خورشید شاہ کے بعد اب کون؟

خورشید شاہ کے بعد اب کون؟
خورشید شاہ کے بعد اب کون؟

  


ابھی تو ایک ہی روز گزرا، زیادہ دیر بھی نہیں ہوئی کہ نیا واقع ہو گیا اگرچہ یہ کوئی غیر متوقع نہیں لیکن اس کی بھی ٹائمنگ کو دیکھنا ہوگا۔ عرض کیا تھا کہ ہماری معلومات کے مطابق کھچڑی سی پکی ہوئی ہے، کسی نہ کسی جگہ کوئی بات ضرور چل رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ منصوبہ سازوں میں سے ایک حلقے کا خیال ہے کہ اب نہیں تو کبھی نہیں، جبکہ انہی میں سے بعض حالات کو معمول پر لانا چاہتے ہیں اور نصیحت آموز کارروائی کے ساتھ کوئی معاملہ طے کرنے کے حق میں ہیں،

انہی سطور میں یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم بہر حال کسی اور ہی موڈ میں ہیں، جبکہ حلیف جماعتیں بھی حالات کو معمول پر لانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں، تبھی تو ملک کے اندر سیاسی مفاہمت پیدا نہیں ہو رہی، گزشتہ روز سابق قائد حزب اختلاف اور وفاقی وزیر سید خورشید شاہ کی اچانک گرفتاری نے ماحول میں تلخی اور محاذ آرائی کو بڑھا دیا۔ پیپلزپارٹی اور اپوزیشن کے راہنماؤں نے مذمت کی تو خود وزیر اعظم نے پوری اپوزیشن پر بلیک میلنگ کا الزام لگا دیا اور پھر زور دے کر کہا:”ان کھول کر سن لو! کسی کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔“

یہ صورت حال تو سب کے سامنے ہے۔ تاہم بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ تو متبادل کھلاڑی ہیں، اگر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نیب کے بلانے پر چلے جاتے تو پھر سید خورشید شاہ کی ضرورت نہیں تھی۔ کچھ اور مزید انتظار کیا جا سکتا تھا، لیکن مراد علی شاہ گئے ہی نہیں، یوں بھی وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ ہیں، اگر کراچی میں ان کو حراست میں لیا جائے تو حالات کو سنبھالنے کی ذمہ داری لینا ہو گی۔ تاہم اب ان کو راولپنڈی طلب کیا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ والی جے۔ آئی۔ ٹی وہاں ہے کیونکہ عدالت عظمیٰ ہی تفتیش سندھ سے باہر منتقل کر چکی ہے اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار تو ملزموں کو بھی سندھ کی جیلوں سے اڈیالہ جیل میں منتقل کرا گئے تھے، اس پر پیپلزپارٹی سندھ احتجاج کرتی ہے۔ بلاول بھٹو نے بھی اعتراض کیا ہے تاہم معروضی حالات تو یہی ہیں کہ یہ تفتیش اور ملزم عدالت عظمیٰ کے حکم سے تبدیل ہوئے تھے اور اب سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو بھی 24 ستمبر کے لئے وہیں طلب کیا گیا ہے۔

ایسا ہوا تو پھر مسلم لیگ (ن) کے بعد پیپلزپارٹی کا نمبر ہوگا، کہ جو حضرات مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ان میں مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں کے بعد اب پیپلزپارٹی کے راہنما باری باری بھگتنا شروع ہوئے ہیں۔ کسی نے کہا اب تو یہ اعصاب آزمانے والی بات بھی ہے کہ عدالتی اجازت اور ہدایت کے بعد بھی آصف علی زرداری کو ایئرکنڈیشنر اور فریج کی سہولت نہیں دی گئی، گزشتہ روز احتساب عدالت میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور پیش ہوئے تو ان کی آمد سے قبل ہی سردارلطیف کھوسہ نے شکائت کی کہ عدالتی حکم کے باوجود ایئرکنڈیشنر اور فریج کی اجازت نہیں دی گئی اور فریج کی جگہ برف کے ٹکڑے دے دیئے گئے۔ پیپلزپارٹی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سب اعصاب توڑنے کی کوششوں کی نشانیاں ہیں لیکن ایسا ہو نہیں سکے گا کہ سب مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ آصف زرداری تو پہلے بھی گیارہ سال بھگتا چکے ہوئے ہیں، اگرچہ اب وہ بیمار اور کمزور ہیں لیکن ان کے قوی اور ذہنی حالت مضبوط ہے اور وہ حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ بظاہر تو یہی صورت حال نظر آ رہی ہے، تاہم اب بھی یہی اصرار کیا جا رہاہے کہ کہیں تو بات ہو رہی ہے۔

