حج2019ء ایک نظر میں     (2)

 حج2019ء ایک نظر میں     (2)
  حج2019ء ایک نظر میں     (2)

  


 حج 2019ء کا اپریشن احسن انداز میں پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔حجاج کرام سمیت سیزنل سٹاف بھی واپس آ چکا ہے،  سرکاری حجاج کے حوالے سے وزارتِ مذہبی امور کے بیشتر اہلکار دبے دبے الفاظ میں تسلیم کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ حج 2019ء میں پرائیویٹ حج سکیم کا پلڑا بھاری رہا ہے، جب ان سے سوال کیا جاتا ہے، سرکاری سکیم کو پرائیویٹ کیوں نہیں جا رہا؟سارے کوٹہ کو   سرکاری کرنے کے لئے بعض افراد بضد ہیں۔ان کا کہنا ہے بھائی کاروبار ہے اس پنڈورا بکس کو نہ کھولیں،حج اگر پرائیویٹ ہو گیا تو وزارتِ مذہبی امور کا کیا جواز رہ جائے گا، ملک بھر میں پھیلے ہوئے حاجی کیمپوں اور مکہ مدینہ جدہ میں ہزاروں ریال ماہانہ وصول کرنے والوں کا کیا ہو گا،اِس لئے اس موضوع کو نہ چھیڑیں، وزارتی اہلکار بڑا جذباتی تھا مَیں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے سوال کیا، سرکاری حجاج کرام کی عمارتوں کے حصول میں کمیشن مافیا سے چھٹکارا کیسے ملا؟

پھر مَیں نے ساتھ ہی پوچھ لیا،ملا بھی کہ نہیں ملا، جواب میں فرمانے لگے قوم دُعائیں دے ڈی جی حج ڈاکٹر ساجد یوسفانی کو جس نے سارے نظام کو ہی شفاف بنا دیا ہے،حاجیوں کے لئے اتنی تڑپ اور جذبہ ان سے پہلے کسی ڈی جی میں نہیں دیکھا اللہ ان کی حفاظت فرمائے، ساتھ ہی غصے سے فرمانے لگے اللہ اس مافیا کو معاف نہیں کرے گا، جنہوں نے سیزنل سٹاف کو بھی ٹوکا لگانا شروع کر دیا ہے۔ سال میں ایک دفعہ ہمیں حاجیوں کی خدمت کے ساتھ 100 ریال یا اس سے تھوڑا زیادہ روزانہ مل جاتا تھا اب ہمیں 40 کی بجائے کم دِنوں کے لئے بھیجا جا رہا ہے جہاں بچت کرنا چاہئے وہاں کوئی کرنے کے لئے تیار نہیں۔

مَیں نے کہا آپ کے سیکرٹری بڑے رحم دِل ہیں ان سے بات کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے سٹاف کا خیال رکھا ہے،ماضی اور حال اس کا گواہ  ہے سرکاری ملازم بھائی سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور پھر جذباتی انداز میں کہنے لگے مَیں نے کب کہا سیکرٹری صاحب ہمارا خیال نہیں کرتے، جب سے وزارت میں آئے تھے ہم نے بھی سُنا تھا وزارتِ مذہبی امور میں آتے ہی ان کی قربت ایک دو پٹھان بھائیوں سے زیادہ ہو گئی ہے ان کو ہی سب سے زیادہ ایماندار اور دانشور سمجھا جا رہا ہے، حالانکہ ہم اپنے سیکرٹری صاحب کے لئے دُعا گو رہتے ہیں اللہ ان کو شر سے محفوظ رکھے۔

انہوں نے ساری نوکری بڑی ایمانداری سے کی ہے، آخر چند مہینے بھی خیریت سے گزر جائیں، مگر مجھے ابھی خطرہ لگ رہا ہے۔گزشتہ کئی سال سے وزارت کے گرد و نواح میں منڈلانے والا مافیا جو سرکاری حج فارم اور مجاملہ کا دھندہ کرتا رہا ہے اب وہ درجنوں نئی انرول کمپنیوں کو  کوٹہ دلانے کا یقین دلا رہا ہے اس کے لئے مارکیٹ میں کروڑوں کے لین دین کی باتیں ہو رہی ہیں،بدنامی وزارت کی ہو رہی ہے، آخرمیں ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا بھائی مجھے معاف کر دیں اور دُعا کریں اللہ ہمیں محفوظ رکھے،ہم اپنے پہلے وفاقی وزیر مذہبی امور علامہ حامد سعید کاظمی کو یاد کرتے آ رہے ہیں انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا ملی اب ہمارے مقبول وفاقی وزیر سید خورشید شاہ گرفتار ہو گئے ہیں۔

