بوسنیا، مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران قتل کئے گئے افراد کی اجتماعی قبر دریافت،65کھوپڑیاں برآمد

بوسنیا، مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران قتل کئے گئے افراد کی اجتماعی قبر ...
بوسنیا، مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران قتل کئے گئے افراد کی اجتماعی قبر دریافت،65کھوپڑیاں برآمد

  

بوسنیا(صباح نیوز)بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران قتل کئے گئے افراد کی اجتماعی قبر دریافت ہوئی، اجتماعی قبر سے 65 کھوپڑیاں برآمد ہوئی ہیں ۔

15سال کی عمر میں انڈسٹری کی جانب سے مجھے کئی بارمسترد کیا گیا :انوشکا شرما

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بوسنیا کے لاپتہ افراد کی تلاش کرنے والے ادارے لجلا ینجک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اجتماعی قبر سے ملنے والی باقیات میں 65 انسانی کھوپڑیاں شامل ہیں، یہ قبرمانٹ ویلاسک کے قریبی علاقے کوریکانسک سٹیجین میں دریافت ہوئی۔ماہرین کے مطابق یہ انسانی باقیات ان 220 سے زیادہ غیر سرب باشندوں کی ہیں جنہیں بوسنیائی سرب فورسز نے 21 اگست 1992 میں قتل کردیا تھا، اجتماعی قبر کا سراغ اگست میں ملا تھا جس کے بعد ماہرین مزید باقیات کی تلاش میں ستمبر سے وہاں موجود ہیں، ملنے والی انسانی کھوپڑیاں زیادہ تران افراد کی ہیں جنہیں قریبی علاقے میں موجود جرائم پیشہ بوسنیائی سربوں کے حراستی مراکز سے یہاں لایا گیا تھا اورانہیں یہ بتایا گیا تھا کہ ان کی جیل تبدیل کی جارہی ہے۔یہی نہیں ان کھوپڑیوں کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں میں ایک خبر یہ بھی ہے کہ کئی سو افراد کو اس علاقے کے شہر پریجڈو سے زبردستی نکالا گیا تھا اورانہیں حکم دیا گیا تھا کہ 990 فٹ گہری کھائی کے اوپر قطار بناکر کھڑے ہوجائیں جس کے بعد ان سب کو گولی ماردی گئی تھی اور ان تمام لوگوں کے کھائی میں گرنے کے بعد سرب پولیس اہلکاروں نے کھائی میں بم پھینک دئیے تاکہ کسی کے زندہ بچنے کا کوئی امکان نہ رہے لیکن اس کے باوجود چند افراد زندہ بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے کیونکہ جیسے ہی سربوں نے فائرنگ شروع کی انہوں نے کھائی میں چھلانگ لگادی اوروہاں اپنے چھپنے کے لیے محفوظ جگہیں ڈھونڈ لیں۔

مزید : بین الاقوامی