جو چلے تو جاں سے گزر گئے

جو چلے تو جاں سے گزر گئے
جو چلے تو جاں سے گزر گئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

طویل عرصہ تک کینسر جیسے مہلک مرض سے لڑنے کے بعد آہنی اعصاب کی مالک سابق خاتون اوّل بیگم کلثوم نواز بالآخر زندگی کی بازی ہار گئیں،وہ خود آمریت کے خلاف توانا آواز ہونے کے علاوہ نوازشریف کے مزاحمتی کردار کی پشتی بان بھی سمجھی جاتی تھیں،انّا للہِ و انّا اِلَیہ راجِعُون۔عجیب معاملہ یہ ہے کہ ستاروں پہ کمند ڈالنے والے انسان کا زندگی اور موت بارے تصور قدرے غیر واضح ہے،ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں مرنا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں کہاں ،کیسے اور کس وقت مرنا ہے،اسی لئے ابدی حقیقت ہونے کے باوجود موت اپنی ٹائمنگ سے ہمیں حیران کر دیتی ہے،اسی لئے ہر انسان موت جیسی اٹل حقیقت کے خوف کو فراموش کر کے اپنے مفروضوں کی تصدیق اوراپنی امیدوں کی تسکین تلاش کرنے میں سرگرداں نظر آتا ہے،شاید فطرت کی مشیت بھی یہی تھی۔

بستر مرگ پہ پڑی جس خاتون کا پورا خاندان ریاستی استبداد کے خلاف مزاحمت کے دوران ابتلاء کا شکار ہو،جس کے دونوں بیٹے عدالتوں سے اشتہاری قرار پانے کی وجہ سے ماں کی تدفین میں شرکت نہ کر سکیں،جس کے خاوند،بیٹی اور داماد قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہوں ایسے میں اسکی موت ہمارے سماج کو المیہ تو نظر آئے گی، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ خود نوازشریف کی اپنی چُنی ہوئی راہ عمل ہے،جس پر چلنے سے قبل انہیں راستے کی مشکلات کا کامل ادراک تھا،لہٰذا کسی عظیم مقصد کی خاطر شریف فیملی کا دکھ بھوگنا لائق داد و تحسین تو ہو سکتا ہے ،مگر قابل افسوس ہرگز نہیں۔


جیل جانے سے قبل لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا تھا کہ’’ستّر سالوں سے رواں جبریت کے دھارے کا رخ بدلنے کی کوشش کریں گے تو ردعمل بھی آئے گا، لیکن ہم چند ججز اور جرنیلوں کو یہ حق نہیں دے سکتے کہ وہ اپنے حلف سے روگردانی کر کے ملک کی تقدیر کو ہاتھ میں لیں‘‘۔مجھے اچھی طرح یاد ہے، اٹھائیس جولائی دو ہزار سترہ کے بعد محترمہ مریم نواز نے ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ’’ آئین و قانون کی حکمرانی اور سویلین بالادستی کیلئے کسی نہ کسی کو تو قربانی دینا پڑے گی،سو شریف خاندان یہ قربانی دینے کو تیار ہے‘‘ اس لئے یہ دکھ معاشرے کی نظر میں جتنا بھی بڑا المیہ کیوں نہ ہو خود نواز شریف کے لئے مشکلات سے لبریز یہ مراحل راہِ عزیمت کا زاد راہ ثابت ہوں گے،ٹالسٹائی کہتے ہیں،عظمت کو ہمیشہ ٹریجڈی میں تلاش کرو۔مصائب جتنے بڑھیں گے نوازشریف کی عزت میں اتنا اضافہ ہو گا اور شریف خاندان کے ساتھ عوامی ہمدردی کی لہر شدید تر ہوتی جائے گی۔یہ سچ ہے کہ نواز شریف اگر چاہتے تو رخصت کی راہ اختیار کر سکتے تھے، نہایت پر کشش مراعات کے ساتھ انہیں مشکلات کے اس بھنور سے نکلنے کے لئے محفوظ راستوں کی پیشکش کی بھی گئی، لیکن انہوں نے شعوری طور پہ جس راہ پہ چلنے کا فیصلہ کیا،اسے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوئے۔


تین بار طاقت کے ذریعے برطرف کئے جانے والے نوازشریف اس حقیقت سے آشنا تھے کہ پاور پالیٹکس کی جنگ میں خونی رشتوں کی نزاکتوں کا استحصال کر کے مدمقابل کو جھکانے کی کوششیں کی جائیں گی،وہ جانتے تھے کہ میری تسخیر کے متمنی نہایت بے رحمی کے ساتھ ان کی فطری کمزوریوں کو ایکسپلائیٹ کر کے مجھے جھکنے پہ مجبور کر سکتے ہیں، لیکن وہ زندگی کے ان آخری آیام میں ایک عظیم مقصد کی خاطر یہ سب کچھ سہنے کو تیار ہو چکے تھے،بیٹی جیسی متاع عزیزکو جیل میں ڈالنے کے علاوہ دونوں بیٹوں پہ مقدمات اوررفیق حیات کی جان لیوا بیماری کے دوران قید کی سزا سنا کے نفسیانی طور پہ انہیں توڑنے کی کوشش کی گئی،وہ ان سب حربوں کو برداشت کرگئے، لیکن اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوئے،کیونکہ اسی میں عزت تھی،انکی قوت برداشت کا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا،توڑنے والے ان پر دباو مزید بھی بڑھا سکتے ہیں۔

