افسروں کی غلطی کی وجہ سے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ریاست کی ذمہ داری ہے ،لاہور ہائی کورٹ نے نئی رولنگ جاری کردی

افسروں کی غلطی کی وجہ سے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ریاست کی ذمہ ...
افسروں کی غلطی کی وجہ سے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ریاست کی ذمہ داری ہے ،لاہور ہائی کورٹ نے نئی رولنگ جاری کردی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ریاست کو اس کے افسروں کی غلطی کی وجہ سے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کے ازالہ کا حکم دیا جاسکتا ہے ۔

بوسنیا، مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران قتل کئے گئے افراد کی اجتماعی قبر دریافت،65کھوپڑیاں برآمد

مسٹر جسٹس شاہد وحید نے یہ رولنگ غلام محمد نامی شہری کی درخواست منظور کرتے ہوئے سیکرٹری ہاﺅسنگ پنجاب پر10ہزار روپے ہرجانہ عائد کرتے ہوئے جاری کی ۔فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے کہ وہ متاثرین کو مالی معاوضہ ادا کریں ۔مفاد عامہ کی آڑ میں ریاستی افسر وں کے حکم سے پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ حاصل کرنا متاثرین کا حق ہے ۔اس سلسلے میں وقت آگیا ہے کہ عوام کی دادرسی کے لئے نیا طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ قانون کاتحفظ یقینی بناتے ہوئے اس کی حکمرانی قائم کی جاسکے ۔فاضل جج نے اپنے فیصلے کی نقل چیف سیکرٹری پنجاب کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام محکموں کے سربراہوں کو اس فیصلے سے آگاہ کیا جائے ۔فاضل جج نے اس کیس میں غلطی کے ذمہ دار افسروں کے خلاف انضباطی کارروائی کا حکم بھی دیا ہے ۔غلام محمد کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ اسے 1976ءمیں چنیوٹ کی سرکاری ہاﺅسنگ سکیم میں پلاٹ الاٹ ہوا ،اس کا قبضہ بھی اسے مل گیا ۔بعدازاں اقساط کی عدم ادائیگی کی بنا ءپر اسے شنوائی کا موقع دیئے بغیر 1982ءمیں اس کی الاٹمنٹ منسوخ کردی گئی جس سے وہ لا علم رہا ،اس نے 1999ءمیں پلاٹ پر تعمیرات بھی کرلیں اور پلاٹ عبدالوحید کو فروخت کردیا ،بعدازاں غلام رسول کوکب نامی شہری نے اس کے خلاف کیس کردیا کہ اسے یہ پلاٹ1993ءمیں الاٹ ہوگیا تھا ،متعلقہ کمشنر نے 11مارچ 2008ءکو درخواست گزار کے حق میں فیصلہ دے دیا جسے سیکرٹری ہاﺅسنگ نے 20اپریل2016ءکو کالعدم کردیا ۔لاہور ہائی کورٹ نے سیکرٹری ہاﺅسنگ کے 20اپریل2016ءکے اس حکم کو کالعدم کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار کو 10ہزار روپے ہرجانہ ادا کیا جائے۔

مزید : لاہور