مَیں نے کہا اچھا بھائی معاف کیا اور کوئی بات سناؤ،بھائی توبہ کرتے ہوئے دوڑ لگا گئے، لکھنا کچھ چاہتا تھا لکھا کچھ جا چکا ہے، بات ہو رہی تھی حج2019ء کی، سرکاری حج سکیم میں جن مشکلات کا سامنا رہا ہے ان کا ازالہ کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے عملی تجاویز دوں گا۔مَیں نے کہا تھا وزارت مذہبی امور اپنے سارے وسائل اور افرادی قوت 35دِنوں کے حج پر لگاتا ہے اب میری درخواست پر اگر دس فیصد توجہ مناسک حج کے پانچ دِنوں پر لگانا شروع کر دے تو مسئلہ ہی نہیں رہے گا۔ گزشتہ دس سال سے منیٰ عرفات میں ہی مسائل ہیں۔

ٹرین، بس، کھانا، بیڈ، اے سی اس کے علاوہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ایک سال اے سی کا مسئلہ ہوتا ہے دوسرے سال کھانا نہیں ملتا، تیسرے سال جگہ کم پڑتی ہے، بسیں نہیں ملتی اس کو ہدف بنانے کی ضرورت ہے،جو  سرکاری حج سکیم کو مثالی بنانے میں جو سب سے بڑی رکاوٹ آ رہی ہے وہ ہے ڈھیلا ڈھالا تربیتی نظام۔اس کو موثر بنانے کی ضرورت ہے، حاجی کو ڈنگ ٹپاؤ ٹریننگ کیمپ سے نہیں گزارنا چاہئے۔ وزارتِ مذہبی امور کو اپنے حاجی کیمپوں کے ذریعے کی جانے والی تربیت کے نظام کو ازسر نو ترتیب دینا ہو گا۔

ٹریننگ کے حوالے سے سالہا سال سے مخصوص لابی قابض ہے اس میں مسلکی بنیاد سے ہٹ کر  یونیورسٹی کے پروفیسر اور سکالر کو لانے کی ضرورت ہے۔لاہور میں پہلی دفعہ ڈائریکٹر صاحب نے سکالر کو بلایا ہے خوش آئند بات ہے سکالر کو واہ واہ کے لئے نہیں بلانا چاہئے، دو دو گھنٹے کا ان کو موضوع دینے کی ضرورت ہے پاکستانی حاجی وہ سرکاری سکیم کے ہوں یا پرائیویٹ سکیم کے آج تک منیٰ عرفات عزیزیہ میں یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے، نمازِ قصر پڑنی ہے یا پوری۔ عرفات میں قبولیت کے وقت بھی ہمارے حاجیوں کی کیمپوں میں دو رکعت اور چار رکعت کی لڑائی ہو رہی ہوتی ہے ایک ٹینٹ میں دو دو تین تین جماعتیں ہونا معمول ہے۔

سرکاری حج سکیم کے لئے وفاقی وزیر مذہبی امور وفاقی سیکرٹری اور ان کی ٹیم کا کردار قابلِ ستائش رہا ہے۔مَیں نے کالم سارا خطوط کی روشنی میں ترتیب دیا ہے اس لئے بغیر لگی لپٹی کے گزارشات کروں گا تاکہ ضیوف الرحمن کی دُعائیں لی جا سکیں۔  حج2019ء کا جائزہ لے چکی ہے تمام شعبہ جات کی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت جاری کر چکی ہے، تمام شعبہ جات کو رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت جاری کر چکی ہے فائدہ اٹھاتے ہوئے عملی تجاویز پیش کروں گا۔ وزارتِ مذہبی امور اپنے وسائل پاکستان سے جانے والے دو لاکھ حجاج پر لگا رہی ہے، عمرہ پر جانے والے 16لاکھ افراد  وزارتِ مذہبی امور کی ترجیح نہیں ہیں۔

مشیر وزیراعظم نگران حج امور ارباب شہزاد وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری،وفاقی سیکرٹری میاں مشتاق احمد کو حج کے ساتھ عمرہ کو بھی نیٹ میں لانے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ وزارتِ مذہبی امور کا پرائیویٹ حج سکیم کے ساتھ رویہ حوصلہ افزا نہیں رہا،نئی حج پالیسی میں بغیر کسی تفریق کے سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیم کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔

گزشتہ سال دسمبر جنوری میں حج پالیسی کے اعلان پر عملدرآمد جون تک صرف سرکاری سکیم کا نظر آیا، جولائی میں حج آپریشن شروع ہو رہا تھا دوسری طرف حج کوٹہ کی تقسیم ہو رہی تھی۔ وزارتِ مذہبی امور جس طرح پانچ سال کے لئے عمارتیں حاصل کر کے حج سستا کرنا چاہتی ہے اسی طرح پرائیویٹ سکیم کو بھی موقع دینا چاہئے وہ بھی پانچ سال کے لئے مکہ مدینہ عزیزیہ میں ہوٹل حاصل کریں اور جو پیکیج سستا کریں، ایئر لائنز اور مکتب سرکار کو سستے ملتے ہیں پرائیویٹ سکیم کے ساتھ ان کا رویہ بلیک میلنگ والا ہوتا ہے اس کے لئے یکساں پالیسی بنانے اور  سرپرستی کی ضرورت ہے۔2005ء سے2019ء تک وزارتِ مذہبی امور پرائیویٹ سکیم کو باقاعدہ سٹیک ہولڈر تسلیم  نہیں کر سکی ان کے نمائندوں کو اچھوت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ کس کی خدمت ہے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا۔حاجیوں کی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکیم کی مانیٹرنگ کرنے والوں کی تربیت کی ضرورت ہے۔ایک حج آرگنائزر نے لکھا ہے اس سال مانیٹرنگ کرنے والے وزارت کے ملازم کم اور قبضہ مافیا کے اہلکار زیادہ لگ رہے تھے، حاجیوں کے سامنے دھڑلے سے سگریٹ پیتے نظر آئے۔ پرائیویٹ سکیم کے حج آر گنائزر کو چور کہتے نظر آئے آخر کیوں؟ حج پالیسی2020ء کی پالیسی کی تیاری سرکاری کے ساتھ پرائیویٹ سکیم کی بھی کی جائے۔

سرکاری حج سکیم پر عملدرآمد کے ساتھ پرائیویٹ سکیم پر بھی عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔اگر سرکاری سکیم کی پالیسی پانچ سال کے لئے دینے کا فیصلہ ہوا ہے تو پرائیویٹ سکیم کی منظوری بھی پانچ سال کے لئے کی جائے۔ حج 2019ء کی غلطیوں کو سامنے رکھتے ہوئے حج2020ء کی پالیسی کی تیاری کے لئے موثر منصوبہ بندی کی جائے۔ پرائیویٹ سکیم کے نمائندوں کو مشاورت کا حصہ بنایا جائے۔ ”سرکاری سکیم ہماری پرائیویٹ سکیم تمہاری“ تاثر ختم کیا جائے۔

دس طرح کے ٹیکسز کی وصولی کے بعد ایف بی آر کی طرف سے17فیصد انکم ٹیکس حج پیکیج کے حساب سے فی حاجی وصول کرنے کی افواہیں سرگرم ہیں، دفتری اخراجات پروفیشنل ٹیکس ود ہولڈنگ ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، ٹورازم فیس، ایاٹا فیس، دفتر کا کرایہ، دفتری اخراجات، ملازمین کی تنخواہیں اب 17فیصد ٹیکس سارا بوجھ حاجی پر پڑے گا۔ وزارتِ مذہبی امور کو ایئر لائنز کے کرائے مکتب کے حصول اور ٹیکس معاملات میں سرپرستی کرنا چاہئے اللہ ہماری کوششوں کوقبول  فرمائے اور غلطیوں سے درگزر فرمائے۔    (ختم شد)

مزید : رائے /کالم


loading...