چیئرمین سینٹ کی طرف سے پارلیمانی کانفرنس بلائی گئی۔ اس میں بھی کشمیر اور کشمیریوں کی حمایت کی لیکن آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے تو آبدیدہ اور آنسو بہا کر فریاد کر دی، وہ کہہ رہے تھے کشمیریوں پر جو بیت رہی ہے اس کا وہ احساس نہیں ہو رہا جو کیا جانا چاہیے، اگر کشمیری ہی ختم ہو گئے تو کشمیر کس کا؟یہ تو وہ حالات ہیں جو سامنے اور نظر آ رہے ہیں ان کے مطابق ہر کوئی سوچ سکتا ہے تاہم حقائق سے روگردانی مشکل ہے، اگر ملک کے اندر یہی کیفیت رہی تو معاشی حالت بہتر ہو گی نہ چین اور سکون ملے گا، رہ گئے کشمیر اور کشمیری تو راجہ فاروق حیدر کو حق بجانب جانا اور ان کی جماعت کی طرف سے احتجاج کیا جا رہا ہے کہ ان کی پوری تقریر ٹیلی کاسٹ نہیں ہوئی اور درمیان ہی میں سے کاٹ دی گئی، یوں شکایات تو کئی اطراف کی ہیں، لیکن وزیر اعظم عمران خان کو کوئی فکر نہیں کہ سیاں کوتوال ہیں، وہ اپوزیشن کے حوالے سے ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور ان کے پاس ”عقابوں“ کی تعداد بھی بہت ہے۔

تاہم اس جماعت میں سے بھی کچھ شکوؤں کی باتیں پتہ چلتی ہیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ ان الیکٹ ایبلز کی ہیں جو ”محروم“ ہیں آنے والے دن کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ جلد ہی پرتیں کھلنا شروع ہوں گی۔

اب ذرا اپنے مولانا فضل الرحمن کی بات کر لیں۔ گزشتہ روز ان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا، اس میں آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان ہونا تھا لیکن نہ ہو سکا اور انہوں نے فرمایا کہ خیال تھا کہ آزادی مارچ یکم اکتوبر سے 15 اکتوبر کے درمیان کی کسی تاریخ سے شروع کیا جائے گا لیکن مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی وجہ سے اب یہ مارچ 15 اکتوبر سے 30 اکتوبر کے درمیان کسی دن سے شروع ہوگا۔ ہم نے بھی گزشتہ روز کے کالم میں یہی گزارش کی تھی کہ مولانا فضل الرحمن بوجوہ حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کر سکیں گے کہ مسلم لیگ (ن) کے فیصلہ کا انتظار کرنے کے علاوہ وہ بلاول بھٹو سے مل کر ایک اور کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو بلاول بھٹو نے گزشتہ روز بھی سابقہ موقف برقرار رکھا ہے،

کہ آزادی مارچ کی اصولی حمایت حاضر، شرکت نہیں ہو گی۔ البتہ سید خورشید شاہ کی گرفتاری اور متوقع دیگر حراستوں کے حوالے سے وہ حکومت سے ٹکراؤ کے موڈ میں ہیں اور انہوں نے بھی تحریک ہی کا اعلان کیا۔ لیکن یہ سب دسمبر کے بعد ہوگا، اس وقت تک بہت سے پلوں کے نیچے سے پانی گزر چکا ہوگا، بہر حال اب بھی ”کپ اور لب“ کے فاصلے والی بات موجود ہے۔ آزادی مارچ موخر ہوا۔ نیب کی کارروائی موخر نہیں ہو رہی وقت پڑا ہے۔ بلاول کو ”بڑوں“ کی نصیحت کے نتیجے کا بھی انتظار ہے، شاید مثبت نکلے۔ ورنہ وہ بھی……

مزید : رائے /کالم


loading...