نوازشریف منہ میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہوئے اور آغاز شباب ہی میں قسمت نے انہیں لیلائے اقتدار سے ہم آغوش کر دیا، وہ دو بار سب سے بڑے صوبہ کے وزیراعلی اور تین بار ملک کے وزیراعظم رہے،انہوں نے اقتدار کی بے ثباتی اور عروج و زوال کی حرکیات کو نہایت قریب سے دیکھا، نواز شریف کے لئے تخت و تاج کا مسلہ نہیں رہا،اب انہیں عزت کی موت چاہیے،جو صرف مزاحمت کی راہ میں مل سکتی ہے،مخالفین انہیں دباو میں لا کر این آر او لینے پہ مجبور کر کے وہ عزت چھیننا چاہتے ہیں جو انہیں آئین کی بالادستی اور سماج کے بنیادی حقوق کے حصول کی خاطر مزاحمتی کردار ادا کرنے سے حاصل ہوئی ۔


تاریخ بتاتی ہے کہ عام لوگ ریاستی استبداد کے خلاف مزاحمت کرنے والے کرداروں کا ساتھ نہیں دیتے، لیکن ان کی دل سے قدرکرتے ہیں،آنے والی نسلیں ان کی جدوجہد کے ثمرات سے فائدہ بھی اٹھاتی ہیں،اس لئے تاریخ کی کتابوں میں ان کا ذکر سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے۔ہزاروں مسلمان ایسے تھے جنہوں نے برحق سمجھنے کے باوجود حسینؓ ابن علیؓ کا ساتھ نہ دیا لیکن کروڑوں انسان آج بھی انکے کردار کو برحق مان کے شہداء کربلا کو یادکرتے ہیں۔آج ہمارے پُرجوش میڈیا نے چار روز تک جس طرح بیگم کلثوم نوازکا سوگ منایا یہ انہی متضاد کیفیات کا شاہکار تھا،الیکٹرانک میڈیا کے اینکرز نے انتہائی جذباتی کلمات اور پُرسوز دھنوں کی تال پہ بیگم کلثوم کی تجہیزہ تکفین اور دوسرے پروگراموں کی کوریج کی اور ملک کے مایہ ناز کالم نویسوں نے دل چیر دینے والے مرثئے لکھے، لیکن میڈیا اور ہزاروں غم زدہ پاکستانیوں کی طرح وہ درجنوں سیاستدان جو بیگم کلثوم صاحبہ کے مزاحمتی کردار کو خراج تحسین پیش کرنے ان کی نمازجنازہ میں شریک ہوئے، مشکل کی گھڑی میں شریف خاندان کا ساتھ نہیں دے سکے،چنانچہ یہ جنگ شریف خاندان کو تنہا لڑنا ہو گی۔

بیشک انسان فطرتاً غم پرست واقع ہوا ہے،اناطول فرانسس نے کہا تھا ’’انسان اس کائنات کی سب سے زیادہ غمگین مخلوق ہے‘‘۔ سیاست کی جدلیات سے ہٹ کر اگر زندگی کو انسانی رشتوں کے تناظر میں بھی دیکھا جائے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گاکہ نفس انسانی میں بے پناہ تنوع پایا جاتا ہے،انسان کا وجود لامحدود، مگر متضادجذبات کا مرکز ہے، اور انہی لذت انگیز احساسات میں وہ جینے کا سامان تلاش کرتا ہے،کبھی آپ چھپ چھپ کے محبت کرنے اور زندگی کی آگ میں جلنے والے جوڑوں سے تڑپنے کا لطف پوچھیں تو یہ دیکھ کے حیران رہ جائیں گے کہ رنج و الم سے لبریز زندگی انہیں کتنی پُرکیف لگتی ہے، لیکن جیلوں میں سڑتے اور عقوبت خانوں میں اذیتیں برداشت کرتے قیدیوں کی بیکسی،آپریشن تھیٹرز اور جراحی کے مراکز میں کراہتے مریضوں کی آہ و فغاں اور غربت و افلاس کی بھٹی میں جلتے غریبوں سے زندگی کے معنی پوچھیں تو دل تڑپ اٹھتا ہے،دکھ،غم اور موت کیسے چھپ چھپ کے زندگی کا شکار کرتے ہیں،جو لوگ ہمیں خوش نظر آتے ہیں وہ بھی اندر سے مغموم ہوں گے،تیز قدموں کے ساتھ راہ مسرت پہ چلنے والے انسان بھی اپنی لذتوں کو اداسی کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ یہ عارضی و فانی ہیں،یہ جو پانے کی جستجو اور کھو جانے کا خوف ہمیں مضطرب رکھتا ہے، یہی احساس زندگی کی بہت ہی دردناک، مگر دلکش تفہیم کرتاہے۔


اگر غور سے دیکھیں تو ہماری عقل بھی جذبات کی غلام نظر آتی ہے،شوپن ہار نے درست کہا تھا کہ’’ہمارے خیالات ہماری دلچسپیوں کے غلام ہیں،حتیٰ کہ جب یہ بغاوت کر رہے ہوتے ہیں تب بھی عام طور پہ گڑبڑ ہماری دلچسپیوں میں ہوتی ہے‘‘۔ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ نواز شریف جیسے رومانوی انسان کے لئے اپنی وفا شعارشریک حیات کو کھونا کتنا کرب انگیز مرحلہ ہوگا،اس میں کوئی شک نہیں کہ جس خاتون کے ساتھ اس نے زندگی کے خوبصورت ایام گزارے اور 47 سالوں پہ محیط طویل تعلق کے دوران ایک خوبصورت خاندان کو جنم دیا،اسی سے مستقل جدائی کا دکھ نہایت ناگوار ہو گا،لیکن صبا اکبر آبادی کہتے ہیں۔


زندگی کا نشاں نہیں ملتا
غم دوران جہاں نہیں ملتا
ہم سہارا غموں کا لیتے ہیں
جب کوئی مہرباں نہیں ملتا

مزید :

رائے -کالم -