نیب بتائے تحریک انصاف کے لوگوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟خورشید شاہ پر لگائے گئے الزامات اور گرفتاری قابل مذمت ہے:سعید غنی

نیب بتائے تحریک انصاف کے لوگوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟خورشید شاہ پر ...
نیب بتائے تحریک انصاف کے لوگوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟خورشید شاہ پر لگائے گئے الزامات اور گرفتاری قابل مذمت ہے:سعید غنی

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ نیب بتائے تحریک انصاف کے لوگوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت جنرل مشرف کی حکومت کا تسلسل ہے،خورشید شاہ کوجس طرح گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف جس طرح بھونڈے الزامات لگائے گئے وہ قابل مذمت ہیں،یہ سب کچھ عمران خان اپنے بغض اور ذاتی انا کی تسکین کے لئے کررہا ہے اور یہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی ایک سازش ہے، صوبے میں ویکسین نہ ہونے کی بات درست نہیں البتہ جتنی درکار ہے اتنی تعداد میں ویکسین صوبہ سندھ نہیں بلکہ پورے ملک میں نہیں ہے۔ کتے کے کاٹنے کا ایشو سیاسی نہیں اور اسے سیاسی بھی نہیں بنانا چاہیے۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سےگفتگو  کرتے ہوئےسعید غنی نے کہا کہ خورشید شاہ کوجس طرح گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف جس طرح بھونڈے الزامات لگائے گئے ہیں وہ قابل مذمت ہیں، خورشید شاہ کے خلاف انکوائری ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس طرح کی انکوائری میں گرفتاری کا کوئی جواز نہیں بنتا، نیب اپنا کوئی ایک پیمانہ تو مرتب دے کہ کس کو کس سٹیج پر گرفتار کرنا ہے؟کیا نیب انکوائری کی سٹیج پر گرفتاری کرنا چاہتا ہے تو وہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو  انکوائری کی سٹیج پر گرفتار کیوں نہیں کرتا؟ اگر نیب کو انویسٹی گیشن کی سٹیج پر گرفتاری کرنی ہے تو   پی ٹی آئی کے لوگوں کو کیوں اس سٹیج پر گرفتار نہیں کیا جاتا؟ پی ٹی آئی کے لوگوں کی ریفرنس داخل ہونے کے باوجود بھی گرفتار نہیں کیا جاتا؟نیب کا پیمانہ فریال تالپور، آصف زرداری، شرجیل میمن، خورشید شاہ، پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لئے الگ ہے اور علیمہ خان، محمود خان، عمران خان اور دیگر کے لئے علیحدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بنی گالہ کی ملکیت بے نامی تھی،علیمہ خان کی بے نامی جایئداد سب کے سامنے ہے لیکن کسی کی کوئی گرفتاری نہیں ہوتی جبکہ خورشید شاہ پر 500 ارب کے الزامات لگا کر انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے حالانکہ خورشید شاہ نے خود کہا ہے کہ نیب ثابت کردے اور مجھے صرف ایک فیصد اس کا دے دیں باقی رکھ لیں لیکن ثابت تو کریں،خورشید شاہ کے ساتھ جن جن کو شامل کیا گیا ہے اس میں سے متعدد ایسے ہیں جن کے اپنے کاروبار ہیں،خود چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس یک طرفہ اقدامات کو اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ عمران خان اپنے بغض اور ذاتی انا کی تسکین کے لئے کررہا ہے اور یہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی ایک سازش ہے۔ سندھ میں کتے کے کاٹنے کے واقعات اور ویکسین کی عدم دستیابی کے ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ صوبے میں ویکسین نہ ہونے کی بات درست نہیں ہے،پہلے کتوں کو زہر دے کر مار دیا جاتا تھا، جس کے بعد کئی تنظمیوں کی جانب سے اس اقدام پر احتجاج کیا گیا اور ہم نے اس سلسلے کو بند کیا،کتوں کو پکڑ کر شہر سے باہر کرنے کی اصل ذمہ داری بلدیاتی اداروں کی ہے اور اگر اس سلسلے میں انہیں ہماری کسی مدد کی ضرورت ہوئی تو ضرور کریں گے اور اس حوالے سے ہم نے تمام ڈسٹرکٹ، میونسپل کمیٹیوں اور کونسل اور یونین کونسل کو ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔

سابق ڈی جی پارک کی گرفتاری اور اس کے گھر سے اربوں کی مالیت کی گاڑیاں اور دیگر کی برآمدگی کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ اس سلسلے میں میں زیادہ کچھ نہیں جانتا کہ وہ 8 سال قبل کے ایم سی میں ملازم تھے لیکن میں نیب کی جانب سے جس طرح اس کے گھر اور گاڑیوں سمیت دیگر کی ویڈیو بنا کر یہ تاثر دینا چاہا ہے کہ یہ سب کرپشن کا ہے، اس سے اس لیئے متفق نہیں ہوں کہ اس سلسلے میں نیب کا ماضی کا ریکارڈ کبھی اچھا نہیں رہا ہے،ابھی انکوائری شروع نہیں ہوئی اور اس طرح کے الزامات لگا کر کردار کشی کی بجائے نیب پہلے یہ انکوائری کرتا کہ واقعی یہ سب کرپشن کا ہے یا نہیں؟ یہ مناسب عمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک میری اطلاع ہے کہ قائمخانی کے سات بھائی ہیں اور اس میں کچھ کاروباری بھی ہیں اور کچھ زمیندار بھی ہیں اور سب ایک ساتھ رہتے ہیں، اب یہ سب کرپشن کا ظاہر کرنا قبل ازوقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن سمیت متعدد پر اربوں کی کرپشن کا الزام لگا کر ان کی کردار کشی کی لیکن آج تک کچھ ثابت نہیں کرسکا ،اس لئے ہمیں تحقیقات کے بعد ہی کچھ کہنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہم یہ بات بارہا کہہ چکے ہیں کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت جنرل مشرف کی حکومت کا تسلسل ہے کیونکہ نصف سے زائد کابینہ مشرف کی کابینہ ہی ہے، ان کے وکیل اور سرکاری افسران وہی ہیں جو مشرف کی ایماء پر کام کررہے تھے، جس کے ذریعے وہ سیاسی بدمعاشیاں کررہے تھے اور دبئی میں ان سب کی ملاقاتیں بھی اسی کا تسلسل ہے، اس وقت میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ شاید آمرانہ ادوار میں بھی نہ ہوتا ہو وہ سب کچھ آج ہورہا ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...