بے حس نظام میں غریبوں کیلئے صرف موت سستی ہے

بے حس نظام میں غریبوں کیلئے صرف موت سستی ہے
بے حس نظام میں غریبوں کیلئے صرف موت سستی ہے

  


جس نے بھی شکار پورکے اس بچے کو ماں کی گود میں تڑپتے دیکھا ہے، جسے پاگل کتے نے کاٹ لیا تھا اور ہسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین موجود نہ ہونے کی وجہ سے وہ مجبور ہو کر اسے کمشنر آفس لے آئی تھی کہ شاید کمشنر بہادر اُس کی کوئی مدد کر کے بازار سے وہ ویکسین منگوا کر اُس بچے کی جان بچا لیں، مگر یہ بھولی ماں جو اپنے بیٹے کی حالت پر زار و قطار رو رہی تھی، یہ نہیں جانتی تھی کہ کمشنر کے پاس شاید اپنی کوٹھی میں رکھے ہوئے کتوں کے لئے تو وقت ہو، کتے کے کاٹنے سے تڑپتے بچے کی تو وہ صورت تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ یہ ہے وہ سندھ، جس کی حالت بدلنے کا اگر کوئی کہے تو بلاول بھٹو ہوں یا مراد علی شاہ اُس پر چڑھ دوڑتے ہیں اور دھمکی دیتے ہیں کہ وفاق ٹوٹ جائے گا اور سندھو دیش معرض وجود میں آ جائے گا۔حیرت ہے کہ انہیں کوئی خوفِ خدا نہیں،ڈھٹائی بھی شرمناکی کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔

سانپ اور کتے کے کاٹنے کی ویکسین تو ہسپتالوں میں ہونی ہی چاہئے۔یہ تو معمول کے حادثات ہیں،اس کے لئے سنا ہے سندھ کے طبی شعبے کے لئے اچھا خاصا بجٹ بھی رکھا جاتا ہے، مگرافسوس اس بچے کی تڑپتی حالت نے پوری قوم کو تو دُکھی کر دیا،ہر طرف ہا ہا کار مچ گئی، لیکن بلاول بھٹو نے تعزیت کے دو لفظ نہیں کہے،نہ ہی یہ اعلان کیا کہ آئندہ سندھ کے تمام ہسپتالوں میں ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ مجھے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف اب رہ رہ کر یاد آنے لگے ہیں۔ایسے واقعات پر وہ تڑپ اُٹھتے تھے،فوراً متاثرین کے گھر پہنچتے، تسلی دیتے، مالی امداد کرتے اور یقین دلاتے کہ آئندہ کوئی بچہ اس وجہ سے جاں بحق نہیں ہوگا۔اب انہیں سب شعبدہ باز کہتے ہیں،لیکن اُن کی شعبدہ بازی تو ایک بڑا امرت دھارا تھی، پنجاب میں تو اُن کی یاد آتی ہی ہے،تاہم سندھ میں تو پچھلے گیارہ برسوں سے پیپلز پارٹی کی بے حسی نے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں، بڑے سے بڑا سانحہ ہو جائے، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔سنا ہے کراچی سمیت پورے سندھ میں آوارہ کتوں کی بہتات ہے،اس کا مطلب ہے نجانے کتنے واقعات میں کتے انسانوں کو کاٹتے ہوں گے، کیا اُن سب کا حال بھی یہی ہوتا رہے گا،جو اس بارہ سالہ بچے کا ہوا۔

آج اکیسویں صدی میں ہم ترقیء معکوس کا شکار ہوتے جا رہے ہیں،ماضی میں ہر سرکاری ہسپتال کے اندر کتے اور سانپ کے کاٹنے کی ویکسین وافر مقدار میں موجود ہوتی تھی۔ لوگ ایسے کسی واقعہ کی صورت میں آسانی سے ہسپتال جا کر اپنا علاج کرا لیتے تھے۔ اصولاً تو اس سہولت کو مزید بڑھنا چاہئے تھا۔اس شعبے میں جو ترقی ہوئی،اس کے ثمرات عوام تک پہنچنے چاہیے تھے۔ویکسین پاکستان کے قریبی ممالک سے آسانی کے ساتھ منگوائی جا سکتی ہے۔ سنا ہے سندھ کا طبی شعبے کے لئے بجٹ ایک کھرب روپے رکھا گیا ہے،یہ سو ارب کہاں گئے؟ سندھ کے ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو شاید دھکے ہی ملتے ہوں گے، ادویات کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ پہلے ہی ہم تھرپارکر کے غریبوں کو روتے تھے کہ انہیں پانی اور علاج معالجے کی سہولتیں تک میسر نہیں،اس واقعہ نے تو یہ راز بھی فاش کر دیا ہے کہ صرف تھرپارکر ہی نہیں، پورے سندھ کی حالت ایک جیسی ہے۔ ہسپتال اجڑے ہوئے عقوبت خانوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

دُنیا کے کسی پسماندہ ملک میں بھی شاید ایسا منظر دیکھنے کونہ ملے جو شکارپور میں نظر آیا اور ظالم کیمرے کی وجہ سے گھر گھر دیکھا گیا۔ ابھی اس بچے کی تڑپتی لاش کو دیکھنے کی اذیت کم نہیں ہوئی تھی کہ چونیاں سے اندوہناک خبر آ گئی کہ تین بچوں کی سربریدہ لاشیں ملی ہیں،جو ڈیڑھ دو ماہ پہلے سے غائب تھے اور والدین انہیں تلاش کرنے کے لئے عذاب سے گزر رہے تھے،ان میں سے دو نعشوں کے تو بکھرے ہوئے اعضا ملے، البتہ ایک بچے کی لاش سلامت ملی،جس کا پوسٹ مارٹم کرنے پر یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ اُسے زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔اتفاق سے تینوں بچے تھے،اُن میں بچی کوئی نہیں تھی۔اس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ زینب کیس کے بعد والدین نے بچیوں پر تو زیادہ نظر رکھنی شروع کر دی، مگر بچوں کی طرف سے چُوک گئے،جس کی وجہ سے درندگی کا کھیل کھیلنے والوں کو انہیں اٹھانے اور درندگی کا نشانہ بنانے کا موقع مل گیا۔یہ واقعہ ضلع قصور میں پیش آیا۔حد ہے کہ اس علاقے میں ہر سُودرندے دندناتے پھر رہے ہیں، مگر پولیس کو نظر نہیں آتے۔

بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کو ان کی گمشدگی کے بارے میں رپورٹس لکھوائیں،جو رپورٹیں لکھنے کے بعد حسب ِ معمول لسی پی کر سو گئی۔ جب اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے گم ہونے کی رپورٹیں سامنے آئیں تو پولیس کو ایک ہنگامی صورتِ حال ڈکلیئر کر کے اس کا کھوج لگانے کی کوشش کرنی چاہئے تھی،مگر وہ پولیس ہی کیا جو وقوعہ سے پہلے پیش بندی کر سکے۔ ایسے مواقع پر اچھا پولیس افسر عوام کوحوصلہ دیتا ہے،مجرموں کو جلد گرفتار کر کے کیفرکردار تک پہنچانے کی نوید سناتا ہے،مگر ڈی پی او قصور تو ایک شکست خوردہ شخص نظر آتے ہیں،انہوں نے عوام کو حوصلہ دینے کی بجائے یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں کہ وہ ہر محلے کے سامنے پولیس والے کو کھڑا نہیں کر سکتے۔ہر محلے کے سامنے وہ پولیس والا بے شک کھڑا نہ کریں، مگر اُس بے حسی اور غفلت کو تو ختم کریں،جو پولیس نے بچوں کی گمشدگی کے بارے میں رپورٹیں ملنے کے باوجود دکھائی۔ یہ تو لوگوں نے جسمانی اعضاء دیکھ لئے جس سے گمشدگی کا معمہ حل ہو گیا، وگرنہ پولیس تو چاہے چھ ماہ گذر جاتے، ہاتھ پہ ہاتھ دھرے غیبی امداد کی منتظر رہتی۔اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ قصور و گردو نواح کا علاقہ بچوں سے زیادتی اور قتل کرنے کے حوالے سے مرکز بنا ہوا ہے۔

جب زینب کیس سامنے آیا تھا تو اُس وقت بھی اعداد و شمار کے ذریعے قصور میں سب سے زیادہ بچوں کی پورنو گرافی اور اُن سے زیادتی کے واقعات کی نشاندہی کی گئی تھی۔افسوسناک امر یہ ہے کہ زینب کیس کے بعد اس علاقے میں اس خاص حوالے سے آپریشن کلین اَپ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی،اسے پھر کھلا چھوڑ دیا گیا۔اس کا مطلب ہے کہ وہ عناصر اور گروہ تو ابھی تک اسی علاقے میں سرگرم ہیں اور انہیں جب بھی موقع ملتا ہے، اپنی درندگی کا مظاہرہ کر گذرتے ہیں۔ کیا معلوم ان معصوم بچوں کی ویڈیوز بھی بنائی گئی ہوں۔ایک زمانے میں پولیس کا ایک زبردست انٹیلی جنس نظام ہوتا تھا۔ڈی پی او صاحب تو کہتے ہیں کہ مَیں ہر محلے میں ایک کانسٹیبل نہیں لگا سکتا،حالانکہ کانسٹیبل لگانے سے تو بات بن بھی نہیں سکتی۔ پولیس کی عوام سے اس قدر دوری ہو گئی ہے کہ اب انہیں کچھ پتہ بھی ہو تو خوف فساد سے بتاتے نہیں،وگرنہ مجھے یاد ہے کہ ایس ایچ او نے اپنے علاقے میں عوام کے اشتراک سے مخبری کا ایسا جال پھیلا رکھا ہوتا تھا کہ چڑیا بھی پَر مارتی تو اُس کے علم میں آ جاتا۔قصور ضلع میں جو درندے یہ کام کر رہے ہیں،وہ آخر ہیں تو زمین پر،پھر وہ پولیس والوں کی نگاہ سے اوجھل کیسے ہیں۔

جب پولیس کو بچوں کی گمشدگی بارے اطلاع ملی تھی تو وہ متحرک کیوں نہ ہوئی،کیوں والدین کو یہی کہتی رہی کہ بچے ہیں، خود ہی واپس آ جائیں گے، وہ خود ہی اپنے عزیز و اکارب میں انہیں تلاش کریں …… اسے پولیس کی مجرمانہ غفلت نہیں تو اور کیا کہا جائے،ایک طرف منظم مافیاز اور دوسری طرف غافل و غیر متحرک پولیس،بچے درندوں کا تر نوالہ نہ بنیں تو اور کیا ہو۔ سندھ اور پنجاب میں ہونے والے یہ دونوں واقعات معاشرے پر تازیانہ بن کر برسے ہیں۔ ایسے واقعات عوام میں اس خیال کو راسخ کرتے ہیں کہ انہیں ریاست کی طرف سے کوئی تحفظ حاصل نہیں،وہ ایک ایسے بے حس نظام میں زندہ ہیں،جو صرف بالادست طبقوں کے لئے بنا ہے،جس میں کمزوروں،غریبوں اور بے آسرا افراد کے لئے صرف ایک چیز سستی ہے اور وہ ہے موت…… لیکن شاید اب تو وہ بھی سستی نہیں رہی۔

مزید : رائے /کالم


loading...