’پولیس اہلکاروں نے اس لڑکی کا ریپ کیا اور جب وہ ماں بنی تو اس کا بچہ کتوں کے آگے ڈال دیا‘

’پولیس اہلکاروں نے اس لڑکی کا ریپ کیا اور جب وہ ماں بنی تو اس کا بچہ کتوں کے ...
’پولیس اہلکاروں نے اس لڑکی کا ریپ کیا اور جب وہ ماں بنی تو اس کا بچہ کتوں کے آگے ڈال دیا‘

  

پیانگ یانگ(نیوز ڈیسک)شمالی کوریا سے ہمسایہ ملک جنوبی کوریا اور امریکا کو خوفناک دھمکیوں کی خبریں تو روز سامنے آتی ہیں لیکن ملک کے اندر اس کے اپنے عوام پر کیا بیت رہی ہے، اس کا ذکر کم ہی سننے کو ملتا ہے۔ اب جبکہ اندر کی کچھ خبریں باہر آئی ہی ہیں، تو اس قدر بھیانک کہ جان کر انسان کانپ اٹھے۔ ایک تازہ ترین لرزہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر قید کی گئی خواتین کے ساتھ جیلوں میں ایسا خوفناک سلوک کیا جا رہا ہے کہ جس کی انسانی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں مل سکتی۔

’میرے شوہر نے اپنے 7 دوستوں سے مجھے گینگ ریپ کروایا کیونکہ وہ۔۔۔‘ نوجوان لڑکی نے تھانے میں داخل ہوتے ہی ایسا شرمناک ترین انکشاف کردیا کہ پولیس والوں کے بھی ہوش اُڑادئیے

فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے اور طرح طرح کی اذیتیں دے کر انہیں ہلاک کیا جاتا ہے۔ یہ خوفناک انکشافات جنوبی کوریا کے اخبار ڈونگا البو سے بات کرنے والے شمالی کوریائی ڈاکٹروں نے کئے ہیں۔ شمالی کوریا سے فرارہونے والی ایک خاتون، جس کی پرورش ایک جیل میں ہی ہوئی، نے بتایا کہ جیل کے سکیورٹی گارڈ خواتین قیدیوں کی جب چاہے عصمت دری کرتے ہیں اور اگر کوئی قیدی خاتون حاملہ ہوجائے تو چپکے سے اسے قتل کردیتے ہیں۔ پارک جیو یانگ نامی اس خاتون کا کہنا تھا کہ اہلکار ایک لڑکی کو کئی ماہ تک زیادتی کا نشابہ بناتے رہے اور جب وہ حاملہ ہو گئی تو اسے ایک علیحدٰہ کوٹھڑی میں قید کر دیا۔ جب اس لڑکی کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی تو اسے قتل کر دیا گیا لیکن سفاک اہلکاروں کو صرف لڑکی کا قتل کر کے سکون نہ آیا۔ وہ اس کے نومولود بچے کو لے گئے اور اسے جیل کی رکھوالی کیلئے رکھے گئے خونخوار کتوں کے آگے ڈال دیا۔ پارک جیویانگ کا مزید کہنا تھا کہ جیل میں خواتین کو پتھر مار مار کر بھی ہلاک کیا جاتا ہے۔ جس قیدی کو قتل کرنا مقصود ہو اسے ستون کے ساتھ باندھ کر کھڑا کر دیا جاتا ہے اور پھر دیگر قیدیوں سے کہا جاتا ہے کہ اس پر پتھر برسائیں۔ بندھے ہوئے قیدی پر اتنے پتھر برسائے جاتے ہیں کہ اس کے تن سے گوشت جدا ہو جاتا ہے اور ہڈیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ پارک جیویانگ کے مطابق یہ اکا دکا واقعات نہیں بلکہ شمالی کوریا کی جیلوں میں روز کا معمول ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس