابق فوجیوں کو ووٹ دینے کا حق تھا اور اسی طرح وہ تمام لوگ بھی رائے دہی کے مجاز تھے۔ جن کے اپنے مکان تھے اور ان کے کرایہ کی مالیت دو روپیہ ماہانہ تھی، اَن پڑھ آدمی کو بھی ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔ نتیجہ یہ کہ یہ انتخابی ادارہ نہایت وسیع بنیادوں پر قائم ہوا جس میں بہت سے رائے دہندگان بالکل ہی اَن پڑھ تھے اور جمہوریت اور قانون ساز اداروں کے مقاصد کا مطلق علم نہ رکھتے تھے۔ایسی جمہوریت جمہور کی روح نہیں ہوتی۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 31 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر