اسلام آباد پولیس میں لیڈی کانسٹیبلز کو ہراساں کرنے والا پکڑا گیا، ملزم کون ہے ؟ حیران کن انکشاف

اسلام آباد پولیس میں لیڈی کانسٹیبلز کو ہراساں کرنے والا پکڑا گیا، ملزم کون ...
اسلام آباد پولیس میں لیڈی کانسٹیبلز کو ہراساں کرنے والا پکڑا گیا، ملزم کون ہے ؟ حیران کن انکشاف

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی دارالحکومت کی پولیس میں لیڈی کانسٹیبلز کو ہراساں کرنے کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور ایک اور اہلکار کے غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار نبیل لیڈی کانسٹیبلز کو غیر اخلاقی پیغامات بھیجتا تھا اور انہیں بلیک میل کرکے ان سے پیسے بٹورتا تھا۔ ملزم ساتھی لیڈی کانسٹیبلز سے دوسرے اہلکاروں کے نام پر ایزی لوڈ اور پیسے طلب کرتا تھا۔

پولیس اہلکار نبیل کو سی ٹی ڈی نے انکوائری کے بعد گرفتار کرلیا ہے، اس کے قبضے سے افغان شہری کے نام پر رجسٹرڈ سم سمیت متعدد موبائل فون سمز برآمد ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ اپریل 2018 میں بھی اسلام آباد پولیس کی لیڈی اہلکاروں کے ساتھ ہراسانی کے واقعات کا کیس سامنے آیا تھا۔ نامعلوم لیڈی اہلکاروں کی جانب سے تحریر کیے گئے خط میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر اور اس کے ریڈر سمیت دیگر افسران لیڈی کانسٹیبلز کو ہراساں کرتے ہیں ۔

خط میں خواتین اہل کاروں کا کہنا تھا کہ ہم لڑکیاں پولیس لائن ہیڈ کوارٹرز میں ڈیوٹی سرا نجام دے رہی ہیں، لاکھوں مجبوریوں کے باعث دنیا کی ستائی خواتین نے پولیس کے محکمہ میں ملازمت کی۔ اپنے گھر، بہن بھائی، ماں باپ کو چھوڑا، محکمے میں بھرتی ہونے کے بعد ہماری عزت کا خیال رکھنا سینئر افسران کی ذمہ داری ہے لیکن یہاں کام الٹا ہے، ہمیں روزانہ کئی کتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پولیس لائن کا نظام ہی خراب ہے۔ ڈی ایس پی سے لے کر ایس پی تک جب بھی کوئی پیشی ہو تو ریڈر اور آپریٹر ہمیں ایک مخصوص جگہ بتاتے ہیں کہ یہاں آجاؤ، ہم آپ کا کام بغیر پیشی کے کروا دیں گے اور ہمیں مجبوراً کرنا پڑتا ہے۔

خاتون اہل کاروں نے سنگین الزام عائد کیا کہ ہیڈ کوارٹرز میں ڈی ایس پی اور اس کے ریڈر اور آپریٹروں نے الگ کمرے تیار کر رکھے ہیں جہاں پر ہمارے اعمال ناموں کی سماعت اپنی عزت دے کر ہوتی ہے۔ یہی حال اوپر ریڈروں اور آپریٹروں کا ہے اس لئے یہ الگ کمرے تلاش کرتے ہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...